سندھ کی آدھی آبادی غربت کا شکار، سائیں سرکار کیلیے5 ارب مختص

صوبے کے عوام صحت، تعلیم،مناسب خوراک اوربنیادی سہولیات سے محروم، یو این ڈی پی


رزاق ابڑو November 03, 2026

کراچی:

سندھ میں آدھی سے زیادہ آبادی غربت کاشکار ہے، خراب معاشی حالات کی وجہ سے صوبے میں آئے دن انفرادی اور اجتماعی خودکشی کے واقعات رونما ہورہے ہیں، اس کے باوجودصوبے کے منتخب عوامی نمائندے اور ان کے ماتحت افسران اپنے اخراجات کم کرنے کیلیے تیار نہیں ہیں۔

رواں مالی سال میں صرف سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ،منتخب اراکین، صوبائی وزرا اور معاون خصوصی کے اخراجات پر تقریباً 5 ارب روپے کی بھاری رقم رکھی گئی ہے۔

اس سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ سندھ اسمبلی ان چند بااثر سرکاری محکموں میں شامل ہے جن کے اکائونٹس کی آڈٹ نہیں ہوتی، یا پھر انھیں پبلک اکائونٹس کمیٹی میں اسے زیر بحث نہیں لایاجاتا۔

یو این ڈی پی کی 2026 میں جاری کردہ گلوبل ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس کے مطابق صوبہ سندھ میں آدھی سے زیادہ آبادی کثیرالجہتی (ملٹی ڈائمینشنل) غربت میں زندگی گزاررہی ہے جوصحت، تعلیم، مناسب خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے.

جبکہ حکومت سندھ کے محکمہ پلاننگ اینڈڈیولپمنٹ کی جانب سے مرتب کردہ ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی اینڈیکس کے مطابق صوبے میں غربت کی شکار 71 فیصد سے زائد آبادی کاتعلق دیہی سندھ سے ہے۔

حکومت سندھ نے رواں مالی سال میں سندھ اسمبلی کیلیے 84۔2 ارب روپے مختص کیے ہیں، جن میں 31۔1 ارب روپے نان سیلری بجٹ شامل ہے، یعنی ایک ارب روپے سے زائد رقم دیگر اخراجات کیلیے دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق سال 26-2025 کے دوران سندھ اسمبلی کا ٹوٹل بجٹ 815 ملین مختص کیاگیا، لیکن اخراجات 1251 ملین ہوئے، یعنی 431 ملین روپے اضافی خرچ کیے گئے۔

ان رقوم میں صوبائی وزرااور معاون خصوصی کے اخراجات شامل نہیں ہے، ان کیلیے حکومت سندھ نے محکمہ سروسز اینڈجنرل ایڈمنسٹریشن کے بجٹ میں الگ سے766 ملین روپے رکھے ہیں۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی،صوبائی وزرااور افسران کے پروٹوکول کیلیے اضافی 231 ملین روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق سندھ اسمبلی نے گزشتہ چار سال کے دوران 128 ملین روپے صرف 'انٹرٹینمنٹ' کی مدمیںخرچ کر دیے ہیں۔

سندھ اسمبلی کے بھاری اخراجات کاسبب معلوم کرنے کیلیے ایکسپریس ٹریبیون کی جانب سے سندھ اسمبلی کے سیکریٹری جی ایم عمر فاروق سے رابطہ کیاگیا لیکن انہوں نے کوئی جواب دیناضروری نہیں سمجھا۔

اسی طرح سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سیکریٹری حسن شاہ سے رابطہ کر کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ کیا وجہ ہے کہ کمیٹی نے ابھی تک سندھ اسمبلی اور دیگر بااثرسرکاری محکموں کے اکائونٹس کی آڈٹ رپورٹس کوزیر بحث نہیں لائی ہے، لیکن انہوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔