ختم نبوت کانفرنس چناب نگر اور شاہ منصور

عقیدۂ ختم نبوت اسلام کا بنیادی، مرکزی اور روشن ترین ستون ہے جس پر پوری امتِ مسلمہ کا ایمان، اس کا فکری توازن اور اس کا وجود موقوف ہے۔


[email protected]

عقیدۂ ختم نبوت اسلام کا بنیادی، مرکزی اور روشن ترین ستون ہے جس پر پوری امتِ مسلمہ کا ایمان، اس کا فکری توازن اور اس کا وجود موقوف ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ پر نبوت و رسالت کا سلسلۂ عالیہ مکمل ہو چکا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ کی خاتم النبیین کی ذاتِ بابرکات اور آپ ﷺ پر نبوت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہونے کا اقرار ہی وہ پروانۂ نجات ہے جو مسلمان کو دائرۂ اسلام میں وابستہ رکھتا ہے۔ یہ عقیدہ محض ایک مذہبی نظریے کا نام نہیں بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، اس کی وحدت اور اس کے وجود کا اصل ضامن ہے۔ اگر نبوت کے دروازے کو کھلا تسلیم کر لیا جائے تو امتِ مسلمہ کی مرکزیت پارہ پارہ ہو جاتی ہے اور دین کا دھارا مختلف جھوٹے مدعیانِ نبوت کے پیروکاروں میں تقسیم ہو کر بکھر جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ سے لے کر آج تک، جب بھی کسی بدبخت نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا یا اس بنیادی عقیدے پر کمزوری دکھانے کی کوشش کی گئی تو امت کے بیدار مغز علماء اور مخلص فرزندانِ توحید نے ہر دور میں عظیم قربانیاں دے کر اس کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیا۔ اسی مبارک تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے زیرِ اہتمام ملک کے طول و عرض میں دینی، فکری اور اصلاحی اجتماعات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ نئی نسل کو اس مقدس عقیدے کی پاسبانی کا شعور دیا جا سکے اور باطل افکار کے خلاف ایمانی بیداری پیدا کی جا سکے۔

اسی مبارک سلسلے کی ایک انتہائی شاندار اور تاریخی کڑی عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے زیرِ اہتمام 45ویں سالانہ دو روزہ آل پاکستان ختمِ نبوت کانفرنس تھی جو 29 اور 30 اکتوبر کو مرکزِ ختمِ نبوت مسلم کالونی، چناب نگر میں تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ عظمت و وقار کے حامل اجتماع کے لیے انتظامی اور حفاظتی امور کو نہایت احسن طریقے سے تشکیل دیا گیا تھا، کانفرنس کی تمام نشستوں کی کارروائی کو سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر کرنے کا بھی خاص اہتمام کیا گیا تاکہ ملک بھر اور بیرونِ ملک موجود ختم نبوت کے کروڑوں پروانے اس دینی، علمی و ملی اجتماع کے فیوض و برکات سے مستفید ہو سکیں۔ اجتماع میں ملک بھر سے جید علمائے کرام، مشائخِ عظام، دینی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، مبلغینِ ختمِ نبوت، اربابِ علم و دانش، وکلاء، صحافیوں، ممتاز مقررین، ثنا خوانانِ رسول، طلبہ مدارس اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اور پورا چناب نگر نعرۂ تکبیر اور درود و سلام کی صداؤں سے گونجتا رہا۔

سالانہ ختمِ نبوت کانفرنس ایک اہم دینی، تحریکی، ملی و علمی اجتماع ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، دینی شعور کی بیداری، نئی نسل کی اعتقادی و فکری تربیت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی سے متعلق امور کو اجاگر کیا گیا۔ کانفرنس کے دوران توحید و ختمِ نبوت، رفع و نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، عظمتِ صحابہ کرام و اہلِ بیتِ اطہار، استحکامِ پاکستان، حرمتِ حرمین شریفین، اتحادِ امتِ مسلمہ کی موجودہ صورتِ حال سمیت اہم دینی، ملی اور قومی موضوعات پر جامع بیانات ہوئے۔ علماء نے موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے پھیلنے والے مختلف نظریات اور فکری مباحث کے تناظر میں دینی تعلیم، علمی راہنمائی اور مدلل گفتگو کی اہمیت پر زور دیا تاکہ نئی نسل میں دینی شعور، فکری پختگی اور اعتقادی آگاہی کو فروغ دیا جا سکے۔کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت امیرِ مرکزیہ پیر حافظ ناصرالدین خاکوانی، نائب امیرِ مرکزیہ صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد، خانقاہِ سراجیہ کندیاں کے سجادہ نشین صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد، مولانا محب اللہ لورالائی، خواجہ نجیب احمد اور سائیں عبدالمجیب قریشی نے کی۔

کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، ناظمِ اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان قاری محمد حنیف جالندھری، جماعتِ اسلامی کے سابق امیر سراج الحق، مولانا محمد امجد خان، مولانا اللہ وسایا، قاری اکرام الحق مردان، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن حافظ محمد امجد، متحدہ جمعیت اہلحدیث کے سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، جمعیت علمائے اسلام (س) کے مولانا عبد الحق ثانی سمیت متعدد مذہبی رہنماؤں اور مقتدر شخصیات نے خطاب کیا۔ سالانہ ختمِ نبوت کانفرنس میں شریک علمائے کرام نے اپنے بیانات میں واضح کیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور پاکستان کی سلامتی کے لیے متحد ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

مقررین نے عزم ظاہر کیا کہ ہم ارضِ حرمین، پاکستان اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے چوکیدار ہیں اور اسلام دشمن قوتیں جو عقیدۂ ختمِ نبوت کو متنازع بنانے کی کوششیں کر رہی ہیں، ماضی کی طرح ان کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے۔ اس موقع پر مقررین نے حکومت سے پُر زور مطالبہ کیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ارتداد کی شرعی سزا کا باقاعدہ اجراء اور نفاذ کا اعلان کیا جائے۔ یہ عظیم الشان کانفرنس نعرۂ تحفظِ حرمین شریفین، تکبیر، اور ’’تاج و تختِ ختمِ نبوت زندہ باد‘‘ و ’’پاکستان پائندہ باد‘‘ کے پرجوش نعروں اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے پُرسوز دعاؤں اور رقت انگیز لمحات میں اختتام پذیر ہوئی۔

چناب نگر کے اس عظیم الشان دینی و ملی اجتماع کے بعد اب اس مبارک مشن کا اگلا پڑاؤ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں شیخین کریمین اور شاہ منصور باباؒ جیسے اولیاء اللہ کے مسکن شامنصور میں ہونے جا رہا ہے، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت صوابی کے زیرِ اہتمام سہ روزہ ختمِ نبوت کانفرنس جمعہ 6 نومبر کو نمازِ جمعہ کے مبارک وقت سے باقاعدہ شروع ہوگی اور اتوار کو نمازِ ظہر کے بعد ولی کامل شیخ اعزاز الحق دامت برکاتہم العالیہ کی اختتامی دعا پر اپنے اختتام کو پہنچے گی۔ اس روحانی و فکری اجتماع کا انعقاد 120 کنال پر محیط وسیع و عریض عظیم الشان ختم نبوت مرکز شاہ منصور میں ہوگا۔ اس تاریخی اجتماع میں ملک بھر سے کم و بیش 4 لاکھ فرزندانِ توحید عقیدۂ ختمِ نبوت کی پاسبانی اور اپنے ایمانی جذبات کی تجدید کے لیے جمع ہوں گے۔

سہ روزہ ختم نبوت کانفرنس کی صدارت پیرِ طریقت رہبر شریعت حضرت اقدس مولانا شیخ اعزاز الحق شاہ منصوری دامت برکاتہم العالیہ اور سرپرستی ولی ابن ولی شیخ القرآن صاحب حق صاحب شامنصور دامت برکاتہم العالیہ کریں گے، مہمان ِ خصوصی کے طور پر عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے امیر پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی صاحب ہوں گے۔ مفتی اعظم ساؤتھ افریقہ مفتی رضا الحق صاحب دامت برکاتہم العالیہ، ولی ابن ولی شیخ المفسرین و محدثین حضرت مولانا حمداللہ جان ڈاگئی باباجی رحمہ اللہ کے علمی جانشین نوجوان عالم دین شیخ القرآن والحدیث مولانا اسداللہ جان المظہری القادری الداجوی، مجاہد ختم نبوت قاری اکرام الحق صاحب کے علاوہ ملک بھر سے جید علماء کرام اور اکابرین، شیوخِ عظام بھی کانفرنس میں شرکت کر کے شرکاء کے دلوں کو اپنے علمی و فکری خطابات سے منور کریں گے۔ سہ روزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس شامنصور عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ تزکیہ نفس کے لیے ایک روحانی و اصلاحی اجتماع بھی ہوتا ہے۔

خانقاہ شریف شاہ منصور کے متعلقین، معتقدین اور وابستگان اس کے لیے مخصوص سہ روزہ کی نیت سے شرکت کرتے ہیں اور ان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ اس کے دوران صرف بیانات اور تقاریر ہی نہیں ہوتیں بلکہ ذکر و اذکار، تسبیحات، تہجد اور مسنون اعمال پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے، تاکہ وہاں آنے والے فرزندانِ توحید نہ صرف عقائدی بیداری حاصل کریں بلکہ اپنے اندر باطنی پاکیزگی، تزکیۂ نفس اور اعمالِ صالحہ کا جذبہ لے کر لوٹیں۔ اللہ کریم اس کانفرنس کو بھی کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ آمین ثمہ آمین یا رب العالمین