مولانا نے بنوں اور وزیرستان کو سی پیک سے محروم رکھا، اپنے گاؤں میں ذاتی فوائد لیے، عوام کی تنقید

ان کا کام صرف جائیداد بنانا ہے، عوام کا کوئی کام نہیں، حلقے کے لوگوں کے الزامات


خالد محمود November 03, 2026

بنوں:

مولانا فضل الرحمن  کے حلقے کے عوام نے ان پر سخت تنقید کی ہے۔

عوام نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مولانا  فضل الرحمن نے بنوں اور وزیرستان کو سی پیک سے محروم رکھا، جبکہ اپنے گاؤں میں انٹرچینج بنا کر زمینیں خرید لیں اور جنوبی اضلاع کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔

عوام کہتے ہیں کہ فضل الرحمان نے سی پیک منصوبے سے بنوں اور وزیرستان کو باہر رکھا۔ ٹانک اور ڈی آئی خان کو اس لیے شامل کیا کہ وہاں سے الیکشن لڑتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں سی پیک موٹروے کا انٹرچینج بنوایا تاکہ ذاتی فائدہ ہو۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ موٹروے کے ارد گرد جتنی زمین تھی سب خرید لی اور دوستوں کے نام پر بھی لے لی۔ ان کا کام صرف جائیداد بنانا ہے، عوام کا کوئی کام نہیں۔

حلقے کے عوام نے کہا کہ 1972 سے لوگ انہیں جانتے ہیں۔ جہاں مفاد نظر آئے وہیں پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں سب ٹھیک ہو وہاں رات گزارتے ہیں، ورنہ چپ۔ صرف دولت جمع کرتے ہیں، دین اور عوام دونوں سے بے تعلق ہیں۔ موقع ملا تو خزانہ لوٹتے ہیں اور دین بیچتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج بنوں میں آپریشن جاری ہے، پشتون علاقوں میں بے گناہ لوگ مر رہے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں حالات بدترین ہیں مگر وہ آرام سے بیٹھے ہیں۔ ساری عمر بنوں، لکی مروت اور ٹانک سے پاس ہوتے رہے، لوگوں نے عزت دی اور ممبر بنایا، اب ان حالات پر ایک لفظ نہیں بولتے۔

عوام نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت شاطر ہیں، شطرنج کے کئی پتے رکھتے ہیں۔ جہاں ویلیو بنے وہیں بولتے ہیں، اشارہ ملے تو چابی کے کھلونے کی طرح چل پڑتے ہیں۔