حال ہی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ایک 13 سالہ بچی کو بڑے سانحے سے بچا لیا اور اس کے والدین کو مطلع کیا کہ ان کی بچی ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے ذریعے دی جانے والی ہدایات پر عمل کر رہی تھی۔ توقع تھی کہ اگلے مرحلے میں وہ اپنی جان کو نقصان پہنچا دے۔بچی سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ایسے آن لائن گروپ تک پہنچی تھی جس کے ارکان مبینہ طور پر اسے خطرناک سرگرمیوں پر مجبور کر رہے تھے اور بچی ان کی ہدایات پر ایک بلی کو زہر دے کر مار چکی تھی اور قریب تھا کہ خود اپنی زندگی کو نقصان پہنچا لیتی، مگر سائبر کرائم ایجنسی کو علم ہو گیا اور اس نے بچی کے والدین کو آگاہ کر دیا۔
یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ اس نے پاکستان میں بھی بچوں کے انٹرنیٹ استعمال، آن لائن دوستیوں، خفیہ گروپس اور والدین کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کے استحصال اور ڈیجیٹل مواد کے غلط استعمال کے واقعات کراچی کے حالیہ معاملے سے بہت پہلے سامنے آ چکے ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ ہمارا معاشرہ ترقی کے نام پر ایک نئے مسئلے سے دوچار ہو چکا ہے۔ ماضی قریب میں پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق رپورٹوں کے مطابق 2022 کے دوران لاہور میں ایک مبینہ گروہ پر بچوں کو لالچ دے کر ان کا جنسی استحصال کرنے، ویڈیوز بنانے، بلیک میل کرنے اور غیر قانونی مواد ڈارک ویب پر فروخت کرنے کے الزامات سامنے آئے۔
یونیسیف، ایکسپٹ انٹرنیشنل اور انٹرپول کی 2026 میں جاری ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں میں سے تقریباً ہر 16 میں سے ایک بچے نے ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک صورت کا سامنا کیا۔ رپورٹ میں ایسے بچوں کی تعداد تقریباً 15 لاکھ بتائی گئی، جو ہمارے معاشرے کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے، اگر ہم نے فوری طور پر اس پر توجہ نہ دی تو یہ تعداد نہ جانے کہاں تک پہنچے گی۔یہ تخمینہ صرف ڈارک ویب سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد نہیں، بلکہ آن لائن جنسی استحصال اور بدسلوکی کی مختلف صورتوں سے متعلق ہے۔ ان میں ناپسندیدہ جنسی پیغامات، نجی تصاویر طلب کرنا، تصاویر یا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ، اجازت کے بغیر نجی مواد کی تشہیر اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی تصاویر یا ویڈیوز بنانا شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، متاثرہ بچوں میں سے نصف سے زیادہ نے اپنے تجربے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔ تحقیق میں شامل بچوں کی جانب سے ہیلپ لائن، سماجی کارکنوں یا پولیس جیسے رسمی ذرائع سے مدد حاصل کرنے کی اطلاع بھی نہیں ملی۔ یوں یہ معاملہ اور بھی خطرناک ہو جاتا ہے کہ ہم معاشرتی اقدار کے باعث اس قسم کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کسی کی مدد لینے سے بھی گھبراتے ہیں۔
ایک اور خطرناک پہلو ان معلومات کا یہ ہے کہ 85 فیصد واقعات میں مبینہ مرتکب شخص وہ تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا۔ یہ نتیجہ اس عام خیال کو چیلنج کرتا ہے کہ بچوں کو آن لائن خطرہ صرف کسی نامعلوم اجنبی سے ہوتا ہے۔ پہلے سے واقف شخص بھی آن لائن رابطے کے ذریعے اعتماد حاصل کرکے اس کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔اس قسم کے واقعات تو نہ جانے کب سے ہو رہے ہوں گے، مگر واضح رہے کہ میڈیا میں 2015 میں بھی قصور کے گاؤں حسین خان والا میں بچوں کے جنسی استحصال، ویڈیوز بنانے اور انھیں پھیلانے کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا۔ اسی طرح اپریل 2017 میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے بین الاقوامی نیٹ ورک سے ایک شخص گرفتار ہوا۔
اس مجرم کو عدالت نے سات سال قید اور 12 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔پاکستان میں بڑھتے ہوئے آن لائن جرائم سے نمٹنا آسان نہیں، دنیا بھر میں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق، کینیڈا میں فی ایک لاکھ بچوں اور نوجوانوں میں پولیس کو رپورٹ ہونے والے آن لائن جنسی استحصال کے واقعات کی شرح 2014 میں 50 تھی، جو 2020 میں بڑھ کر 131 ہو گئی۔ یہ تقریباً 162 فیصد اضافہ بنتا ہے۔انگلینڈ اور ویلز میں بچوں کی غیر مہذب تصاویر سے متعلق پولیس میں درج جرائم کی تعداد دسمبر 2014 میں 4,261 تھی، جو دسمبر 2024 میں بڑھ کر 41,033 ہو گئی۔عام طور پر لوگ انٹرنیٹ کو گوگل، یوٹیوب، سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔
انٹرنیٹ کا ایک ایسا حصہ بھی ہے جس تک رسائی کے لیے خصوصی سافٹ ویئر یا مخصوص ترتیبات درکار ہوتی ہیں۔ اسے ڈارک ویب کہا جاتا ہے۔یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر خطرناک آن لائن گروپ ڈارک ویب پر نہیں ہوتا اور کسی خطرناک گروپ سے رابطے میں آنے والا ہر بچہ لازماً ڈارک ویب تک نہیں پہنچتا۔ کراچی کے حالیہ معاملے میں حکام کے مطابق بچی سوشل میڈیا کے ذریعے گروپ تک پہنچی اور بعد میں پیغام رسانی کی ایپ پر رابطہ ہوا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرناک سرگرمیوں کا آغاز ان پلیٹ فارمز سے بھی ہو سکتا ہے جنھیں بچے اور ان کے والدین روزمرہ استعمال کرتے ہیں،جو بچے اس جال میں پھنس جاتے ہیں ان پر نقصان دہ سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے بتدریج دباؤ بڑھایا جاتا ہے۔ ابتدا میں بظاہر معمولی کام، پھر رازداری کی شرط اور اس کے بعد دھمکی یا جذباتی دباؤ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بچے کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا یا والدین کو بتانے پر اسے سزا ملے گی۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ بچے ہوں یا بڑے، سوشل میڈیا کے استعمال سے رازداری قائم نہیں رہتی اور ایسی باتیں جو صرف گھر والوں کے علم میں ہی ہونی چاہئیں، وہ باہر کی دنیا میں چلی جاتی ہیں، جس کا ہمیں پتا ہی نہیں ہوتا۔ گویا بات یہ سمجھنے کی ہے کہ ہم اپنے موبائل پر جو بھی سرگرمی کرتے ہیں، وہ اب محفوظ نہیں ہوتی، کسی کے بھی ہاتھ لگ سکتی ہے، جب کہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں۔ انھیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ سوشل میڈیا پر ان کی دوستی کس سے ہو رہی ہے یا وہ کس پلیٹ فارم کو استعمال کر رہے ہیں اور کون ان سے ان کی خفیہ معلومات ظاہری یا خفیہ طور پر حاصل کر رہا ہے۔ ایسے میں جب بالغ اور پڑھے لکھے افراد بھی اس نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے دھوکا کھا رہے ہوں تو بچے کس طرح سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں؟
یہ بات طے ہے کہ آج کل کسی کی بھی معلومات محفوظ نہیں، لہٰذا اپنے آپ کو اور خاص طور پر بچوں کو سائبر کرائم سے بچانے کے لیے سب سے پہلا اور اہم طریقہ یہی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں، خواہ صرف گیم کھیلنے کا ہی کیوں نہ معاملہ ہو۔ پہلے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ بچوں کو موبائل فون استعمال ہی نہ کرنے دیں اور دوسری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اگر وہ موبائل فون استعمال کریں تو ان کی تمام سرگرمیوں کا علم والدین کو روزانہ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ والدین اور بچوں کے درمیان کمیونی کیشن کی بالکل کمی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ایسے کسی بھی گیپ کا فائدہ سائبر کرائم میں ملوث لوگ باآسانی اٹھا سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ بچوں میں سب سے زیادہ تجسس پایا جاتا ہے اور یہ تجسس ہی انھیں سوشل میڈیا پر غلط راستے پر لے جا سکتا ہے اس لیے کسی بڑی مصیبت میں پھنسنے سے پہلے اپنے بچوں کو موبائل فون سے یا سوشل میڈیا سے جتنا دور رکھ سکتے ہیں رکھیں۔ آئیے غور کریں، سوچیں۔