پشاور ہائیکورٹ نے تمباکو کے سبز پتوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ جاری کردیا۔
فیصلہ جسٹس سید ارشد علی نے تحریر کیا ہے، درخواست گزار کی جانب سے اشتیاق احمد سینئر، حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پیش ہوئے، عدالت نے سبز پتوں اور ہاتھ سے تیار کردہ تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی غیر قانونی قرار دے دی۔
عدالت نے درخواست گزار کمپنی کا 3 ہزار 375 کلو گرام تمباکو چھوڑنے کا بھی دے دیا، پشاور۔ جی ایل ٹی یونٹ میں پراسیسنگ کے بغیر تمباکو پر ایکسازئز ڈیوٹی عائد نہیں کی جاسکتی، جب تک گرین لیف تھریشنگ یونٹ کے ذریعے پراسس کرکے تیار شدہ شکل میں تبدیل نہیں کیا جاتا اس وقت ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں کی جاسکتی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہاتھ سے تمباکو کے پتے اور ڈنٹھل الگ کرنے کے عمل میں خواہ اس کے لیے آلات مشینری ہی کیوں استعمال کی جائے خود مینوفیکچرنگ کا عمل تصور نہیں ہوگا، درخواست گزار کمپنی کو ضبط شدہ تمباکو، گاڑی،آلات اور ریکارڈ واپس کیا جائے، درخواست گزار کمپنی کی سیل شدہ عمارت اور مشینری کو فوری دی سی کیا جائے۔