توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے درمیان امریکی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل نے ایک غیر معمولی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت خلا میں بڑے آئینے نصب کرکے سورج غروب ہونے کے بعد بھی زمین کے مخصوص علاقوں تک روشنی پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ منصوبہ سائنسی حلقوں میں دلچسپی کا باعث بننے کے ساتھ ماہرینِ فلکیات اور ماحولیات کے خدشات بھی بڑھا رہا ہے۔
سائنسی جریدے ’دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کیلیفورنیا میں قائم کمپنی ایسے آئینے خلا میں بھیجنا چاہتی ہے جو سورج کی روشنی منعکس کرکے رات کے وقت زمین پر منتخب مقامات تک پہنچائیں۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نے راکٹ تیار کرنے والی فرم اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے ساتھ دو راکٹ لانچ کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے شمسی توانائی کے منصوبوں کو زیادہ دیر تک بجلی پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں روشنی پہنچانے اور امدادی سرگرمیوں کے دوران بھی اسے استعمال کرنے کے امکانات ہیں۔
منصوبے کے تحت تقریباً 18 بائی 18 میٹر کے آئینے زمین کے نچلے مدار میں نصب کیے جائیں گے۔ ان کی پوزیشن اس انداز میں تبدیل کی جاسکے گی کہ سورج کی روشنی منعکس ہوکر زمین کے مطلوبہ مقامات تک پہنچے۔ ابتدائی تجربے میں آئینوں سے تقریباً پانچ کلومیٹر چوڑے علاقے کو روشنی فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ روشنی کو مخصوص مقام پر برقرار رکھنے کے لیے آئینوں کی پوزیشن مسلسل تبدیل کرنا ہوگی۔
اس منصوبے کا پہلا تجربہ 2027 کی دوسری سہ ماہی میں متوقع ہے، جس کے لیے ’ایئرینڈل ون‘ نامی سیٹلائٹ استعمال کی جائے گی۔
2035 تک 50 ہزار سیٹلائٹس کا نیٹ ورک بنانے کا ہدف
ریفلیکٹ آربیٹل کا منصوبہ چند آئینوں تک محدود نہیں۔ کمپنی کا ہدف 2035 تک خلا میں 50 ہزار سیٹلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔ کمپنی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ان آئینوں سے منعکس ہونے والی روشنی چاندنی کے برابر ہوگی، تاہم سیٹلائٹس کی تعداد بڑھنے کے ساتھ روشنی کی شدت اور دورانیے میں اضافہ کیا جاسکے گا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین موبائل ایپ کے ذریعے مطلوبہ جگہ کا انتخاب کرکے وہاں روشنی پہنچانے کی درخواست دے سکیں گے۔ اس طرح سورج کی روشنی کو ضرورت کے مطابق استعمال کی جانے والی سروس بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
تاہم اس منصوبے کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگست 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں جائزہ لیا گیا کہ خلا سے آنے والی منعکس شدہ روشنی زمین کی فضا سے گزرنے کے بعد کس طرح پھیل سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق فضا میں موجود گیسوں کے مالیکیولز اور گردوغبار کے ذرات روشنی کو مختلف سمتوں میں بکھیر سکتے ہیں۔ زمین پر پہنچنے والی روشنی بھی فضا کی جانب منعکس ہوکر مزید پھیل سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ روشنی صرف اسی مقام تک محدود نہیں رہے گی جہاں اسے پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا ہو، بلکہ اطراف کے علاقوں میں بھی پھیل سکتی ہے۔ تحقیق میں پیش کیے گئے سائنسی ماڈل کے مطابق اگر آئینے مطلوبہ مقام سے تقریباً 14 کلومیٹر دور ہوں تو بھی زمین پر پیدا ہونے والی روشنی پورے چاند کی روشنی سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ نتائج کمپیوٹر ماڈل اور سائنسی حسابات پر مبنی ہیں، اس لیے حقیقی اثرات جاننے کے لیے عملی تجربات کا انتظار ہے۔
ریفلیکٹ آربیٹل کو جولائی میں امریکی ریگولیٹری ادارے سے منصوبے کے لیے منظوری مل چکی ہے، لیکن ماہرینِ فلکیات اور ماحولیاتی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ مخالفین نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ منظوری واپس لی جائے۔ ان کے مطابق خلا میں بڑی تعداد میں ایسے سیٹلائٹس کی موجودگی رات کے قدرتی اندھیرے اور فلکیاتی مشاہدات کو متاثر کرسکتی ہے۔
منصوبہ ابھی آزمائشی مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار خلا میں آئینوں کی درست پوزیشن برقرار رکھنے کے ساتھ اس بات پر بھی ہوگا کہ منعکس ہونے والی روشنی زمین کے ماحول اور انسانی زندگی پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔ یوں یہ تصور توانائی اور ہنگامی امداد کے شعبوں میں نئے امکانات پیدا کرسکتا ہے، لیکن اس کے ماحولیاتی اثرات ایک اہم سوال رہیں گے۔