اسلام آباد:
نیب اسلام آباد اور راولپنڈی کی ارتھ لنک ڈویلپمنٹس انکوائری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس میں عوام سے مبینہ دھوکا دہی کے ذریعے اربوں روپے بٹورنے کے الزام میں ملزم محمد مبشر حیات کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
نیب کے مطابق ملزم محمد مبشر حیات کو 2 نومبر 2026 کو گرفتار کیا گیا۔ احتساب عدالت نے ملزم کا مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ نیب کے حوالے کردیا ہے۔
مقدمے کے مطابق ارتھ لنک ڈویلپمنٹس کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر عوام سے بھاری رقوم وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
نیب تحقیقات کی زد میں آنے والے منصوبوں میں دی گرینڈ پیراڈائز، دی گرینڈ ہوٹل، دی لیف، دی پیانو اور ارتھ لنک ٹاورز سمیت مختلف منصوبے شامل ہیں۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2020 سے 2025 کے دوران سرمایہ کاری کے معاہدوں کے ذریعے عوام سے خطیر رقوم وصول کی گئیں۔
نیب کو متاثرین کی جانب سے 270 سے زائد کلیمز موصول ہوئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 2 ارب 80 کروڑ روپے ہے۔ نیب کے مطابق متاثرین کو بیانات قلمبند کرانے اور کلیمز کی تصدیق کے لیے طلب کیا جا رہا ہے تاکہ موصول ہونے والے دعوؤں کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔
نیب کے مطابق ملزم کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں شامل کرلیا گیا ہے، جب کہ مختلف علاقوں میں واقع جائیدادیں بھی منجمد کردی گئی ہیں۔ مبینہ خوردبرد کی گئی رقوم کا سراغ لگانے اور دیگر ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
نیب کا کہنا ہے کہ ادارہ عوام کے مفادات کے تحفظ اور تحقیقات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔