نیتن یاہو کے دھاندلی کے الزامات مسترد، اسرائیلی انتخابی کمیشن نے بڑا فیصلہ سنا دیا

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع کردی


ویب ڈیسک November 05, 2026

اسرائیل کے انتخابی کمیشن نے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کی جماعت لیکوڈ کی جانب سے عرب جماعتوں پر انتخابی دھاندلی اور غیر ملکی مداخلت کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ 9 ہزار 69 پولنگ اسٹیشنز کے جائزے میں انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور اعلان کردہ نتائج ووٹروں کی رائے کی درست عکاسی کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بدھ کو 27 اکتوبر کے انتخابات کے سرکاری نتائج وصول کرنے کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع کردی۔ انہوں نے کسی واضح فاتح کی عدم موجودگی کے پیش نظر سیاسی سمجھوتے، نئے خیالات اور تعاون پر زور دیا، تاکہ ملک کو ایک اور انتخابی عمل سے بچایا جاسکے۔

انتخابی کمیشن کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیا گیا، تاہم ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جس سے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھتا ہو۔ کمیشن نے نتائج کی منظوری کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں 15 ارکان نے حمایت، دو نے مخالفت جبکہ 14 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

نیتن یاہو نے انتخابی مہم اور اس کے بعد عرب اکثریتی جماعتوں پر دھاندلی اور غیر ملکی مالی معاونت کے الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے انتخابی روز نقد رقم کے لفافوں کے ساتھ بعض افراد کی گرفتاریوں کا حوالہ بھی دیا اور دعویٰ کیا کہ ارکان پارلیمنٹ کو قطر سے رقم ملی۔

تاہم انتخابی کمیشن کی تحقیقات میں ان الزامات کی تصدیق کرنے والا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اسرائیلی اٹارنی جنرل گالی بہاراوی میارا نے بھی کہا ہے کہ شواہد کے بغیر کسی سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔

صدر اسحاق ہرزوگ نے عرب اقلیت کے خلاف نسل پرستانہ اور توہین آمیز زبان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل میں کسی بھی برادری کے خلاف ایسے رویے کی گنجائش نہیں۔ عرب اقلیت ملک کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہے اور حالیہ انتخابات میں اس کی نمائندہ جماعتوں کی پارلیمانی نشستوں میں اضافہ ہوا ہے۔

120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں، تاہم کسی بھی انتخابی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ نیتن یاہو کے بلاک کو 53 جبکہ ان کے حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملی ہیں۔

عرب جماعتوں کی 19 نشستیں حکومت سازی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔ عرب اکثریتی جماعت یونائیٹڈ عرب لسٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ نئی حکومت بنانے کے لیے آئزن کوٹ کی حمایت کی سفارش کرے گی۔ تاہم اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کو عرب جماعتوں کے ارکان کی حمایت پر تحفظات بھی ہیں۔

صدر ہرزوگ ابتدائی طور پر دو روز تک سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد جس امیدوار کو حکومت بنانے کا موقع دیا جائے گا، اسے کابینہ تشکیل دینے کے لیے 28 دن ملیں گے، جس میں مزید 14 دن کی توسیع بھی ممکن ہے۔ اگر یہ کوشش ناکام ہوئی تو کسی دوسرے امیدوار کو موقع دیا جاسکتا ہے، بصورت دیگر ملک میں دوبارہ انتخابات کا راستہ کھل سکتا ہے۔