لاہور:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سی ایم کرائم سرویلنس یونٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، جس کے ذریعے صوبے بھر میں ضلع، سرکل اور پولیس اسٹیشن کی سطح پر اسمارٹ پولیسنگ اور پولیس افسران کی کارکردگی کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جائے گی۔
اس موقع پر کرائم سرویلنس یونٹ کے سربراہ عثمان طاہر نے وزیراعلیٰ کو یونٹ کے امور اور نظام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ نئے نظام کے تحت پنجاب کے ہر تھانے میں جرائم سے متعلق تازہ ترین ڈیٹا ایک کلک پر دستیاب ہوگا، جبکہ ڈی پی او، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت پولیس افسران کی کارکردگی کا بھی تجزیہ کیا جائے گا۔
کرائم سرویلنس یونٹ میں جرائم کی 20 مختلف کیٹیگریز کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا اور وہاں موجود ماہرین فوری طور پر ڈیٹا اینالیسس رپورٹ تیار کریں گے۔ اس نظام کے ذریعے شہریوں کی شکایات اور درخواستوں کے بروقت ازالے کی نگرانی بھی ممکن ہوگی، جبکہ تاخیر کی صورت میں متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔
یونٹ سوشل میڈیا پر قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق قابلِ توجہ پوسٹس کی نشاندہی بھی کرے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئی جی پنجاب سے پولیس اصلاحات کا پلان طلب کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ کے ڈیٹا کا درست استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے ایف آئی آر کے اندراج میں بلاجواز تاخیر کی شکایات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور پولیس کے بارے میں منفی پروپیگنڈے پر فوری ردعمل دینے کی ہدایت کی۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کو ہر قسم کے جرائم سے پاک کرنا چاہتے ہیں اور کرائم سرویلنس یونٹ کے قیام کا مقصد جرائم کے خاتمے کی مہم کو مؤثر بنانا ہے۔ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، چند افراد کی وجہ سے پوری پولیس فورس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگانا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مؤثر اصلاحات کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں کمی کا تاریخی رجحان خوش آئند ہے۔