معروف اداکارہ حنا بیات خواجہ نے خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات سے متعلق اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اوقات مکمل پردے میں موجود خواتین کو زیادہ ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سینئر اداکارہ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں، شخصیت اور سماجی معاملات پر واضح گفتگو کے باعث جانی جاتی ہیں۔ وہ اپنے کریئر کے آغاز میں میزبانی بھی کرتی رہی ہیں اور مختلف سماجی مسائل کو اجاگر کرنے والے پروگراموں کا حصہ رہی ہیں۔
حنا بیات نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایک سماجی تجربے کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق دو لڑکیوں کو عام دیسی لباس میں ایک بازار سے گزارا گیا۔ کچھ لوگوں نے انہیں دیکھا، لیکن کسی نے کوئی نامناسب حرکت نہیں کی۔
اداکارہ کے مطابق بعد میں انہی لڑکیوں کو دوپٹے کے ساتھ بازار میں بھیجا گیا تو انہیں بعض لوگوں کی جانب سے نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ جب وہ مکمل حجاب میں وہاں گئیں تو انہیں چھیڑا گیا۔ حنا بیات نے کہا کہ یہ تجربہ ان کے لیے بھی حیران کن تھا۔ ان کے بقول اس مشاہدے سے یہ تاثر سامنے آیا کہ بعض مرد مکمل پردے میں موجود خاتون کو خود کا دفاع کرنے سے قاصر سمجھتے ہیں، جبکہ سادہ اور باوقار لباس میں پراعتماد نظر آنے والی خواتین کو زیادہ مضبوط تصور کرتے ہیں۔
اداکارہ کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی آرا تقسیم ہوگئیں۔ بعض نے ان کی بات کو مذہبی نقطۂ نظر سے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پردے کا فیصلہ اللہ کی جانب سے ہے، جبکہ دیگر صارفین نے ان کے تجربے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہراسانی کے واقعات میں خواتین کا اعتماد بھی ایک اہم پہلو ہوسکتا ہے۔ بعض افراد نے اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے اداکارہ کی بات کی تائید کی۔