امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے ایک روز قبل سینیٹ کی 11 نشستیں دونوں بڑی جماعتوں حکمراں ریپبلکن اور اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے لیے فیصلہ کن بن گئی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے تجزیے کے مطابق ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ری پبلکنز کی چار نشستیں جیتنے کے ساتھ اپنی تمام موجودہ نشستیں برقرار رکھنا ہوں گی۔
انتخابی ماحول کئی ماہ سے ڈیموکریٹس کے حق میں دکھائی دے رہا ہے جبکہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، مہنگائی، ایران جنگ اور حکومتی معاملات پر عوامی بے چینی انتخابی مہم پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر کو کامیابی کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے جبکہ اوہائیو میں سابق سینیٹر شیروڈ براؤن اور ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو کے مقابلے بھی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ مین، الاسکا، کنساس اور آئیووا میں بھی سخت مقابلے کی توقع ہے۔
مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کو برتری حاصل ہے تاہم ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت میں آخری وقت پر اہم سیاسی پیش رفت ہوئی ہے۔ نیو ہیمپشائر میں کرس پاپاس نسبتاً مضبوط پوزیشن میں ہیں جبکہ جنوبی کیرولائنا میں ری پبلکن امیدوار ڈارلین گراہم اور ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز کے درمیان غیر متوقع طور پر سخت مقابلہ ہے۔
جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف کی کامیابی کے امکانات زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق ان 11 نشستوں کی درجہ بندی انتخابی جائزوں، امیدواروں کی مالی معاونت، عوامی سروے اور سیاسی حالات کی بنیاد پر کی گئی ہے، تاہم یہ حتمی نتائج کی پیش گوئی نہیں۔