سفارت کاری یا تصادم، فیصلہ کن مرحلہ قریب

یہ تضاد اس بحران کی پیچیدگی اور فیصلہ سازی میں موجود غیر یقینی کیفیت کو نمایاں کرتا ہے


ایڈیٹوریل November 04, 2026

دنیا کی تاریخ میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کے نتائج کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کی بازگشت کئی براعظموں میں سنائی دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایسے ہی نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کے امکانات موجود ہیں تو دوسری جانب عسکری تیاریوں، دھمکیوں اور جوہری تصادم کے خدشات نے عالمی امن کو غیرمعمولی خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔

واشنگٹن سے آنے والے متضاد اشارے، تل ابیب کی جنگی حکمت عملی، تہران کا مزاحمتی مؤقف اور خلیجی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات، اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تنازع اب محض امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان طاقت آزمائی نہیں رہا۔ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، بین الاقوامی تجارت اور عالمی سلامتی کے پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ جلد ختم کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کے سامنے مزید فوجی کارروائیوں کے مختلف منصوبے زیر غور ہیں۔ یہ تضاد اس بحران کی پیچیدگی اور فیصلہ سازی میں موجود غیر یقینی کیفیت کو نمایاں کرتا ہے۔

 ٹرمپ نے آئیووا میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ بہت جلد ختم ہوسکتی ہے، تاہم تہران کو معاہدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر امریکا سخت کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے بیان میں انسانی جانیں بچانے کی خواہش بھی موجود ہے اور طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کا خاتمہ کسی قابلِ قبول سیاسی سمجھوتے کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا یا مذاکرات کو عسکری دباؤ کے ذریعے اپنی شرائط منوانے کا ذریعہ بنایا جائے گا؟ سفارت کاری کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ فریقین کو عزتِ نفس، قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہوئے کسی مشترکہ حل تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا جائے، اگر معاہدے کی بنیاد یک طرفہ مطالبات اور مسلسل دھمکیوں پر رکھی جائے تو اس کی پائیداری مشکوک رہتی ہے۔

امریکی پالیسی سازوں کے سامنے محدود فضائی حملوں، کئی روزہ فوجی کارروائی، ہفتوں پر محیط فضائی مہم، ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے، بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی سمیت مختلف امکانات زیر غور ہیں۔ ان میں مزید فوجی کارروائی سے گریز اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔

امریکی دفاعی کارروائیوں کی حالیہ اطلاعات نے بھی اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود عسکری تصادم دوبارہ شدت اختیار کرسکتا ہے۔یہاں سب سے زیادہ تشویش ناک معاملہ جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات ہیں۔ تاہم اس ممکنہ جوہری حملے سے متعلق مبینہ منصوبہ بندی کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، اسے کسی حتمی امریکی فیصلے یا طے شدہ فوجی کارروائی کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود ایسی اطلاعات کا منظرعام پر آنا عالمی امن کے لیے سنجیدہ انتباہ ہے۔

جوہری ہتھیار محض کسی فوجی تنصیب کو تباہ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایسی تباہی کا دروازہ ہیں جس کے اثرات نسلوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔ ان کے استعمال سے تابکاری، ماحولیاتی آلودگی، انسانی ہلاکتوں اور علاقائی عدم استحکام کے جو خطرات پیدا ہوں گے، ان کا اندازہ روایتی جنگی پیمانوں سے نہیں لگایا جاسکتا۔ مزید یہ کہ جوہری حملے کی صورت میں دوسرے ممالک کے ردعمل اور جوابی اقدامات کی زنجیر عالمی تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور جزیرہ نما کوریا کی حساس صورت حال پہلے ہی عالمی سلامتی کے لیے مستقل چیلنج ہیں۔ ایسے ماحول میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی کوئی بھی کوشش عالمی توازن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اس تمام صورت حال میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کردار بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اسرائیل اپنی سلامتی اور ایران کے جوہری پروگرام کو بنیادی خطرہ قرار دیتا ہے، لیکن کسی ملک کے سلامتی کے خدشات کو دور کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ پورے خطے کو مسلسل جنگ کے خطرے میں رکھا جائے۔ قابلِ توجہ امر یہ بھی ہے کہ اسرائیل کے اندر سیاسی منظرنامہ تبدیل ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ حالیہ انتخابات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے حمایت کی ہے جب کہ عرب جماعتوں کے ممکنہ تعاون سے نئی حکومت تشکیل دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اسرائیلی پارلیمان میں اپوزیشن اور عرب جماعتوں کی مجموعی نشستیں 67 تک پہنچ سکتی ہیں، تاہم ان کے درمیان اختلافات کے باعث حکومت سازی کا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا۔

اس سیاسی تبدیلی کی اہمیت محض اقتدار کی منتقلی تک محدود نہیں۔ اسرائیلی معاشرے کے اندر جنگ، سلامتی، عرب شہریوں کے سیاسی کردار اور مستقبل کی حکمت عملی پر موجود اختلافات بھی اس سے نمایاں ہوتے ہیں، اگر نئی سیاسی قیادت تشکیل پاتی ہے تو اس کی خارجہ اور دفاعی ترجیحات کا جائزہ لینا ہوگا۔ تاہم یہ توقع کرنا قبل از وقت ہوگا کہ حکومت کی تبدیلی لازماً ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کردے گی۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ اسرائیل کی آیندہ قیادت خطے کے مستقبل کو مسلسل عسکری برتری کے تناظر میں دیکھتی ہے یا سیاسی مفاہمت اور علاقائی بقائے باہمی کو بھی اپنی حکمت عملی کا حصہ بناتی ہے۔

دوسری جانب یمن میں حوثی گروہ کی پیش قدمی نے بحران کو ایک اور خطرناک سمت دے دی ہے۔ المقاطرہ ضلع پر قبضے کے بعد حوثی جنگجو عدن سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں اور عدن و تعز کو ملانے والی اہم شاہراہ کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ یہ پیش رفت یمن کے داخلی تنازع کو دوبارہ وسیع جنگ میں تبدیل کرسکتی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات اور دمام ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے دعوے، جب کہ ریاض کی جانب آنے والے ڈرونز کو روکنے کی اطلاعات، خلیجی ممالک کی سلامتی کے بارے میں تشویش بڑھا رہی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی حوثیوں کی عدن کی جانب پیش قدمی اور اس کے علاقائی اثرات کی تصدیق کی ہے۔

ایسے سنگین حالات میں قطر کی ثالثی کوششیں خصوصی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔ قطری وفد کی تہران آمد اور امریکا و ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے ترمیم شدہ مسودے پر مشاورت اس امر کا اشارہ ہے کہ تمام تر کشیدگی کے باوجود سفارتی راستے بند نہیں ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز، حملوں کی روک تھام اور امریکی بحری ناکہ بندی جیسے معاملات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ قطر کی کوششوں کو محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ایسے ماحول میں جب عسکری کارروائیوں کے امکانات اور مذاکرات کی پیش رفت بیک وقت سامنے آرہی ہو، ثالثی کا کام انتہائی پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ کامیاب مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ امریکا ایران کی سلامتی اور خودمختاری سے متعلق تحفظات کو سنجیدگی سے سنے، جب کہ ایران بھی خطے کے ممالک اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے قابلِ عمل ضمانتیں فراہم کرے۔

اسی طرح اسرائیل کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ مستقل امن صرف فوجی طاقت کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی طاقتوں، اقوام متحدہ اور علاقائی ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ جوہری تصادم کے کسی بھی امکان کو روکنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں تیز کریں۔ پاکستان سمیت خطے کے وہ ممالک جو جنگ کے معاشی، سلامتی اور انسانی اثرات سے براہِ راست متاثر ہوسکتے ہیں، انھیں بھی امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ خصوصاً پاکستان کے لیے یہ معاملہ غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ایران کے ساتھ طویل سرحد، خلیجی ممالک سے اقتصادی روابط اور خطے میں امن و استحکام کے مفادات اسے اس بحران سے لاتعلق رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔

تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جنگیں شروع کرنے کے لیے چند فیصلے کافی ہوتے ہیں، مگر انھیں ختم کرنے کے لیے سیاسی بصیرت، تحمل اور غیرمعمولی تدبر درکار ہوتا ہے۔ ٹرمپ کے سامنے بھی یہی انتخاب ہے کہ وہ خطے کو ایک نئے اور زیادہ تباہ کن تصادم کی طرف لے جانے کے بجائے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنائیں۔ ایران کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسے سمجھوتے کی راہ ہموار کرے جس سے خطے میں اعتماد بحال ہو اور عالمی تجارت کو لاحق خطرات ختم ہوسکیں۔

اسرائیل کی سیاسی قیادت کو بھی اپنے قومی مفادات کا تعین وسیع تر علاقائی امن کے تناظر میں کرنا ہوگا۔ مشرق وسطیٰ کو اس وقت مزید میزائلوں، بمبار طیاروں اور بحری ناکہ بندیوں کی نہیں بلکہ ایسے سیاسی فیصلوں کی ضرورت ہے جو آیندہ نسلوں کو جنگ کی میراث دینے کے بجائے امن، استحکام اور ترقی کا راستہ فراہم کریں، اگر طاقت کے نشے میں سفارت کاری کی آواز دبا دی گئی تو اس کی قیمت صرف متعلقہ ممالک نہیں بلکہ پوری انسانیت ادا کرے گی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب عالمی قیادت کو ثابت کرنا ہوگا کہ انسانی جانوں کا تحفظ محض تقریروں کا موضوع نہیں بلکہ عملی فیصلوں کی بنیاد بھی ہے۔