حکومت نے وزیراعظم کی طرف سے پنشنرزکی آسانی کے لیے ایک احسن قدم ضرور اٹھایا ہے جس کے تحت مختلف وزارتوں کے زیر انتظام نادرا کے اشتراک سے سرٹیفکیٹ برائے حیات کا اعلان کیاگیا ہے جس سے وہ گھر بیٹھے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کرسکیں گے جس کا اجرا بلامعاوضہ ہوگا اور بلاتعطل پنشن کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، جو بزرگ پنشنرز کی سہولت کے لیے بلاشبہ اہم قدم ہے جو سرکاری اداروں میں عشروں خدمات انجام دینے والوں کو گھر بیٹھے آسانی فراہم کرے گا۔ ساری عمر سرکار کی ملازمت میں گزارنے والے اپنی بزرگی کے ساتھ مختلف بیماریوں کے ساتھ سب سے بڑھی ہوئی مہنگائی کا بھی شکار ہیں اور انھیں بڑھاپے میں جو پنشن مختلف مراحل سے گزر کر ملتی ہے۔
اس میں تو ان کی دواؤں کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا، اگر یہ بزرگ اب بھی اپنی اولاد کے رحم و کرم پر ہیں اور ان کی اولاد اس مہنگی میں اگر خوراک اور پہننے کے کپڑے اور رہائش دے رہی ہے تو اس دور گراں میں نا صرف وہ بزرگ خوش نصیب تو ہیں مگر بڑھتی عمر میں انھیں مختلف بیماریوں نے بھی گھیرا ہوا ہے جو فرمانبردار اولاد کے لیے مشکل ہوچکا ہے۔ ان بزرگوں کو اگر سرکاری علاج میسر بھی ہے تو دوائیں بہت زیادہ مہنگی ہیں۔
سرکاری اسپتالوں تک رسائی بزرگوں کے لیے مشکل ہوجاتی ہے اور ان کے لیے نجی ڈاکٹروں یا پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کرانا بھی ناممکن ہوچکا ہے جہاں ڈاکٹروں کی فیسیں اب ہزاروں تک پہنچ چکی ہیں۔ دوا ساز کمپنیاں اکثر ڈاکٹروں کو مالی فوائد پہنچا کر اپنی دواؤں کو مریضوں پر تجربے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ڈاکٹروں کی اکثریت اپنی قابلیت کی بجائے نئی نئی دوائیں لکھتے ہیں اور مریض کے فائدہ نہ ہونے پر دوسری دواؤں کے پرچے اس بے دردی سے لکھتے ہیں جیسے وہ مفت میں ملتی ہوں۔
وزیراعظم کی طرف سے پنشنرز کو پروف آف لائف کی آسانی کے بعد وفاقی حکومت نے ای او بی آئی کنٹری بیوشن کی نئی شرح مقرر کردی ہے۔ ای او بی آئی ضعیف ملازمین فوائد ایکٹ 1976کے ہر بیمہ دار فرد کے لیے کم سے کم اجرت کا 6 فیصد ماہانہ کنٹری بیوشن وصول کرتا ہے۔ سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی تنخواہ سے ہی کاٹی گئی رقم حکومت پنشن کے طور پر دیتی ہے اور بڑے اداروں میں ای او بی آئی اپنے طریقہ کار کے مطابق وصولی کرتی ہے۔
چھوٹے ادارے جہاں ملازمین کی تعداد کم ہو وہاں حکومت سے کم ازکم پانچ افراد کی رجسٹریشن ضروری قرار دے کر ای او بی آئی کے ذریعے ان ملازموں کی اسلامی اکاؤنٹ کے ذریعے ای او بی آئی میں رجسٹریشن کرا رکھی ہے جہاں مرد کو ساٹھ سال اور خاتون کی عمر 55 ہونے پر یا 15 سال تک ہر ماہ ادائیگی کا منصوبہ بنایا تھا جو انتہائی پیچیدہ اور مالی طور پر مشکل ہوچکا ہے۔
ای او بی آئی کسی ادارے کے پانچ افراد رجسٹرڈ کرکے انھیں پانچ سال ادائیگی کے بعد 5 لاکھ روپے لینے کی سہولت کا تو کہتا ہے مگر یہاں بھی رشوت کے بغیر رجسٹریشن نہیں ہوتی۔ چار سال قبل فی فرد 680 روپے والی تنخواہ کی کٹوتی 20-25-26 میں ماہانہ چوبیس سو روپے کردی گئی تھی جو اس مہنگائی میں دینا آسان نہیں مگر مزید زیادتی یہ ہے کہ ایک ہی ملک کے پنشنرز میں دہرا معیار رکھاگیا ہے۔
گورنمنٹ پنشنر اور ای او بی آئی پنشنرز کو دو حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ گورنمنٹ خزانے سے معقول اور اپنے فنڈز سے ملنے والی پنشن صرف 11500 روپے مقرر ہے جو باعزت زندگی گزارنے والے بیمار بزرگوں کے لیے انتہائی کم ہے۔مہنگائی میں مسلسل اضافہ مگر ای او بی آئی کی صرف 11500 کی قلیل پنشن آج کے دور میں بہت ہی کم ہے۔ بزرگ پنشنرز کاکہنا ہے کہ 383 روپے روز میں راشن، کرایہ، بجلی، گیس اور ادویات کیسے ممکن ہیں۔ سرکاری اداروں کی پنشن مناسب مگر ای او بی آئی کے پنشنرز کو صرف 11500 روپے ماہانہ ملنے والوں کا حکومت احساس کرے جن کو انتہائی کم پنشن مل رہی ہے جس میں راشن پورا نہیں ہوتا وہ حکومت سے اس میں اضافے کے منتظر ہیں۔