دیا میر بھاشا ڈیم منصوبہ، ٹھیکیدار کو کروڑوں کا فائدہ پہنچایا گیا، آڈیٹر جنرل

ادائیگی کا طریقہ کار تبدیل کرکے ٹھیکیدار کو 10 ارب 17 کروڑ روپے ادا کئے گئے


محمد الیاس November 07, 2026

لاہور:

پاکستان کے اہم ترین آبی و توانائی منصوبے دیامر بھاشا ڈیم میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، ٹھیکوں کے قواعد کی خلاف ورزیوں، غیر مجاز ادائیگیوں اور انتظامی غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2025-26 کے مطابق جون 2025ء تک ڈیم منصوبے پر تعمیراتی کام کی حقیقی پیشرفت صرف 19.95 فیصد رہی جبکہ مالی پیشرفت 39.67 فیصد تک پہنچ چکی تھی جس سے سرکاری وسائل کے استعمال اور تعمیراتی نتائج کے درمیان واضح فرق سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق زمین کے حصول اور متاثرین کی آبادکاری کیلیے 73 ارب 31 کروڑ روپے سے زائد کی رقم اکتوبر 2010 سے جون 2021 کے دوران ڈپٹی کمشنر/ لینڈ ایکوزیشن کلکٹر چلاس کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔

ڈپٹی کمشنر/لینڈ ایکوزیشن کلکٹر نے زمین کے حصول کے فنڈز میں سے 4 ارب 96 کروڑ روپے سے زائد 24 مختلف نجی بینکوں میں منتقل کیے، آڈٹ نے اسے ٹریژری رولز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ذمہ داری کے تعین اور مالی معاملات کی جانچ پڑتال کی سفارش کی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق مرکزی ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ پاور چائنا اور ایف ڈبلیو او کے مشترکہ منصوبے کو 442 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد میں دیا گیا،آڈٹ نے قرار دیا کہ ٹھیکیدار کی اہلیت کے معیار پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا،کنسلٹنسی خدمات کے 27 ارب 18 کروڑ روپے کے معاہدے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر کوالٹی اینڈ کاسٹ بیسڈ سلیکشن کا طریقہ اختیار کیا گیا تاہم بعد میں اسے کوالٹی بیسڈ سلیکشن میں تبدیل کردیا گیا،آڈٹ میں مرکزی ٹھیکیدار کو کنٹریکٹ میں ترمیم کے ذریعے 10 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آر سی سی کنکریٹ کی تنصیب کا متعلقہ کام کیے بغیر ادائیگی کا طریقہ تبدیل کرکے موجودہ بل آف کوانٹٹیز کی رقم کو دو ادائیگیوں میں تقسیم کیا گیا جس سے ٹھیکیدار کو 10 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد کی رقم ادا کی گئی۔

اسی طرح ٹھیکے دار سے موبلائزیشن ایڈوانس کی1 ارب 92 کروڑ روپے کی واجب الادا اقساط کی بروقت کٹوتی نہ کرنے اور مزید 1 ارب 12 کروڑ روپے کی وصولی 50 اقساط میں کرنے کی منظوری پر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔

رپورٹ میں ٹھیکے دار کو 67 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد اضافی ادائیگی کا بھی انکشاف ہوا، معاہدے کے مطابق ہر عبوری ادائیگی کے بل سے 10 فیصد رقم بطور ریٹینشن منی کاٹی جانی تھی تاہم 20 ارب 52 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیوں میں سے مطلوبہ رقم کی کٹوتی نہیں کی گئی۔

آڈٹ نے کنسلٹنٹس کیلئے دفاتر اور رہائشی سہولیات کی فراہمی کے نام پر ٹھیکے دار کو 53 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کو بھی غیر مناسب قرار دیا، اسی طرح سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے دعوے پر 10 کروڑ 42 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی، ڈیزائن میں تبدیلی کے باعث 10 کروڑ سے زائد کے ضیاع،تعمیراتی کاموں میں غیر معمولی نرخوں کے استعمال سے 8 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد اضافی ادائیگی اور دیگر مدات میں بھی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

کیڈٹ کالج چلاس کے بیرونی ترقیاتی کاموں میں ٹف ٹائلز کی تنصیب کیلئے مقررہ سرکاری نرخوں کے بجائے زیادہ نرخ استعمال کیے گئے،شاہراہ قراقرم کی مرمت کے اخراجات کی عدم وصولی کی مد میں تقریباً 2 کروڑ روپے اور دیگر ٹھیکوں میں ڈرائیوروں کی تنخواہوں اور بلٹ پروف گاڑیوں کے پٹرول کی مد میں بھی اعتراضات سامنے آئے۔

آڈٹ کے مطابق زمین کے حصول کیلئے کوہستان کے ڈپٹی کمشنر/لینڈ ایکوزیشن کلکٹر کو 49 کروڑ 88 لاکھ روپے سے زائد کی پیشگی ادائیگی کی گئی،گلگت بلتستان حکومت سے پاور ہائوس کے آپریشن اور مینٹی ننس کی مد میں 4 کروڑ روپے سے زائد کی رقم وصول نہ کرنے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

مجموعی طور پر 35 ہزار 924 ایکڑ اراضی حاصل کرنا مقصود تھی،جون 2025 تک 32 ہزار 790 ایکڑ حاصل کی جا چکی تھی، 3 ہزار 134 ایکڑ زمین کا حصول باقی تھا۔

دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کیلئے قائم کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی 16 میں سے چار نشستیں خالی تھیں جبکہ مالی سال 2022-23 سے 2024-25 تک کمپنی کے سالانہ مالی گوشوارے بھی تیار نہیں کیے گئے۔

آڈٹ کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات کے باوجود بورڈ کی خالی نشستیں پْر نہیں کی گئیں،دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی اصل لاگت اور تکمیل کے شیڈول میں بھی نمایاں مسائل سامنے آئے،اس مد میں 91 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد لاگت کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈیم کی تعمیر کیلئے جون 2027 کی ابتدائی تکمیل کی تاریخ مقرر تھی تاہم معاہدے کے مطابق تکمیل کی تاریخ فروری 2029 اور توسیع شدہ شیڈول کے مطابق متوقع تکمیل 2030 تک جا پہنچی ہے۔

بجلی پیدا کرنے  کیلئے 4 ہزار 500 میگاواٹ کے پاور ہائوس کا پی سی ون اپریل 2023 میں منظور ہونے کے باوجود آڈٹ کی مدت کے اختتام تک اس کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی نہیں دیا گیا تھا۔

آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ زمین کے حصول اور ٹھیکے داروں سے متعلق تمام مالی معاملات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے، غیر مجاز ادائیگیوں اور واجب الادا رقوم کی وصولی یقینی بنائی جائے۔