سپر ٹیکس کا بتدریج خاتمہ کیا جائے گا، چیئرمین ایف بی آر

صنعت کار اور تاجربرادری ٹیکس چوری کرنے والے عناصر کی نشان دہی اور اس کے خاتمے کے لیے تعاون کریں، راشد محمود لنگڑیال


احتشام مفتی November 04, 2026
فوٹو فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نےکہا ہے کہ حکومت سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، ابتدائی طور پر اس کی شرح میں دو فیصد کمی کی گئی اور اب بتدریج خاتمے کے لیے کام شروع کیا جا چکا ہے۔

کراچی میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) کے دورے کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا کے صنعت کاروں کے ٹیکس مسائل کے لیے کاٹی میں دفتر قائم کیا جائے گا اور خام مال کی درآمد میں موجود خامیاں دور کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ہیلپ ڈیسک کا دائرہ کار کراچی سے وسیع کرکے سکھر تک کیا جائے گا۔

راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ لیدر انڈسٹری کے لیے بارڈر ٹریڈ میں مسائل کے حل کے لیے اجلاس منعقد کیے جائیں گے، ایف بی آر کا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم فعال کرنے کے لیے فارما انڈسٹری سے ڈریپ کے ماڈل پر عمل درآمد کا مقصد ٹیکس نظام کو بہتر بنانا اور بزنس کمیونٹی کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے صنعت کاروں اور تاجربرادری پر زور دیا کہ وہ ٹیکس چوری کرنے والے عناصر کی نشان دہی اور اس کے خاتمے کے لیے ایف بی آر کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ٹیکس نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

چیئرمین ایف بی آر نے تقریب میں مختلف شعبوں سے وابستہ  صنعت کاروں کے مسائل سنے اور موقع پر ہی ان کے حل کے لیے ہدایت جاری کیں۔

قبل ازیں کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے معیشت کو بہتر بنانے اور صنعت کاروں کی مشکلات دور کرنے کے لیے چیئرمین ایف بی آر کو ہر ماہ کراچی آنے کی تاکید کی، چیئرمین ایف بی آر کی طرز پر وفاقی کابینہ اور وزرا کراچی میں وقت دیں تو پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی مثبت پالیسیوں، فیس لیس نظام اور ڈیجیٹلائزیشن کے مؤثر نفاذ سے نہ صرف ٹیکس نیٹ اور وصولیوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ حکومت کا 100ارب روپے کا  برآمدی ہدف بھی جلد حاصل کرنا ممکن ہے۔

کاٹی کے صدر نے کہا کہ خام مال کی برآمدات سے متعلق ٹیکس مسائل کے حل کے لیے بھی خصوصی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ صنعت کاروں کو درپیش ایک اہم مسئلہ ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر ہے، برآمدی صنعتوں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے اداروں کے اربوں روپے ریفنڈز کی صورت میں ایف بی آر کے پاس طویل عرصے تک التوا کا شکار ہیں، یہ رقم دراصل صنعت کاروں کا ورکنگ کیپیٹل ہے۔

شیخ عمر ریحان کا کہنا تھا کہ ریفنڈز کی ادائیگی کے لیے مقررہ مدت پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، حقیقی اور تصدیق شدہ ریفنڈز کی خودکار ادائیگی کا نظام مؤثر بنایا جائے اور غیر ضروری آڈٹ یا دستاویزی کارروائی کے نام پر جائز ریفنڈز نہیں روکے جائیں۔