کراچی:
جامعہ کراچی کی انتظامیہ پر داخلہ پالیسی کی تبدیلی کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے جاری دبائو سے اعلی تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، سندھ کے اعلیٰ تعلیمی سنجیدہ حلقوں میں اب اس بات پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے کہ کیا صوبے کی دیگر سرکاری جامعات میں بھی کراچی سمیت دیگر اضلاع کے طلبہ کے لیے داخلے مکمل طور پر کھلے ہوئے ہیں یا دیگر جامعات نے بھی داخلوں کے لیے کیٹگری اور کوٹے لگارکھے ہیں اور صرف جامعہ کراچی پر ہی کوٹا اور کیٹگری ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ دباؤ ایسے وقت میں ڈالا جارہا ہے جب دسمبر 2025ء میں تعلیمی سیشن 2026ء کے لیے دیے گئے بی ایس چار سالہ ڈگری پروگرام میں کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر اضلاع کے 1815 طلبہ کو داخلے آفر کیے گئے تھے اور ان میں سے اس وقت صرف بی ایس سال اول میں 1018 طلبہ کامیاب داخلوں کے ساتھ زیر تعلیم ہیں جبکہ سیشن 2026 کے لیے داخلوں کی کل تعداد 9691 تھی دوسرے، تیسرے اور چوتھے سال میں زیر تعلیم سندھ کے دیگر اضلاع کے طلبہ اس کے علاوہ ہیں جب کہ داخلوں کے لیے حالیہ دباؤ بھی محض لاء ڈپارٹمنٹ کے داخلوں کے لیے ہی ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت ڈین آف لاء بیرسٹر سرفراز میتلو ہیں جنھوں نے خود ہی اپنی اکیڈمک کونسل سے منظور شدہ داخلہ پالیسی کو متنازع بناتے ہوئے اس کے خلاف سوشل میڈیا پر بات کا آغاز کیا، بیرسٹر سرفراز میتلو کو وزیر اعلی سندھ نے بحیثیت کنٹرولنگ اتھارٹی ڈین لاء تعینات کیا ہے۔
ادھر تعلیمی حلقوں میں جاری اس بحث کے بعد "ایکسپریس " کو صوبے کی دیگر جامعات کے حوالے سے موصولہ داخلہ پالیسی کے بارے میں علم ہوا ہے کہ تقریبا تمام سرکاری جامعات داخلوں کے لیے پہلے اپنے شہر اور ڈسٹرکٹ کے طلبہ کو فوقیت دیتی ہیں اور ازاں بعد باقی ماندہ نشستوں پر دیگر اضلاع کے طلبہ کی باری آتی ہے جبکہ کراچی میں بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے نام سے قائم سندھ کی مذکورہ سرکاری جامعہ ایسی بھی ہے جہاں 50 فیصد نشستوں پر کراچی کے صرف 4 ڈسٹرکٹ کے طلبہ داخلہ لے سکتے ہیں۔
ان اضلاع میں کیماڑی، لیاری، گڈاپ اور ملیر شامل ہیں جبکہ باقی بچ جانے والی 50 فیصد نشستوں پر کراچی کے دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ پورے سندھ کے طلبہ کا کوٹا ہے، یہ پالیسی لیاری یونیورسٹی کے ایکٹ میں لکھوادی گئی ہے اور یونیورسٹی کسی ترمیمی ایکٹ تک اب اسی پالیسی کی پابند ہے۔
مزید براں اگر سندھ کی دیگر جامعات کی جانب نظر ڈالی جائے تو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کی 1335 داخلہ نشستوں میں کراچی کے طلبہ کے لیے کل 42 نشستیں ہیں، مہران یونیورسٹی مین کیمپس جامشورو کی 953نشستوں میں کراچی کی صرف 20 نشستیں ہیں، قائد عوام یونیورسٹی میں 674 کل نشستوں میں کراچی کی 19 نشستیں ہیں، سندھ یونیورسٹی جامشورہ میں 986 نشستوں میں کراچی کے لیے 14 نشستیں ہیں، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو اور پیپلز یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز برائے خواتین نوابشاہ میں کراچی کے طلبہ کے لیے 10/10 نشستیں مختص ہیں۔۔