حکومت کا ایل پی جی میں صوابدیدی کوٹہ ختم کرنےاور مسابقتی درآمد کھولنے کا اعلان

ایل پی جی مارکیٹ میں شرارتی لوگوں نے فائدہ اٹھایا،800 روپے کلو فروخت کی


ضیغم نقوی November 03, 2026

اسلام آباد:

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں لیکوڈ پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمد کو مسابقت کی بنیاد پر کھولا جائے گا اور ایل پی جی کوٹہ سسٹم ختم کر دیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اورکہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں ہیں جس کے اثرات عوام کو ریلیف کی صورت میں منتقل کیے جائیں گے۔

وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ایل پی جی سیکٹر کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسابقت کو فروغ دیا جائے، چند افراد کی اجارہ داری اور طویل عرصے سے رائج صوابدیدی کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے۔ وزیر اعظم نے اس پورے کراسسز میں عوام کو ترجیح دی اور تیل کی قیمتوں میں سبسڈی دی گئی۔

وزیر اعظم نے عوام کی آسانی کے لیے بڑا فیصلہ کیا، ایل پی جی سیکٹر میں اب مقابلہ ہوگا۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ آئل ریفائنریوں کا منافع عوام کو منتقل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی سیکٹر کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسابقت کو فروغ دیا جائے، چند افراد کی اجارہ داری اور طویل عرصے سے رائج صوابدیدی کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا وزیراعظم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کئے۔ ان اقدامات میں وزیراعظم کی عوام کے لیے فکر، احساس اور ریلیف فراہم کرنے کا عزم نمایاں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایل پی جی سیکٹر میں مسابقت کا فروغ ایک تاریخی اقدام ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مشکل ترین حالات میں بھی عوام کو تنہا ئنہیں چھوڑا، سٹرکچرل ریفارمز کیں اور نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کیے۔

اوگرا نے اپنی ویب سائٹ پر تمام تفصیلات شائع کرنا شروع کر دی ہیں جو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ شوگر سیکٹر نے پہلی مرتبہ ٹیکس کی مد میں 60 ارب روپے کا اضافی ریونیو جمع کرایا۔

یہ اقدامات مجموعی طور پر اصلاحات کا حصہ ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے سردیوں میں گیس کی فراہمی کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنے اور تمام وزراء کو ریلیف کے عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے جس پر عمل جاری ہے۔

پٹرولیم لیوی کے معاملے پر وزیراعظم نے خصوصی کاوشیں کیں اور مشکل ترین حالات میں عارضی طور پر اس میں کمی بھی کی گئی۔

جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ وہ اپنی تجاویز اور ممکنہ حل پیش کریں اور تکنیکی بنیادوں پر رہنمائی فراہم کریں، جہاں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی گنجائش ہوگی، وہاں ضرور اقدامات کیے جائیں گے تاہم اس حوالے سے پہلے ہی کافی کام جاری ہے۔

گلگت بلتستان وفاقی حکومت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور وزیراعظم نے اس حوالے سے جائزہ اجلاس بھی منعقد کیا۔ گلگت بلتستان میں سہولیات کی فراہمی کے لیے 100 میگاواٹ کے پاور پراجیکٹ اور سولر پینلز کی فراہمی سمیت متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں دانش سکولز قائم کیے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان وفاقی حکومت کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے اور وہاں پیش آنے والے واقعے کی بھرپور تحقیقات جاری ہیں۔

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا خطے کی صورتحال کی وجہ سے دنیا مشکل وقت گزر رہی ہے،آج پوری دنیا پر مشکل وقت ہے،وزیراعظم کی ہدایات واضح ہیں کہ کمزور طبقے کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے ۔

جمعہ کو پٹرول کی قیمتوں کو ریفائنریوں کی مدد سے بڑھنے سے روکا گیا،عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچائیں گے،اپنی معاشی صورتحال کے پیش نظر عوامی ریلیف کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے۔

ملک میں ایک کروڑ گیس کے کنکشن ہے، جہاں پر پائپ گیس نہیں ہے وہاں پر لوگ ایل پی جی استعمال کرتے ہیں،عوام کوریلیف سکیم کے تحت 130ارب روپے کی سبسڈی دی گئی،چند عناصر نے ایل پی جی گیس کے نرخوں کے حوالے سے منافع خوری کرنے کی کوشش کی ،ایل پی جی کی مقامی طور پر 2ہزار سے 2500ٹن پیداوار ہے۔

خطے میں چیلنجز کے باعث ایل این جی کی درآمد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں،انرجی سکیورٹی سے متعلق اپنے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنا رہے ہیں،ایندھن کی 70فیصد ضروریات درآمد کرتے ہیں۔

ایل پی جی کاہارڈ ایریا کے کوٹے کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا۔ تیل کی طرح گیس میں بھی کمزور طبقے کو ریلیف کی فراہمی کے لییاقدامات اٹھا رہے ہیں۔

گیس کے شعبے میں ریلیف کی فراہمی کے لیے بی آئی ایس پی سے مدد لیں گے۔ علی پرویز ملک نے کہا سردیوں میں گیس کی فراہمی کے لیے حکمت عملی پر کام کررہے ہیں اور پوری کوشش ہے کہ سردیوں میں عوام کو مناسب قیمت پر گیس کی فراہمی ممکن بنائیں۔

وفاقی وزیرپیٹرولیم نے کہا کہ مسابقتی عمل کے ذریعے سستے ایندھن کی درآمد حکومت کی ترجیح ہے۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ ایل پی جی مارکیٹ میں شرارتی لوگوں نے فائدہ اٹھایا، ملک کے مختلف شہروں میں 800 روپے فی کلو تک ایل پی جی کی شکایت آرہی ہیں۔

جو بھی کمپنی جس نرخ پر ایل پی جی لائے گی وہ اپنے ویب سائٹ پر لگائے گی۔ مقامی کمپنیوں کو کہا جائے گا کہ وہ پانچ یا 10 ٹن کی لاٹ بنا کر اس کی نیلامی کریں اور نیلامی کے ان نتائج کو شائع کیا جائے گا۔ علی پرویز نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کی اس وقت کل مانگ 24 لاکھ ٹن ماہانہ کے قریب ہے جو کہ روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے چھ، سات ہزار ٹن بنتی ہے۔