ایران پر حملہ کرنے والے دو ممالک امریکا اور اسرائیل کے صدر اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے پریشان کن صورت حال سے دوچار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو یقین تھا کہ ان کا ایران پر حملے کا فیصلہ درست ہے اور ان کو اپنے ہم وطنوں کی حمایت حاصل ہے اور وہ ایران پر فتح حاصل کرکے اپنے سیاسی مستقبل کو تابناک اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے آیندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر لیں گے، لیکن 28 فروری 2026 کو ایران پر حملے میں ان کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کا پامردی سے منہ توڑ جواب دیا۔
اس دوران پاکستان کی شبانہ روز سفارتی کوششوں سے 14 اپریل 2026 کو عارضی جنگ بندی ہو گئی اور بات مذاکرات کی میز پر آ گئی ۔ بعینہ امریکا اور اسرائیل اور پوری دنیا میں جنگ کے خلاف عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے۔ مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے واضح طور پر خبردار کرنا شروع کر دیا کہ ایران کے خلاف جارحیت صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اس بیچ مختلف سطحوں پر ہونے والے عوامی سروے کے نتائج تسلسل کے ساتھ اس بات کا اشارہ دے رہے تھے کہ عوامی سطح پر صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی مقبولیت کا گراف بتدریج نیچے آ رہا ہے اور وہ ایران کے خلاف اپنے جنگی اقدام کے فیصلے کے باعث اپنے عوام کی حمایت کھو رہے ہیں۔
اسرائیل میں ہونے والے 27اکتوبر 2026 کے عام انتخابات کے نتائج نے عوامی سرویز اور تجزیہ کاروں کی رائے پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ نیتن یاہو اپنی خواہش کے مطابق من چاہی کامیابی حاصل کرنے اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے ماضی جیسے تسلسل کو قائم رکھنے میں ناکام ہو گئے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی پارلیمنٹ کے عام انتخابات میں موصول شدہ نتائج کے مطابق موجودہ وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 جب کہ اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملیں اور حزب اتحاد نے 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کے 120 رکنی ایوان میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں جو نہ تو وزیر اعظم نیتن یاہو کے اتحاد کے پاس ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے، یوں دونوں اتحادوں کو اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لیے عرب اتحاد کی 19 نشستوں کی حمایت درکار ہے۔ واضح رہے کہ عرب اتحاد نے پہلی مرتبہ 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس سے قبل 2020 کے انتخابات میں عرب نے ’’جوائنٹ لسٹ‘‘ کی حیثیت سے 15 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
عرب اتحاد 2026 کے انتخابات میں ’’بادشاہ گر‘‘ کا کردار اختیار کر گیاہے اور نیتن یاہو اور اپوزیشن اتحاد عرب اتحاد کی حمایت کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتا۔ یہاں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ اسرائیلی انتخابات میں عرب اتحاد کی کامیابی کا پس منظر کیا ہے؟ مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق حالیہ انتخابات میں عرب اسرائیلی جو اکثر خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں اور اسرائیل کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہیں، غیر معمولی تعداد میں ووٹ ڈالتے نظر آئے۔ عرب ووٹ بینک میں اضافے کے باعث ہی عرب اتحاد کی نشستوں میں اضافہ ہوا جس نے انھیں ممکنہ حکومت سازی کے عمل میں پہلے سے زیادہ بااثر بنا دیا ہے نیتن یاہو اقتدار سے ممکنہ محرومی کے خوف سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔
انھوں نے بغیر کسی ثبوت کے یہ الزام لگایا ہے کہ عرب اتحاد کی جماعتوں نے قطر اور ترکیہ سے مالی معاونت حاصل کی اور الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ قطر، ترکیہ اور نہتے و بے گناہ فلسطینیوں پر بربریت، سفاکی اور مظالم کے جو پہاڑ توڑے گئے ہیں ان مظلوموں کی آہوں، سسکیوں نے نیتن یاہو کو یہ دن دکھایا ہے۔ اب اگلی باری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے۔ امریکا میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت کاگراف بھی تیزی سے نیچے آ رہا ہے۔ 3 نومبر 26 کے مڈٹرم انتخابات میں ممکنہ شکست ان کے سر پر منڈلا رہی ہے۔ کیا عجب کہ نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں اقتدار سے محروم ہو جائیں۔