اٹلی میں 20 سال قبل چوری ہونے والی نایاب پینٹنگ اے آئی کی مدد سے برآمد

پینٹنگ 11 اگست 2004 کو نیپلز کے قریب واقع ایک چرچ سے غائب ہوئی تھی


ویب ڈیسک November 05, 2026

اٹلی میں پولیس نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے 17ویں صدی کا ایک نایاب فن پارہ بازیاب کرلیا ہے، جو تقریباً 20 سال قبل چرچ سے چوری ہوا تھا۔ 

پینٹنگ 11 اگست 2004 کو نیپلز کے قریب واقع ایک چرچ سے غائب ہوئی تھی۔ اس میں سینٹ ایگنس کی تصویر بنی ہوئی تھی، تاہم چوروں نے اسے تبدیل کرکے ایک عام نوجوان خاتون کی تصویر جیسا بنا دیا تھا۔ جدید ٹیکنالوجی نے اس کے اصل فن پارے سے مماثلت کا سراغ لگانے میں مدد دی۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اکتوبر 2024 میں اٹلی کے شہر پارما میں قدیم نوادرات کے سالانہ میلے کے دوران پولیس اہلکار مختلف فن پاروں کی تصاویر لے کر انہیں ڈیٹا بیس میں شامل کر رہے تھے۔ اسی عمل کے دوران چند گھنٹوں میں اے آئی سسٹم نے ایک مشکوک پینٹنگ کی نشاندہی کردی۔ بعدازاں رنگوں، نمونوں اور تصویر کی ساخت کا موازنہ کرکے اس فن پارے کی اصل شناخت سامنے آگئی۔

اٹلی کی پولیس نے 2020 میں چوری شدہ فن پاروں کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کرنا شروع کیا تھا، جسے ’اسٹولن ورکس آف آرٹ ڈیٹیکشن سسٹم‘ کا نام دیا گیا۔ یہ نظام نومبر 2023 میں متعارف کرایا گیا۔ اس کے ذریعے انٹرنیٹ، آن لائن نیلام گھروں اور تجارتی ویب سائٹس پر موجود تصاویر کا چوری شدہ فن پاروں کے ڈیٹا بیس سے موازنہ کیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ نظام اب تک 300 سے زائد بڑی پینٹنگز اور مجسموں سمیت ایک لاکھ 65 ہزار سے زیادہ دیگر نوادرات کی بازیابی میں مدد دے چکا ہے۔ برآمد ہونے والی اشیا کی مجموعی مالیت 20 کروڑ 30 لاکھ یورو سے تجاوز کرچکی ہے۔

پینٹنگ کی شناخت اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اسے 20 مئی 2025 کو متعلقہ چرچ کے حوالے کردیا گیا۔ اب اس فن پارے کی بحالی کا کام کیا جائے گا، جس کے بعد اسے دوبارہ اس کی اصل جگہ پر آویزاں کیا جائے گا۔