جامعہ کراچی سے ملحقہ لا کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے


اسٹاف رپورٹر November 03, 2026
خستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ

کراچی:

جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے متعلق موصولہ شکایات کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

کمیٹی تمام متعلقہ فریقین سے تفصیلی تبادلہ خیال، معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور دستیاب شواہد و ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اپنی حقائق پر مبنی رپورٹ جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو پیش کرے گی۔ اس عمل کے دوران متاثرہ طلبہ، کاپی چیک کرنے والے اساتذہ اور اسکروٹنی کی درخواستوں کے بعد جوابی کاپیوں کا جائزہ لینے کے ذمہ دار متعلقہ افراد سے ملاقاتیں بھی کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ کمیٹی کے اراکین شعبہ امتحانات کا دورہ کریں گے اور ناظم امتحانات سمیت دیگر متعلقہ افسران سے بھی اس معاملے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

بعض طلبہ نے اعلان کردہ امتحانی نتائج میں مبینہ تضادات اور غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ امتحانات میں کامیاب ہوئے تھے، تاہم جاری کردہ مارکس شیٹس میں انہیں ناکام قرار دیا گیا۔ اس حوالے سے متاثرہ طلبہ نے باقاعدہ اسکروٹنی کی درخواستیں جمع کرائی تھیں اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ بی اے/ایل ایل بی کے امتحانات میں کامیاب قرار دیے جانے کے حق دار ہیں۔

واضح رہے کہ مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت اسکروٹنی کے عمل میں صرف حاصل کردہ نمبروں کی دوبارہ گنتی یا ٹوٹلنگ کی جانچ کی جاسکتی ہے، جبکہ جوابی کاپیوں کی ازسرِنو جانچ (ری ایویلیوایشن) اسکروٹنی کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہے۔ معاملے کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے جامعہ کراچی نے اس کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات یقینی بنانے کا فیصلہ کیا۔

اس سلسلے میں تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی میں جسٹس (ر) ضیا پرویز، جسٹس (ر) ندیم اختر اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈاکٹر نذیر حسین شامل ہیں۔ کمیٹی کو حقائق معلوم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ اپنی رپورٹ جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو پیش کرنے سے قبل تمام متعلقہ ریکارڈ اور شواہد کا جائزہ لے گی، تاکہ اس معاملے کو منصفانہ اور شفاف انداز میں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاسکے۔

گزشتہ ہفتے تشکیل دی گئی مذکورہ کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ، 4 نومبر کو دوپہر 12 بجے وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں منعقد ہوگا۔

علاوہ ازیں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جامعہ کراچی کے الحاق شدہ لاء کالجز کے لیے ایک جامع تعلیمی کیلنڈر مرتب کیا جائے گا، جس میں سال بھر کی تدریسی، تعلیمی اور امتحانی سرگرمیوں کو شامل کیا جائے گا۔ مذکورہ کیلنڈر منظوری کے لیے رواں ماہ منعقد ہونے والے جامعہ کراچی کی اکیڈمک کونسل کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

جامعہ کراچی اپنے تمام تعلیمی اور انتظامی امور میں شفافیت، انصاف اور جواب دہی کے اصولوں پر کاربند رہنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ جامعہ کا پختہ یقین ہے کہ میرٹ کی بالادستی یقینی بنائی جائے، کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی حوصلہ شکنی کی جائے اور جہاں بھی اصلاح کی ضرورت ہو، وہاں بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

آزادانہ تحقیقاتی کمیٹیوں کے قیام اور شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے ذریعے جامعہ کراچی طلبہ اور تمام متعلقہ فریقین کے اعتماد کے تحفظ اور اپنے امتحانی و جانچ کے نظام کی شفافیت اور ساکھ برقرار رکھنے کے عزم کا عملی اظہار کر رہی ہے۔