دنیا کی تاریخ میں ایسے بہت سے لوگ گزرے ہیں جنھوں نے تلوار نہیں اٹھائی ،کوئی فوج نہیں بنائی، کسی تخت و تاج کے حصول کی خواہش نہیں کی ،مگر اپنے قلم سے طاقت کے ایوانوں میں لرزہ پیدا کردیا۔ ان لوگوں کے پاس نہ لشکر تھے، نہ دولت اور نہ اقتدار کی خواہش۔ ان کے پاس صرف ایک چیز تھی سچ کہنے اور اسے دنیا تک پہنچانے کا حوصلہ۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے ہر دور میںسچے اہل علم‘قلم کار اور اہل دانش معتوب رہے ہیں۔
2 نومبر کو دنیا بھر میں صحافیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے یہ دن صحافتی فرائض کی ادائیگی کے دوران صحافیوں‘رپورٹرز‘کیمرہ مینز کے قتل، تشدد، دھمکیوں اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم پر توجہ دلانے کے لیے مقرر کیا۔ یہ دن محض ایک رسمی یادگار نہیں بلکہ عالمی ضمیر کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھتا ہے کہ آخر سچ لکھنے والوں پر تشدد کیوں؟کئی مواقع پر صحافی مارے بھی جاتے ہیں۔ اور ان کے ملزمان اکثر قانون کی گرفت سے باہر کیوں رہتے ہیں۔
صحافت کسی بھی سماج میں محض واقعات کی رپورٹنگ کا نام نہیں، یہ عوام کے جاننے کے حق کا تحفظ ہے۔ ایک صحافی جب کسی کارخانے میں مزدوروں کے استحصال کی خبر دیتا ہے، کسی گاؤں میں کسانوں کی زمین پر قبضے کی داستان بیان کرتا ہے، کسی جنگ زدہ علاقے میں بچوں کی لاشوں کی تصویر دنیا کے سامنے لاتا ہے یا کسی کی بدعنوانی کو بے نقاب کرتا ہے تو وہ دراصل سماج کے اس حق کا دفاع کررہا ہوتا ہے جس کے بغیر جمہوریت محض ایک نمائشی چیز بن کر رہ جاتی ہے۔
آزادیِ صحافت کا سوال ہمیشہ سے اقتدار اور عوام کے درمیان تعلق کا سوال رہا ہے۔ نوآبادیاتی دور میں اخبارات کو سنسرشپ پابندیوں اور مقدمات کے ذریعے خاموش رکھنے کی کوشش ہوتی تھی اور جدیددور میں بھی اہل صحافت کو مختلف طریقوں سے دباؤ نگرانی‘ معاشی بلیک میلنگ اور جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فرق صرف طریقہ کار کا ہے طاقت کی خواہش آج بھی یہی ہے کہ اس کے کیے پر سوال نہ اٹھایا جائے۔
آج دنیا میں صحافت کے لیے خطرات کی نوعیت مختلف اور پیچیدہ ہوچکی ہے۔ ایک طرف جنگ میںرپورٹنگ کرنے والے صحافی براہ راست نشانہ بن رہے ہیں دوسری طرف انھیں شدت پسند گروہوں اور طاقتورمافیاز کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں نے دنیا کے سامنے ایک ایسا المیہ رکھا ہے جسے محض جنگی اعداد و شمار میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ جب ایک رپورٹرصحافی بمباری کے دوران اپنے کیمرے اور مائیکروفون کے ساتھ لوگوں کی تباہ شدہ زندگیوں کی گواہی دے رہا ہوتا ہے تو وہ صرف ایک پیشہ ورانہ ذمے داری ادا نہیں کررہا ہوتا بلکہ انسانیت کے حافظے میں اس کو محفوظ کررہا ہوتا ہے۔
دوران جنگ صحافیوں کا قتل دراصل ان آوازوں کو ختم کرنے کی کوشش بھی ہے جو دنیا کو بتاتی ہیں کہ میدان جنگ میں کیا ہورہا ہے۔ جب گواہ ختم کردیے جائیں تو ظلم کے انکار اور تاریخ کو مسخ کرنے کا راستہ آسان ہوجاتا ہے۔ اسی لیے صحافیوں کا تحفظ کسی ایک پیشے کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب، عالمی انصاف اور حقائق کے تحفظ کا معاملہ ہے۔
پاکستان سمیت ہر ملک میں آزادی صحافت کی تاریخ جدوجہد قربانیوں اور مزاحمت سے عبارت ہے۔ صحافیوں نے آمریت کے خلاف آواز بلند کی، سنسرشپ کا سامنا کیا ،پابندیاں برداشت کیں اور کوڑے کھانے سے لے کر قید و بند تک کی صعوبتیں جھیلیں۔ہمارے ہاں جنرل ایوب خان سے جنرل ضیاء الحق اور بعد کے مختلف ادوار تک صحافت کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے رہے۔ اخبارات کے ڈیکلریشن منسوخ ہوئے، صفحات خالی چھوڑنے پڑے، صحافیوں کو ملازمتوں سے نکالا گیا اور بعض کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
صحافیوں کو دھمکیاں بھی ملتی ہیں ،بعض اغوا بھی ہوئے ہیں۔ صحافت کے مسائل کا ایک پہلو معاشی بھی ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہار کے نئے راستے ضرور کھولے ہیں مگر یہاں بھی مسائل موجود ہیں۔ خواتین صحافیوں کو خصوصی طور پر مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی سماج کی آزادی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں خواتین کتنی آزادی اور تحفظ کے ساتھ اپنی بات کہہ سکتی ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ آزادیِ صحافت کا مطلب صحافیوں کو تنقید سے بالاتر قرار دینا نہیں۔ صحافی بھی غلطی کرسکتے ہیں ان کی خبر بھی غیر مصدقہ ہوسکتی ہے اور ان کے تجزیے سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے۔ مگر کسی خبر کا جواب خبر سے‘ کسی دلیل کا جواب دلیل سے اور کسی غلطی کا جواب قانونی اور شفاف طریقہ کار سے دیا جانا چاہیے۔تشدد کسی اختلاف کا جواب نہیں ہوسکتا۔
2 نومبر کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی تحقیقات محض اعلانات تک محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ ضروری ہے کہ ہر واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہوں ذمے داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ جمہوری حکومتوں کی ذمے داری صرف صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جس میں وہ کسی خوف کے بغیر اپنا کام کرسکیں۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صحافت کی آزادی کوئی رعایت نہیں بلکہ عوام کا بنیادی حق ہے۔ یہ حق اس لیے اہم ہے کہ عوام سوال کرسکیںتاکہ سماج میں موجود ناانصافیوں کو بے نقاب کیا جاسکے۔
جب جھوٹ کو منظم طریقے سے سچ کا لباس پہنایا جارہا ہو‘ جب جنگ کے حقائق کو پروپیگنڈے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو اور جب طاقتور قوتیں اطلاعات کے بہاؤ کو اپنے مفادات کے مطابق کنٹرول کرنا چاہتی ہوں تو ایسے میں آزاد صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
ہمیں ان تمام صحافیوں کو یاد رکھنا چاہیے جنھوں نے سچ کی تلاش میں اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ ان کے نام صرف اخبارات کی پرانی سرخیوں یا یادگاری تقریبات تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ ان کی جدوجہد کو جاری رکھنا ہی ان کے لیے حقیقی خراج عقیدت ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا سماج تشکیل دے سکتے ہیں جہاں کسی صحافی کو سچ لکھنے سے پہلے مستقبل میں سنگین صورت حال پیدا ہونے کے خدشات کے بارے میں سوچنا نہ پڑے۔