کاٹن زونز میں گنے کی غیر معمولی کاشت، مسلسل دوسرے سال بھی کپاس کی قومی پیداواری کا ہدف حاصل نہ ہوسکا

رواں سال بیشتر  کاٹن زونز میں درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کے باعث روئی کا ریشہ اور بیج کافی متاثر ہوئے ہیں


احتشام مفتی November 03, 2026

مقامی کاٹن زونز میں گنے کی غیر معمولی کاشت کے باعث مسلسل دوسرے سال بھی ایک بھی پندھرواڑے میں بھی کپاس کی 10لاکھ گانٹھوں کا مجموعی قومی پیداواری ہدف حاصل نہ ہوسکا، تاہم ایف بی آر کی جانب سے ڈیجیٹل انوائسنگ پر عمل درآمد سے روئی کے غیر دستاویزی کاروبار کی شرح گھٹنے سے رواں سال کپاس کی مجموعی پیداوار گذشتہ سال کی نسبت زائد ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ رواں سال بیشتر  کاٹن زونز میں درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کے باعث روئی کا ریشہ اور بیج کافی متاثر ہوئے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 31اکتوبر تک مقامی جننگ فیکٹریوں میں 7فیصد کے اضافے سے مجموعی طور 47 لاکھ 43ہزار بیلز کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی ہے۔

جس میں پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 19لاکھ 99ہزار جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریون میں 27لاکھ 44ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل ریکارڈ کی گئی ہے جو گذشتہ سال کی نسبت بالترتیب 5فیصد اور 9فیصد زائد ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران  ٹیکسٹائل ملز نے جننگ فیکٹریوں سے 39لاکھ 97ہزار اور برآمد کنند گان نے 98ہزار روئی کی گانٹھوں کی خریداری کی ہیں جبکہ 6لاکھ 48ہزار گانٹھوں کے ذخائر جننگ فیکٹریوں میں فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کپاس سندھ کے ضلع سانگھڑ کی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے جو کہ 12لاکھ 11ہزار گانٹھوں کے مساوی ہے جبکہ ضلع بہاولنگر میں 5لاکھ 26 ہزار، بہاولپور میں 3لاکھ 65 ہزار،ڈیرہ غازی خان میں 2لاکھ 83ہزار، ضلع رحیم یار خان میں 2لاکھ 34ہزار جبکہ ضلع سکھر کی جننگ فیکٹریوں میں 3لاکھ 19ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی ہے۔

پی سی جی اے کی رپورٹ کے مطابق 31 اکتوبر تک پنجاب بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 20لاکھ گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی ہے جبکہ حکومت پنجاب کی کراپ رپورٹنگ سروسز کی رپورٹ کے مطابق 29اکتوبر تک گانٹھوں کی مقدار 35لاکھ77ہزار ہے جو کہ بظاہر ناقابل فہم ہے۔

رپورٹ کے مطابق کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار 56لاکھ 7ہزار گانٹھ تھی جبکہ رواں سال کپاس کی کاشت گذشتہ سال کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود کپاس کی مجموعی پیداوار 60لاکھ گانٹھ سے زائد ہونے کی توقعات ہیں جس کی بڑی وجہ ایف بی آر کی جانب سے ڈیجیٹل انوائسنگ پر عمل درآمد ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں دو سال قبل تک ستمبر اور اکتوبر دو ماہ کے دوران ہر پندھرواڑے میں کپاس کی مجموعی پیداوار 10لاکھ گانٹھ سے زائد ہوتی تھی لیکن کاٹن زونز میں گنے کی ریکارڈ کاشتکاری سے گذشتہ دو سال کے ایک بھی پندھواڑے میں بھی 10لاکھ گانٹھوں کا پیداواری ہدف حاصل نہ ہوسکا ہے۔

رواں سال جولائی سے نومبر کے پہلے ہفتے تک بیشتر کاٹن زونز میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث کپاس کے بیج کے اگاؤ میں غیر معمولی کمی واقع ہونے کے ساتھ ساتھ روئی کا ریشہ بھی بہت متاثر ہونے سے اس کی لمبائی اور مضبوطی کافی کم ہو نے سے ٹیکسٹائل ملز مالکان کو بیرون ملک سے زیادہ تعداد میں معیاری روئی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔