افغان طالبان حکومت آنکھ کے قرنیے کی پیوندکار ی کو اسلامی شریعت کے اصولوں کے منافی سمجھتی ہے۔ آنکھوں کے امراض کے ڈاکٹروں کو طالبان حکومت نے قرنیے کی تبدیلی کے تمام آپریشن روکنے کے احکامات جاری کیے ہیں، یہ احکامات زبانی جاری ہوئے ہیں۔ طالبان حکومت کی یہ روایت رہی ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے احکامات کو زبانی طور پر نافذ کیا جاتا ہے۔ ماہر امراض چشم ڈاکٹر نورزمان ہاشم نے ایک برطانوی اخبار کو بتایا کہ اگر یہ آپریشن نہ ہوئے تو سیکڑوں ہزاروں افراد مکمل طور پر نابینا ہوجائیں گے۔
طالبان حکام اور محکمہ امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے مطابق انسانی اعضاء کی پیوندکاری اور ان کے جسم سے دوسرے جسم میں منتقل کرنا اسلامی شریعہ کے قواعد کے منافی ہے۔ افغانستان میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے احکامات کے پابند ہیں۔ امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم APNAاور پاکستانی غیر سرکاری تنظیم (NGO) ظفر میر فاؤنڈیشن کے مقامی افغان ڈاکٹروں کی تربیت کا پروگرام شروع کیا تھا اور ان دونوں تنظیموں نے مختلف ممالک سے قرنیے کے عطیات کی افغانستان تک فراہمی کا انتظام کیا تھا مگر اب یہ پروگرام جاری نہیں رہ سکے گا۔
گزشتہ صدی میں جب انسانی جانوں کو بچانے کے لیے اعضاء کی پیوندکاری کا جدید طریقہ علاج رائج ہوا تھا تو مسلمان ممالک میں ایک بے مقصد بحث شروع ہوئی تھی کہ انسانی اعضاء کی پیوندکاری اسلام میں جائز ہے یا نہیں۔ مگر عجیب صورتحال یہ ہوئی کہ یہ بحث صرف پاکستان اور بھارت میں پڑھے لکھے مسلم مذہبی طبقے نے اٹھائی ۔بہرحال کئی نامور علماء نے انسانی اعضاء کی پیوندکاری کو جائز قرار دیا۔ پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل نے انسانی اعضاء کی پیوندکاری کو جائز قرار دیا تھا تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سعودی عرب، ایران، ترکیہ اور مصر وغیرہ میں انسانی اعضاء کی پیوندکاری کو معمول کا علاج کا طریقہ سمجھا گیااور اس پر کسی قسم کا اختلاف برپا نہیں ہوا۔
ممتازسرجن ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے اسلامی ممالک کے سرجنز کو ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا۔ اس کانفرنس میں ایک سیشن صحافیوں کا ڈاکٹروں کے ساتھ بات چیت کا بھی تھا۔ اس سیشن میں جب سعودی عرب کے ایک معروف سرجن سے یہ سوال ہوا تو اس سرجن کو اعضاء کی پیوندکاری کو مذہب سے منسلک کرنے پر سخت اعتراض تھا۔ کیونکہ ڈاکٹر کو مریض کی جان بچانے کے لیے علاج کے تمام طریقے استعمال کرنے کا حق ہے۔ اس کانفرنس میں موجود ایرانی سینئر ڈاکٹر نے کہا کہ علماء کا فیصلہ ہے کہ جیومیٹری، جیومیٹری ہوتی ہے، خواہ وہ جرمنی کی ہو یا ایران کی ۔
اس کے بعد ڈاکٹروں کو مریضوں کی جان بچانے کے لیے اعضاء کی پیوند کاری کا حق ہے۔ اس وقت گردے کی پیوندکاری کے سب سے زیادہ آپریشنز سعودی عرب میں ہوتے ہیں۔ سعودی عرب میں گزشتہ سال انسانی اعضاء کی تبدیلی کے 2ہزار سے زیادہ آپریشن ہوئے۔ ان اعداد و شمار میں زندہ افراد کے انسانی اعضاء کے عطیات کے علاوہ انتقال کرجانے والے افراد کے اعضاء کے عطیات بھی شامل ہیں، اس طرح گزشتہ سال ایران میں 3ہزار 962 آپریشن ہوئے، ان میں گردے کے علاوہ جگر کی پیوندکاری کے آپریشن بھی شامل ہیں۔
پاکستان میں سرکاری طور پر اعضاء کی پیوندکاری کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں ۔ پاکستان میں آنکھوں کے قرنیے کی پیوندکاری کا آغاز 70ء کی دہائی میں ہوگیا تھا۔ اس زمانے میں معروف آنکھوں کے سرجن ایم ایچ رضوی نے یہ آپریشن شروع کیا تھا۔ ملک کے مختلف اسپتالوں میں قرنیے کی پیوندکاری ہونے لگی۔ آنکھ کے قرنیے کے عطیات سری لنکا سے بلامعاوضہ آتے ہیں۔ سری لنکا کے بدھ مت کے پیروکار یہ وصیت کرتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد آنکھیں کسی ضرورت مند کو لگادی جائیں۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے سول اسپتال کراچی کے کڈنی وارڈ میں گردہ کی پیوندکاری کے کامیاب آپریشن کیے، یوں ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی کوششوں سے یہ چھوٹا سا وارڈ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ یعنی (S.I.U.T) بن گیا۔ ایس آئی یو ٹی میں سالانہ 700 کے قریب ٹرانسپلانٹ ہوتے ہیں۔ جب سے یہاں ٹرانسپلانٹ شروع ہوئے ہیں اب تک 7ہزار سے زیادہ آپریشن ہوچکے ہیں۔
طالبان معاشرے کو دو ہزار سال پیچھے لے جانے کے خواہاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان نے جب 2021 میں کابل پر قبضہ کیا تھا ،تو علماء اور دائیںبازو کے دانشورں کا یہ بیانیہ تھا کہ اب اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد طالبان کی قیادت میں شامل ہوچکے ہیں اور افغانستان میں اقتدار میں آنے والی نئی قیادت دور حاضر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ ہے۔
اس بناء پر طالبان حکومت کی 1996 کی پالیسیوں کے مقابلے میں بہت فرق ہوگا مگر موجودہ طالبان اور 1996 میں ملاعمر کی سربراہی میں قائم ہونے والی حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ بس فرق یہ ہے کہ اب ملا ہیبت اﷲ اخوندزاہ قائد بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے حالات سے واقفیت رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ کابل پر حکومت کرنے والے لوگ قندھار شوریٰ کے فیصلوں کے پابند ہیں۔ قندھار شوریٰ اپنے رجعتی ایجنڈا پر گامزن ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پورا افغانستان بھوک کے خوفناک بحران میں مبتلا ہے۔
عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کی آبادی کا 48 فیصد سے لے کر 75 فیصد تک حصہ خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ ایک عالمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ہر صوبے میں خوراک کی کمی کا سنگین بحران ہے اور اس وقت پورے ملک میں آدھے خاندان ایسے ہیں جنھیں اتنی خوراک میسر نہیں آتی کہ وہ دن بھر کا گزارا کرسکیں۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 48 سے 52.9 فیصد تک آبادی خط ِ غربت کے نیچے زندگی گزاررہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام اور Food and Agriculture Organization (F.A.O) کل 19.2 ملین افراد کو خوراک فراہم کرتی ہے جب کہ 15.9 ملین افراد افغان باشندے بھوک کی کمی کا شکار ہیں۔ 3.4 ملین افراد غذا کی شدید قلت کا شکار ہیں اور وہ خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ یہی حالات ہیں کہ ایک ہزار نوزائیدہ بچوں میں سے 41.2 فیصد بچے پیدائش کے فورا بعد انتقال کرجاتے ہیں۔ افغانستان میں یہ شرح پڑوسی ممالک کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے۔ افغانستان میں خواندگی کا تناسب 37.3 فیصد ہے۔ 70 فیصد کے قریب آبادی آج کے دور میں ناخواندہ ہے۔
جیوپولوٹیکل تبدیلیوں کی بناء پر بھارت، روس اور چین طالبان کی حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔ بھارت نے افغانستان میں اسپتال اور سڑکیں بنائی ہیں۔ روس نے کئی ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں جب کہ چین نے اپنے صوبہ Shandongسے ہرات، مزار شریف تک 400 کلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر کی ہے ۔ اس ریلوے لائن سے وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت کو فروغ ملنے کے امکانات بڑھے ہیں۔ روس اور چین افغانستان میں امریکی موجودگی کو روکنے کے لیے اور بھارت پاکستان کے خلاف نیا محاذ کھولنے کے لیے افغانستان کو امداد دینا شروع کی ہے۔
روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے۔ یہ تینوں ممالک اپنے مخصوص مقاصد کے لیے طالبان حکومت کو سہارا دینے کی کوشش کررہے ہیں مگر اس امداد سے طالبان کی رجعت پسند حکومت بظاہر مضبوط ہورہی ہے مگر طالبان حکومت کے رجعت پسند پالیسیاں افغانستان میں ایک نیا بحران پیدا کررہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کابل کی حکومت، کالعدم ٹی ٹی پی کی بھرپور حمایت کررہی ہے اور ٹی ٹی پی خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کررہی ہے ۔ طالبان کی انتہاپسند پالیسیوں کی بناء پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان پر متعدد نوعیت کی اقتصادی پابندیاں عائد کررکھی ہیں مگر روس، چین اور بھارت افغانستان میںطالبان حکومت کو بچانے کی کوشش کررہی ہیں۔ خطے میں قیام امن، دہشت گردی کے خاتمے، خواتین اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے افغانستان کی طالبان حکومت کا مکمل اقتصادی بائیکاٹ ہونا چاہیے طالبان کی رجعت پسند پالیسیوں کی دنیا بھر کے ہر فورم میں مذمت ہونی چاہیے۔