گزشتہ ہفتے ہم چند دوست ہوٹل پر بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ دو دوستوں کے درمیان ’’تصوف‘‘ کے موضوع پر بحث ہوگئی۔ اگلے روز ٹیچر دوست نے ایک کتاب ’’ دل کی دنیا‘‘ لاکر دی۔ اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ’’ تصوف‘‘ درحقیقت کیا ہے؟ اس کتاب کی اہم باتیں ملاحظہ کیجیے۔
انسان میں دو قسم کے جہان پائے جاتے ہیں۔ ایک جسم اور مادے کا جہان ہے جسے ہم آنکھوں سے دیکھ کر یا ہاتھوں سے چھو کر محسوس کر لیتے ہیں اور ایک جہان، باطنی جہان ہے جسے ہم نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں۔ اسی باطنی دنیا میں روح آباد ہے۔ اسی پوشیدہ دنیا میں دل دھڑکتا ہے اور اس میں خواہش جنم لیتی ہیں۔ اسی میں امنگیں اور آرزوئیں پروان چڑھتی ہیں، اسی میں سرور اور غم، نفرت اور محبت، ایثار اور بغض جیسے جذبات پرورش پاتے ہیں اور یہی پوشیدہ دنیا جس کو ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتی، انسان کی اصل دنیا ہے۔ جس طرح انسان کا ظاہری جسم کبھی تندرست ہوتا ہے اور کبھی اسے بیماری لگ جاتی ہے ،اسی طرح روح بھی کبھی صحت مند ہوتی ہے اور کبھی بیمار ہو جاتی ہے۔
اسلام چونکہ زندگی کا ایک ہمہ گیر نظام ہے ،اس لیے اس نے انسان کی ان دو جہتوں کو نظر انداز نہیں کیا۔ اس نے جہاں ہمارے ظاہری جسم کے متعلق ہمیں کچھ ہدایت دی ہیں، وہیں ہمارے دل کی پوشیدہ دنیا سے متعلق بھی ہمیں کچھ احکام بتلائے۔ جس طرح ہماری ظاہری زندگی میں اسلام ہمیں نماز روزہ حج زکوۃ جیسے بہترین اعمال کو اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے اور کچھ برے کاموں سے روکتا ہے اسی طرح ہماری باطنی زندگی میں اپنے آپ کو کچھ بہترین صفات سے آراستہ کرنے کا حکم بھی دیتا ہے اور کچھ رذیل صفات سے پاک کرنے کا بھی۔اسلام کے جو احکام ہماری ظاہری زندگی سے متعلق ہیں وہ علم فقہ کا موضوع ہیں اور جو احکام ہماری باطن کی پوشیدہ دنیا سے تعلق رکھتے ہیں وہ علم تصوف میں بیان کیے جاتے ہیں، لہٰذا علم تصوف کا موضوع ہمارے دل کی وہ دنیا ہے جو ہمیں اپنی آنکھوں سے نظر نہیں آتی مگر اس کا ہماری زندگی سے نہایت گہرا تعلق ہے۔
تصوف کی اصطلاح میں دل اور روح دو لطیف قوتیں ہیں جو انسان کے خالق نے اس کی ظاہری قلب و روح کے ساتھ پیدا کی ہیں جس طرح آنکھیں دیکھنے کی کان سننے کی اور ہاتھ چھونے کی طاقت رکھتے ہیں ۔اسی طرح دل خواہش کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ تصوف ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ دل کی پوشیدہ دنیا انسان کی ظاہری دنیا کی بنیاد ہے اور اسی پر انسان کا بناؤ اور بگاڑ موقوف ہے، اگر دل کی یہ دنیا صحیح ہے ،اس کا نظام ٹھیک چل رہا ہے، اس میں صحیح خواہش پیدا ہوتی ہے،صحیح جذبات جنم لیتے ہیں تو انسان صحت مند ہے اور اگر اس کا نظام گڑبڑ ہے تو انسان کی ظاہری زندگی کا نظام بھی گڑبڑ ہو جاتا ہے۔جس طرح ظاہری بدن کبھی تندرست ہوتا ہے اور کبھی بیمار اور تندرستی قائم رکھنے کے لیے غذا ہوا وغیرہ سے تدبیر کی جاتی ہے، بیماریوں کو دفع کرنے کے لیے دواؤں سے علاج کیا جاتا ہے ،اسی طرح انسان کے باطن کی تندرستی کی تدابیر اپنے خالق و مالک کو پہچاننا، اس کا ذکر اور اس کے احکام کی اطاعت ہمہ وقت کرنا ہے، اس کی بیماری اللہ کی یاد سے غفلت اس کے احکام کی خلاف ورزی ہے۔
یہ دل کی بیماریاں کفر شرک، نفاق، حسد، کینہ، تکبر، حب مال وغیرہ ہیں اور تندرستی یہ ہے کہ اپنے مالک حقیقی اللہ تعالی کو پہچانے، اپنے تمام نفع نقصان، تکلیف و راحت کا مالک اللہ ہی کو سمجھے۔ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے کوئی تکلیف پیش آئے تو صبر سے کام لے۔ تمام معاملات میں اللہ پر بھروسہ کرے، اس کی رحمت کا امیدوار اور عذاب سے ڈرتا رہے، اس کی رضا جوئی کی فکر میں رہے اور صدق اخلاص کے ساتھ تمام احکام بجا لائے لیکن باطنی بیماریوں اور ان کے علاج میں ایک بڑا فرق کیا کہ ظاہری بیماریاں تو آنکھوں اور دوسرے حواس سے محسوس کی جا سکتی ہیں،نفس کی حرکت خون اور فضلات کا ٹیسٹ لے کر کے معلوم کی جا سکتی ہیں لیکن باطنی امراض نہ آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں نہ نفس وغیرہ سے ان کو پہچانا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ان کا علاج بھی محسوس غذا اور دواؤں سے نہیں کیا جاتا، ان کے امراض کی تشخیص اور علاج کی تجویز صرف قرآن و سنت کے بتائے ہوئے اصول سے ہی ہو سکتی ہے۔
قرآن و سنت میں انسان کے ظاہری اعمال اور معاملات، باطنی عقائد اور اخلاق سب کے سب ہی کی اصلاح کا مکمل نظام موجود ہے۔ جس کو جو کچھ کمال حاصل ہوا ہے وہ صرف اسی نظام عمل کی مکمل پابندی سے ہوا ہے، وہ جس طرح نیک لوگ نماز، روزے، حج، زکوۃ کے پابند ہوتے ہیں، اسی طرح سے اخلاص، توحید، صبر شکر، توکل، زہد وغیرہ یعنی باطنی اعمال میں بھی ویسا ہی کمال رکھتے ہیں وہ جس طرح جھوٹ فریب چوری بے حیائی وغیرہ گناہوں سے ڈرتے بچتے ہیں ٹھیک اسی طرح دوسروں کی تحقیر و توہین، حب جاہ، حب مال، حرص، بخل وغیرہ جیسے باطنی گناہوں کو بھی ایسا ہی حرام جانتے اور ان سے پرہیز کا اہتمام کرتے ہیں۔
علمائے امت نے عوام کی سہولت کے لیے قرآن و سنت کے اس پورے نظام کو چند علوم و فنون میں الگ الگ جمع کر کے مدون کر دیا۔ اعمال ظاہرہ نماز روزہ حج زکوۃ اور نکاح و طلاق اور تمام معاملات کو علم فقہ میں اور اعمال باطنہ میں سے عقائد کو علم عقائد میں اور اخلاق و معاشرت کو علم تصوف میں جمع کر دیا۔