’نہ سمجھا جائے کہ ہم کسی کی بی ٹیم ہیں‘، ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے کیخلاف فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

کہا میری طبیعت ٹھیک نہیں، یہاں طبیعت خراب کا کہہ کر دوسری عدالت میں پیش ہو گئے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ


فیاض محمود November 03, 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے ہیں یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم کسی کی بی ٹیم بنے بیٹھے ہیں۔ عدالت میں غلط بیانی پر ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو کی غیر مشروط معافی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 12 نومبر کو توہین عدالت کی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالت نے پراسیکیوٹر کو کیس کی تیاری کے ساتھ آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے، چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ آپ کا رویہ عدالتی حکم کو بلڈوز کر رہا ہے۔ یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ باقی لوگوں کو گھنٹوں بٹھایا جائے اور سوٹ ٹائی والے کو دس منٹ میں سن لیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ آپ عدالتوں کی عزت اور وقار کو سنجیدہ نہیں لیتے، یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم کسی کی بی ٹیم بنے بیٹھے ہیں۔ جب کیس چیف جسٹس کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہو تو یہ سینئر کورٹ ہے، کیس کال ہونے اور سماعت شروع ہونے پر عدالت میں موجود رہنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے کسی سے کوئی بغض نہیں، جس دن یہ آرڈر پاس ہو رہا تھا، انہوں نے کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں، لیکن یہاں طبیعت خراب ہونے کا کہہ کر دوسری عدالت میں پیش ہو گئے۔ ہم نے انہیں اس روز ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا تھا۔ آپ نے 60 سال سروس کی، آپ کو یہ نہیں پتہ کہ کون سی عدالت بڑی ہوتی ہے؟ آپ کو چاہیے تھا کہ پہلے یہاں آ کر وقت دینے کی استدعا کرتے، لیکن آپ نے یہ زحمت نہیں کی اور دوسری عدالت میں جانے کو ترجیح دی۔

اس موقع پر زمان وٹو کے وکیل کاشف علی ملک نے کہا کہ ہم غیر مشروط معافی مانگتے ہیں۔ تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معافی تو اب بعد میں دیکھی جائے گی۔ سی ڈی اے کے وکیل نذیر جواد نے عدالت سے استدعا کی کہ کچھ وقت دے دیا جائے، اگلی سماعت پر تیاری کے ساتھ پیش ہوں گے۔

اس دوران ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو نے بھی عدالت سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کی عزت کرتے ہیں اور عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معذرت کی بات ہی نہیں، یہ تو سیدھی سیدھی توہین عدالت ہے۔ پراسیکیوٹر عدنان علی نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے جواب میں معافی نہیں مانگی۔ ایسے کیس میں توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوتی ہے اور پہلے فرد جرم عائد کی جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں وقت دے دیتے ہیں، 12 نومبر کو آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد ہوگی۔