نیتن یاہو کا زوال، امریکی پالیسی کا امتحان

اسرائیل میں نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ان کے طویل اقتدار کے لیے بڑا دھچکا ہے۔


ایڈیٹوریل November 07, 2026
اسرا؛ئیلی وزیراعظم کا یہ بیان انتہائی خطرناک اور نسل پرستانہ ہے،عرب لیگ

مشرق وسطیٰ کی سیاست میں بدلتے حالات محض حکومتوں کی تبدیلی یا عسکری دھمکیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی طاقتوں کے باہمی تعلقات اور علاقائی حکمت عملی کے نئے امتحان کا پیش خیمہ بن رہے ہیں۔

اسرائیل میں وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے اقتدار کو درپیش مشکلات، عرب جماعتوں کا ان کے مخالف امیدوار کی حمایت میں متحد ہونا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کی فوجی امداد ختم کرنے کا اعلان ایسے واقعات ہیں جنھوں نے تل ابیب کے سیاسی ایوانوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں نے پورے خطے کو ایک نئے ممکنہ تصادم کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ان تمام پیش رفتوں سے واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا روایتی سیاسی بندوبست تبدیلی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔

اسرائیل میں نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ان کے طویل اقتدار کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ اتحادی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم کی جانب سے حمایت سے انکار اور عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ اور رعام پارٹی کی طرف سے اپوزیشن امیدوار، سابق آرمی چیف آئزن کوٹ کی حمایت نے حکومت سازی کا نقشہ تبدیل کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئزن کوٹ کو 61 ارکان کی مطلوبہ اکثریت کے مقابلے میں 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔

اپوزیشن نے نیتن یاہو کی مشترکہ حکومت بنانے کی پیشکش بھی مسترد کر دی ہے اور صدر اسحاق ہرزوگ سے مطالبہ کیا ہے کہ آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا جائے۔اس صورتِ حال کا اہم پہلو عرب جماعتوں کا سیاسی کردار ہے۔ جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین اور رعام پارٹی کے رہنما منصور عباس نے نیتن یاہو کو اقتدار سے روکنے کے لیے آئزن کوٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے، اگرچہ جوائنٹ لسٹ نے نئی حکومت میں شامل نہ ہونے کا عندیہ دیا ہے، لیکن اس کی حمایت بھی پارلیمانی اکثریت کے حصول میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ عرب نمائندے اسرائیلی سیاست میں محض تماشائی بننے کے بجائے اقتدار کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے اس سیاسی اتحاد کو دہشت گردی کی حمایت سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، لیکن جمہوری نظام میں کسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر مشکوک قرار دینا درست نہیں۔ سیاسی اختلاف کا جواب سیاسی دلیل سے دیا جانا چاہیے۔ تاہم نیتن یاہو کی ممکنہ رخصتی کو فلسطین کے مسئلے کا حل سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ آئزن کوٹ سابق فوجی سربراہ ہیں اور نئی حکومت کی اصل آزمائش فلسطینیوں کے حقوق، غزہ کی تباہی، مغربی کنارے میں آبادکاری اور خطے میں امن کے حوالے سے اس کی پالیسی ہوگی۔ محض وزیراعظم کی تبدیلی سے اسرائیل کی بنیادی پالیسی تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں مل سکتی۔اسرائیل کے لیے ایک اور تشویش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سالانہ تقریباً چار ارب ڈالر کی فوجی امداد ختم کرنے کا اعلان ہے۔

امریکی عسکری معاونت اسرائیل کی دفاعی برتری اور علاقائی حکمت عملی کا اہم ستون رہی ہے۔ اس امداد کے خاتمے کا اعلان تل ابیب کے لیے مالی نقصان سے بڑھ کر سفارتی اور تزویراتی پیغام رکھتا ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی امریکی تعلقات کے تحفظ کو نئی حکومت کی تشکیل سے جوڑتے ہوئے امداد کے معاملے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

ان کا یہ موقف اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اب پہلے جیسی غیر متزلزل دکھائی نہیں دیتی، اگر واشنگٹن اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی لاتا ہے تو اسرائیل کو اپنی دفاعی ضروریات اور خارجہ حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔دوسری جانب ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکی آمیز گفتگو نے عالمی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ان کی فوج ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کے لیے مکمل تیار ہے۔ وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی ٹیم کے اجلاسوں میں بھی ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کیا گیا ہے، تاہم کسی نئے حملے کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔

امریکی حکمت عملی کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا فوجی کارروائی ایران کے سیاسی موقف کو تبدیل کر سکتی ہے؟ امریکی انٹیلی جنس کے جائزوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حملے ایران کی حکومت گرانے یا اس کے مؤقف میں بنیادی تبدیلی لانے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔ کسی ملک کی عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانا اور اس کی سیاسی مزاحمت ختم کرنا دو مختلف معاملات ہیں۔ بیرونی جارحیت اکثر داخلی اختلافات کو پس منظر میں دھکیل کر قومی یکجہتی کو مضبوط کرتی ہے۔

ٹرمپ کے سامنے اب تین راستے ہیں۔ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں، مذاکرات کی بحالی یا بحری ناکہ بندی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ۔ ہر راستے کے اپنے خطرات ہیں۔ فوجی حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مشکلات اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ بحری ناکہ بندی بھی تنازع کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جبکہ اقتصادی پابندیاں پہلے ہی مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

اس لیے مذاکرات ہی ایسا راستہ ہیں جو کسی قابلِ قبول سمجھوتے کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔امریکی مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست نے ٹرمپ کے لیے ایران جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ سیاسی طور پر مشکل بنا دیا ہے۔ امریکی عوام کو بیرونی جنگوں سے زیادہ مہنگائی، روزگار اور داخلی معیشت کی فکر ہے۔ طویل جنگ امریکی خزانے پر بوجھ اور سیاسی قیادت کی مقبولیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ دوسری طرف جنگ ختم کرنا تزویراتی پسپائی تصور کیے جانے کا خدشہ رکھتا ہے۔ یہی تضاد واشنگٹن کی پالیسی کو غیر یقینی بنا رہا ہے۔

 مشرق وسطیٰ کو اس وقت عسکری دھمکیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ اسرائیل میں سیاسی تبدیلی، امریکی امداد کے خاتمے کا اعلان اور ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ طاقت کے بل پر مستقل امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت، ایران کے تحفظات کا سفارتی حل اور عالمی قوانین کی پاسداری ہی خطے کو تباہ کن تصادم سے بچا سکتی ہے۔ تاریخ میں طاقت کا اصل امتحان جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔