برطانیہ میں 60 سالہ شخص پر اپنی بیوی کو نشہ آور ادویات دے کر بے ہوشی کی حالت میں اجنبی مردوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بنوانے کا الزام سامنے آیا جبکہ اس مکروہ سلسلے میں شریک دیگر ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مانچسٹر کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کو طویل عرصے تک معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔
استغاثہ نے مزید بتایا کہ متاثرہ خاتون سمجھتی تھیں کہ گزشتہ نو برس سے ان کی ازدواجی زندگی میں جنسی تعلق قائم نہیں ہوا لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ملزم شوہر کے دہری زندگی گزارنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق ایک جانب تو خاتون کا 60 سالہ شوہر بظاہر ایک خوشحال اور مطمئن گھریلو زندگی گزار رہا تھا بالکل ویسے ہی جیسے دیگر خاندان ساتھ رہتے ہیں لیکن دوسری ہی جانب وہ بیوی کو بے ہوش کرکے مختلف مردوں کو گھر بلاتا اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز بھی بناتا تھا۔
پولیس نے ملزم کا موبائل فون قبضے میں لیا تو اس میں دس لاکھ سے زیادہ تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئیں۔ ان ریکارڈز سے مبینہ جرائم اور دوسرے افراد کے ساتھ رابطوں کی تفصیلات سامنے آئیں۔
تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ملزم شوہر نے ابتدا میں آن لائن اپنی ہی بیوی بن کر بھی گفتگو کرتا رہا تھا تاہم یہ سلسلہ بہت جلد ختم ہوگیا تھا جس کے بعد اس نے بے ہوشی کی حالت میں اجنبیوں سے اپنی بیوی کا ریپ کروانے جیسا مکروہ کام شروع کیا۔
تحقیقات اکتوبر 2025 میں شروع ہوئیں جب خفیہ صحافیوں نے ٹیلیگرام کے ایک نجی گروپ میں بے ہوش خواتین پر جنسی حملوں کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھیں۔ بعد ازاں ایک صارف کی شناخت متاثرہ خاتون کے شوہر سے منسلک فون نمبر کے ذریعے ہوئی۔
شوہر 62 جرائم کا اعتراف کر چکا ہے، جبکہ چار دیگر افراد بھی مختلف جرائم قبول کرچکے ہیں۔ اب نو ملزمان کو عدالت میں مقدمے کا سامنا ہے جن میں ایک پیرامیڈک، ٹیکسی ڈرائیور اور شوقیہ فٹبال کوچ بھی شامل ہیں۔ تمام نو ملزمان الزامات سے انکار کر رہے ہیں۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعات باہمی رضامندی سے ہونے والی سرگرمیاں نہیں بلکہ واضح جنسی جرائم تھے۔ مقدمے کی سماعت جاری ہے۔
یاد رہے کہ فرانس میں بھی 2024 کو ایسا ہی ایک مقدمہ سامنے آیا تھا جس میں شوہر پر بیوی کو نشہ دے کر بے ہوش کرنے اور اجنبی مردوں کو زیادتی کے لیے گھر بلانے کا الزام ثابت ہوا۔
تاہم فرانس والے کیس میں متاثرہ خاتون نے اپنی شناخت ظاہر کرنے اور مقدمے کی کھلی سماعت کا فیصلہ کیا تاکہ ایسے جرائم پر معاشرے میں بحث ہو سکے۔
اس کے برعکس مانچسٹر کے اس مقدمے میں متاثرہ خاتون خود منظرعام پر نہیں آئیں اس لیے قانونی اور صحافتی تقاضوں کے تحت اس کی شناخت خفیہ رکھی جا رہی ہے۔