میری دانست میں آج کا موضوعNear death experienceبہت اہم اور دلچسپ ہے، البتہ اس پر بات کرنے سے پہلے امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر ابتدائی کمنٹس ضروری ہیں۔منگل 3نومبر کو یہ انتخابات ہو گئے ہیں۔ ہمارے ہاں منگل کے بارے میں کئی توہمات پائے جاتے ہیں لیکن امریکا میں انتخابات ہمیشہ منگل کو ہی ہوتے ہیں۔وسط مدتی انتخابات کے جو نتائج آئے ہیں ،ان سے ووٹرز کا رجحان بہت واضح ہے۔صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی اور سابق صدر اوبامہ کی ڈیموکریٹک پارٹی انتخابی دنگل میں آمنے سامنے تھیں۔ریپبلکن پارٹی کو ابتک دونوں ایوانوں میں برتری حاصل تھی،شاید اسی بنا پر اکثر فیصلے ٹرمپ خود کرتے تھے اور مشورہ غائب تھا۔
اب جب کہ دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل ہو گئی ہے،صدر ٹرمپ مزید دو سال صدر رہتے ہوئے بھی من مانی نہیں کر سکیں گے۔ مشی گن میں محمد عبدالرحمٰن السید جیت کر سینیٹر بن گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ان کی شدید مخالفت کی۔ یہ نتائج حیران کن نہیں۔ غیر ضروری ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں مہنگائی،امریکی عوام کو اتنا ناراض کر رہی تھی کہ یہ نتائج دیوار پر لکھے نظر آ رہے تھے۔
ہماری حکومتیں عوام کا جتنا بھی خون نچوڑیں،ہم بے حس رہتے ہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں عوام ایسا نہیں ہونے دیتے۔ جیتنے والے متعدد ڈیموکریٹس مذہبی بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے نتائج آنے لگے تو کہا کہ ایران جنگ اور مہنگائی نے ری پبلکن پارٹی کو نقصان پہنچایا۔نتین یاہو اور ٹرمپ نے مل کر اپنے آپ اور دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل دیا۔یہ بات البتہ سامنے رہنی چاہیے کہ نئے سینیٹ ممبران جنوری میں حلف اُٹھائیں گے اس وقت تک ٹرمپ کوئی بھی خطرناک اور نا عاقبت اندیشانہ قدم اٹھا سکتے ہیں۔
قارئینِ کرام، زندگی بہت کم یاب ہے۔انسان اب تک جتنی دور تک کائنات میں جھانک سکا ہے یہ صرف ہماری زمین ہی ہے جس پر زندگی اپنے بے بہا تنوع اور پوری آب و تاب سے موجود ہے۔یہ زندگی ایک تھوڑی سی مقررہ مدت کے لیے ملتی ہے اور پھر موت کی تاریکی چھا جاتی ہے۔موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔آج تک کوئی بھی موت سے نہیں بچ پایا۔قرآنِ مجید جو کہ رہتی دنیا تک انسانی ہدایت کے لیے اﷲ کی کتاب،روشنی اور رحمت ہے،اس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہوتا ہے کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔اسی طرح سورۃ رحمٰن میں فرمایا کہ ہر ایک نے فنا سے دوچار ہونا ہے،موت کیسے آتی ہے، اس وقت کیا ہوتا ہے،اس کے بعد کیا ہوگا،یہ جاننے کے لیے بے پناہ تجسس ہے۔
مغرب میں ہزاروں ایسے افراد جو موت کی سی کیفیت سے دوچار ہوئے،بظاہر مر گئے اور پھر زندگی کی نعمت سے بہرہ ور ہوئے،انھوں نےNear Death Experienceکو بیان کیا۔ان افراد میں سے اکثر نے بتایا کہ ان کا دل بند ہو گیا۔ڈاکٹروں نے انھیں محنت اور دواؤں سے واپس لانے کی کوشش کی۔اس دوران انھوں نے محسوس کیا کہ ان کا جسم تو بستر یا آپریشن ٹیبل پر تھا لیکن انھوں نے جسم کو چھوڑا اور چھت کے قریب معلق ہو کر نیچے دیکھنے لگے۔ انھیںایک سرنگ Tunnelنظر آئی جس کے کناروں پر روشنی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اس حالت میں انھیںگہرے مگر بے پناہ امن و سکون کا احساس ہوا، اپنے فوت شدہ عزیز و اقارب نظر آئے۔ان کو ایک مقدس ہستی کی Divine presenceمحسوس ہوئی۔ایک لمحے بھر میں ان کی ساری زندگی ایک جائزے کی شکل میں ان کے سامنے تھی اور پھر وہ مزید آگے جانے کے بجائے واپس زندگی کی طرف لوٹ آئے۔یہ اور ان سے ملتے جلتے تجربات سننے کو ملتے ہیں۔
ایسے واقعات کو مغرب نے موت کے قریب کے تجرباتNear Death Experienceکا نام دیا۔عنوان سے واضح ہے کہ یہ موت کا تجربہ نہیں بلکہ موت سے پہلے موت کی سی حالت کا تجربہ ہے لیکن ان تجربات کو پیش ایسے کیا جاتا ہے جیسے کہ یہ افراد ایک دفعہ مر کر زندہ ہوئے اور وہ جان گئے کہ موت کے وقت کیا ہوتا ہے۔عنوان صحیح ہونے کے باوجود یہ تاثر دیا جانا کہ موت کے وقت یہ ہوتا ہے،شاید درست نہیں۔ شیکسپیئر نے اپنے بہت مشہور ڈرامے ہیملٹ کے ایکٹ3 کے پہلے منظرscene میں بہت ہی مشہور SoliloqyخودکلامیTo be or not to beمیں کہا ہے کہAfter death,the undiscovered country,from where no one returns یعنی موت کے بعد کبھی کوئی واپس نہیں لوٹتا۔اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ موت سے دوچار ہونے پر کیا ہوتا ہے۔
اصل میں ابھی تک کوئی بھی موت کا مزہ چکھنے کے بعد واپس نہیں لوٹا کہ حقیقت کو آشکار کر سکے۔ خالصتاً سائنسی نقطہ ء نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ موت واقع ہونے سے پہلے اور زندگی سے مکمل رشتہ منقطع ہو جانے سے پہلے کیا ہوتا ہے۔یہ ایک انتہائی قابلِ ستائش اور فخر کی بات ہے کہ تجربہ گاہوں میں انسان کے DNAکے جی نومgenome کے ایک ایک لفظ کو ناپMap لیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی حیرت انگیز کامیابی ہے کہ کم و بیش تین ارب جی نوم الفاظ کو پڑھ لیا گیا ہو۔یہ بالکل ممکن ہے کہ کہیں کچھ غلطی رہ گئی ہو لیکن مجموعی طور پر یہ علم کا بہت بڑا اور کارآمد خزانہ ہمارے ہاتھ لگ گیا ہے ۔موت کے فوراً بعد کیا ہوتا ہے،قبر میں کیا ہوتا ہے،اس بارے میں روایات تو بہت ملتی ہیں۔
بہت ہی نامور اور قابلِ اعتبار سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ قلب یعنی دل کی دھڑکن بند ہو تے ہی دورانَ خون بند ہوجانے سے جسم کو خون کی سپلائی بند ہو جاتی ہے۔انسانی جسم میں دماغBrainسب سے زیادہ انرجی کا بھوکا ہے۔اس کا کل وزن تو محض تین پونڈ کے لگ بھگ یعنی ایک نارمل انسانی جسم کا صرف 2فیصد ہوتا ہے لیکن یہ جسم کی کل انرجی کا 20فیصد استعمال کرتا ہے۔دل کے بند ہوتے ہی دماغ کو آکسیجن ملنی اور خون کی سپلائی بند ہو جاتی ہے۔دماغ جو انرجی استعمال کرنے والا کائنات کا عجیب اور پیچیدہ ترین عضو ہے،ایندھن نہ ملنے پر بند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ہزاروں مرتبہ تجربات دہرائے جانے کے بعد اب یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ دماغ بند ہونے کی ایک ٹائم لائن ہوتی ہے۔اس ٹائم لائن میں تھوڑی بہتvariation تو ہو سکتی ہے لیکن مجمومی طور پر یہی ٹائم لائن نظر آتی ہے۔آکسیجن ملے خون کے نہ ملنے سے وہ کچھ محسوس اور دیکھنے میں آتا ہے جو موت کے قریب جانے والے بیان کرتے ہیں۔
تجربے میں آیا ہے کہ دماغ کو فیول سپلائی بند ہونے کے بعد 10سے 20سیکنڈ میں انسان ہوش کھو دیتا ہے۔وہ مشینیں جو دماغ کی ایکٹوٹی کو ماپ رہی ہوتی ہیں وہ 30سیکنڈ کے بعد ایک سیدھی لائن دکھانی شروع کر دیتی ہیں گویا کہ دماغ کی ایکٹوٹی جاتی رہی ہے۔وہCoordinated electrical storm جو کہ خیالات لانے کا سبب ہوتا ہے،رک جاتا ہے۔آکسیجن کی سپلائی رک جانے کے چند منٹ کے بعد دماغ کے سیلCells مرنے شروع ہو جاتے ہیں۔عام درجہء حرارت پر پڑے جسم کو جب اس حالت میں پڑے6منٹ سے اوپر ہونے لگتے ہیں تو دماغ کو اتنا نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے جس کی تلافی تقریباً ناممکن ہوتی ہے۔اس لیے ایمرجنسی دوائیاںRace against timeہوتی ہیں۔ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دماغ کے نیوران مر رہے ہوتے ہیں۔دماغ کے پچھلے حصے میں واقعCortex کو نقصان پہنچنے پر انسان دیکھنے کے قابل نہیں رہتا، چاہے اس کی آنکھیں کتنی ہی صحت مند ہوں۔
اسی طرح دماغ کے بائیں جانب ایک بہت چھوٹے سے حصے کو نقصان پہنچنے پر انسان کی بولنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی ہے۔سٹروک کی وجہ سے یاداشت جا سکتی ہے۔ اگر خیالات،یادداشت اور احساسات ایک زندہ دماغ سے پھوٹتے ہیں تو جب دماغ بند ہو رہا ہو تو یہ صلاحیتیں بھی مرنی شروع ہو جاتی ہیں۔دماغ ایک عالیشان بائیولاجیکل کمپیوٹر ہے۔آپ کمپیوٹر کو توڑ دیں،پروگرام مٹ جائے گا۔Near death experience کی کیفیت میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ کیوں نظر آتا ہے، اس پر ان شاء اﷲ اگلے کالم میں بات مکمل ہوگی۔