کچھ لوگوں کے تحفّظات بھی ہوں گے، مگر اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ اکثر وائس چانسلرز سے کہیں زیادہ موثر، مستعد اور بہتر منتظم ہیں۔ وہ اور ان کی ٹیم اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں پنجاب یونیورسٹی میں ایک بھرپور اور کامیاب کتاب میلہ منعقد کرنے پر مبارکباد کی مستحق ہے۔ دوسری یونیورسٹیوں اور کالجوں کو بھی اس طرح کے کتاب میلے منعقد کرنے میں ان کی پیروی کرنی چاہیے۔
2026 میں شائع ہونے والی میری تصانیف کے پبلشر سنگِ میل پبلیکیشنز کے علی کامران کی خواہش تھی کہ پنجاب یونیورسٹی بک فیئر کے تین دنوں میں سے ایک روز کچھ دیر کے لیے میں ان کے اسٹال پر جاؤں کیونکہ بہت سے لوگ مصنّف سے ملنا اور کتاب پر دستخط کروانا چاہتے ہیں، چنانچہ ان کے ساتھ طے ہوگیا کہ میں آخری روز یعنی 17 اکتوبر کو ایک گھنٹے کے لیے ان کے اسٹال پر رہوں گا۔
اس دوران پنجاب یونیورسٹی کے آئی ای آر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر عبدالقیوم چوہدری نے فون پر بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی میں میری تازہ تصانیف کی تقریب پذیرائی بھی 17 اکتوبر کو منعقد ہوگی، جس کی صدارت وائس چانسلر کریں گے۔ انھوں نے کتاب میلے میں شرکت کی بھی دعوت دی اور ساتھ ہی پیشکش کردی کہ اس بار آپ پنجاب یونیورسٹی کے مہمان بنیں اور یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں ہی قیام کریں۔ میں نے ان کی دونوں پیشکشیں شکرئیے کے ساتھ قبول کرلیں۔ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میں دوسری جامعات کے وائس چانسلرز، پروفیسر صاحبان اور گیسٹ اسپیکرز آکر ٹھہرتے ہیں اس لیے اس کا معیار ہر لحاظ سے بہت بہتر ہونا چاہیے، مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ رہائشی کمروں اور باتھ رومز کے حالات بڑے دگرگوں ہیں، انھیں بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ہمارے زوال کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم بحیثتِ قوم نہ تعلیم کو اہمیّت دیتے ہیں اور نہ استاد کو عزّت۔ ہمارے حکمرانوں نے تمام تر مراعات اور اختیارات بے ہنر بیوروکریسی کی جھولی میں ڈال دیے ہیں، خزانے کی چابی بھی انھی کے حوالے ہے، وہ چاہیں تو اپنے دفتروں کو سیون اسٹار ہوٹل بنادیں اور اپنے ریسٹ ہاؤسز کو محلّات میں بدل دیں، اور وہ ایسا ہی کررہے ہیں۔ سنا ہے کہ لاہور کے جی او آر میں واقع افسروں کے ریسٹ ہاؤس کی تزئین وآزائش پر ساٹھ ستر کروڑ روپے سے بھی زیادہ لگادیے گئے ہیں، پنجاب حکومت کو چاہیے کہ پنجاب یونیورسٹی کے لیے بھی کچھ فنڈز مختص کریں، اساتذہ کا ریسٹ ہاؤس بھی اُن کے شایانِ شان ہونا چاہیے۔
یونیورسٹی کے وحید شہید ہال میں تصانیف کی تقریب کا وقت دو بجے رکھا گیا تھا، وائس چانسلر صاحب کے علاوہ کتابوں پر گفتگو کرنے والے مقرّرین میں ممتاز ماہرِ اقبالیات اور شعبۂ اردو کی سربراہ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین اور یونیورسٹی لاء کالج کے پرنسپل ڈاکٹر امان اللہ کے علاوہ سابق وفاقی سیکریٹری شمائل اخمد خواجہ اور سابق سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق احمد بھی شامل تھے، پانچویں مقرّر پنجاب اسٹوڈنٹس یونین کے سابق نائب صدر اور اپنے وقت کے سب سے بڑے مقرّر سیّد تنویر عباس تابش تھے، جن کی خطابت سے کبھی جامعہ پنجاب کے درودیوار گونجا کرتے تھے۔
، اُس روز انھوں نے مختصر تقریر کی مگر حاضرین ان کے دلنشین لب ولہجے، موثر ادائیگی، آواز کے زیر وبم اور بر محل اشعار سے مزّین خطاب سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ مصنف جس لاء کالج میں زیر تعلیم رہا تھا، ڈاکٹر امان اللہ اسی یونیورسٹی لاء کالج کے سربراہ ہیں، انھوں نے میری خودنوشت ’’جہدِ مسلسل‘‘ میں لاء کالج کے زمانۂ طالب علمی کے بارے میں تحریر کردہ واقعات پر گفتگو کی اور اُس وقت کے پرنسپل شیخ امتیاز علی صاحب مرحوم کی گوناگوں خوبیوں کے باعث ان کے ساتھ میری غیر معمولی عقیدت کا خاص طور پر ذکر کیا۔ لاہور پولیس کے سابق سربراہ چوہدری شفیق چونکہ مصنف کے ساتھ کام کر چکے تھے، اس لیے انھوں نے صاحبِ کتاب کے کردار پر فوکس کیا اور کہا کہ مصنف کی تحریر میں اس لیے اثر ہے اور ان کی کتابیں اس لیے زیادہ مقبول ہوئی ہیں کہ لوگ جانتے ہیں کہ لکھنے والے کا کردار ہر قسم کے داغ دھبوں سے پاک ہے، اور اس نے جو لکھا ہے پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا ہے۔
نیک نام بیوروکریٹ اور سابق وفاقی سیکریٹری شمائل احمد نے میری کتاب ’’سمجھتا ہوں جسے حق‘‘ (جسے قلم فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے) پر بڑی سیر حاصل گفتگو کی، انھوں نے کہا کہ یہ کتاب صرف مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ مصنف کے نصف صدی پر محیط فکری سفر کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنف کے کردار اور تحریر کی روانی اور شگفتگی کے باعث ان کی کتابوں کو بہت پذیرائی ملی ہے۔ انھوں نے تجویز کیا کہ کتاب کے کئی آرٹیکلز سول سروسز کے تربیتی اداروں میں ضرور پڑھائے جانے چاہئیں۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے اپنی گفتگو میں ’’افکارِ تازہ‘‘ کے ہر پہلو کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی دستا ویز ہے جو پاکستان کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کا حل بھی بتاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ والدہ کی یاد میں ذوالفقار چیمہ کا مضمون ’’ماں‘‘ پر لکھے گئے دنیا کے دس بہترین مضامین میں شمار کیا جائے گا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ صاحب نے کہا کہ میں نے بہت سے بیوروکریٹوں کی تصانیف کا مطالعہ کیا ہے مگر ذوالفقار چیمہ صاحب کا انداز سب سے منفرد اور پیغام بھی سب سے واضح اور موثر ہے۔ حضرت سلطان باہوؒ کے صوفیانہ اشعار نے شاہ صاحب کی تقریر کو چار چاند لگادیے۔ یونیورسٹی کے نوجوان طالب علم محمد عدیل نے نظامت کے کے فرائض بخوبی نبھائے۔
اس تقریب سے فارغ ہوکر میں ساڑھے چار بجے قلم فاؤنڈیشن کے اسٹال پر پہنچا، علامہ عبدالستار عاصم اور فاروق عزمی صاحب کی جوڑی،اچھی کتابوں کی اشاعت اور علم کے فروغ کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ وہاں کچھ کتابوں پر دستخط کرنے کے بعد میں سنگِ میل کے اسٹال پر آگیا جہاں طلباو طالبات اور خواتین وحضرات مسلسل دستخط کرواتے اور تصویریں بنواتے رہے۔ دو خریداروں کا میں خاص طور پر ذکر کروں گا۔ ایک صاحب نے ’’جہدِ مسلسل‘‘ پر میرے دستخط کروانے کے بعد پوچھا،آپ نے مجھے پہچانا ہے؟ میں نے ناں میں جواب دیا تو کہنے لگے’’یاد کریں 1990 میں جب آپ ایس پی سٹی تھے تو نہر پر آپ کی جیپ کے ساتھ ایک شخص ٹکرا کر بے ہوش ہوگیا تھا۔
آپ اس بے سہارا شخص کو اپنی جیپ میں ڈال کر شیخ زید اسپتال لے گئے تھے اور اسپتال بھی اسے ملنے جاتے رہے‘‘۔ میں نے کہا بالکل مجھے پینتیس سال پرانا واقعہ یاد آگیا ہے، مگر آپ؟ اجنبی کہنے لگا ’’وہ زخمی میں ہی تھا۔ آپ کی بروقت کاروائی سے مجھے دوبارہ زندگی مل گئی‘‘ میں نے اسے گلے لگالیا۔ مجھے اس وقت کے زخمی اقبال رضا کو دیکھ کر اور مل کر بے پناہ خوشی ہوئی۔
ایک طالبہ اسٹال پر آئی اور کہنے لگی ’’میری امی نے مجھے کتابیں خریدنے کے لیے صرف پانچ سو روپے دیے تھے، میں آپ کی کتاب خریدنا چاہتی ہوں مگر میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں نے کہا ’’بیٹی آپ پیسوں کی فکر نہ کریں، اس طالبہ کو کتاب تحفے میں پیش کی گئی۔ میں وہاں ایک گھنٹے کے لیے گیا تھا مگر کتابوں پر دستخط کرتے ہوئے وقت کا پتہ ہی نہ چلا، جب آخری کتاب بھی نکل گئی تو رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ دوسرے روز سنگِ میل والوں کی فیس بک پر لکھا تھا ’’پنجاب یونیورسٹی کے تین روزہ کتاب میلے میں ہماری سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ذوالفقار احمد چیمہ کی خودنوشت ’جہدِمسلسل‘ رہی ہے۔ ہم مصنّف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں‘‘۔
(جاری ہے)