ٹیکنالوجی کمپنیوں ایپل اور گوگل کے ایپ اسٹورز پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے جنسی اور پرتشدد ڈیپ فیک تصاویر اور ویڈیوز بنانے والی 400 سے زائد ایپس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ وائرڈ کی تحقیقات کے مطابق یہ ایپس بظاہر عام اور بے ضرر دکھائی دیتی تھیں لیکن ان میں خفیہ فیچرز کے ذریعے کسی بھی شخص کی تصویر سے فحش اور پرتشدد جعلی مواد تیار کیا جا سکتا تھا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ان ایپس کے ذریعے تیار کردہ مواد کو لوگوں کو بدنام کرنے، ہراساں کرنے اور دھمکانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ان ایپس کی تشہیر فیس بک اور انسٹاگرام پر ہزاروں ویڈیو اشتہارات کے ذریعے کی جا رہی تھی۔
ایپس میں خفیہ فیچرز چھپا کر ایپل، گوگل اور میٹا کے جائزہ نظام کو چکمہ دیا گیا جس کے باعث یہ طویل عرصے تک پلیٹ فارمز پر موجود رہیں۔
وائرڈ کی جانب سے نشاندہی کے بعد ایپل نے ایسی 19 ایپس کو اپنے ایپ اسٹور سے ہٹا دیا ہے۔
دوسری جانب میٹا کا کہنا ہے کہ اس نے ان ایپس سے منسلک ویب ڈومینز کے ساتھ تعلق رکھنے والے 10 ہزار سے زائد اشتہاری اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی ہے۔
یہ انکشاف ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال اور آن لائن صارفین کی پرائیویسی و تحفظ سے متعلق سنگین خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔