خیبرپختونخوا، پی ٹی آئی دور کا ایک اور اسکینڈل، 8.92 ارب کے 71 ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز منسوخ

آفریدی دور میں خیبر کے منصوبوں کے ٹینڈرز میں 5 سے 10 فیصد ایڈوانس کک بیکس وصولی کا انکشاف


خالد محمود November 07, 2026

اسلام آباد:

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں مبینہ کک بیکس کا بڑا معاملہ سامنے آگیا،8 ارب 92 کروڑ روپے مالیت کے 71 ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز  کک بیکس کے الزامات سامنے آنے پر منسوخ کر دیئے گئے۔ 

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دور میں ضلع خیبر کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز مبینہ طور پر سیاسی بنیادوں پر جاری کیے گئے اور ٹھیکوں کے عوض 5 سے 10 فیصد ایڈوانس کک بیکس وصول کیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ کک بیکس کی مد میں 50 کروڑ سے 90 کروڑ روپے تک وصولی کی شکایت موصول ہونے پر حکام نے ٹینڈرز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ذرائع کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت ضلع خیبر میں 5 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی نوید جبکہ 3 ارب 90 کروڑ روپے کے منصوبے ایم پی اے عبدالغنی سے منسوب کیے گئے۔

حکام نے ضلع خیبر میں مبینہ کرپشن اور کک بیکس کے نیٹ ورک کی نشاندہی کیلئے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں،اس سلسلے میں ایس ڈی او باڑہ ضیاء اللہ کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی، جس کے دوران ٹینڈرز کی تقسیم میں مبینہ کک بیکس سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسیٔن ریاض سے بھی تحقیقات کی گئیں اور گزشتہ دو سال کا ریکارڈ کھنگالا گیا،تحقیقات کے دوران ایم پی اے عبدالغنی اور نوید سے منسوب دو ترقیاتی سکیموں میں مبینہ کک بیکس کا انکشاف ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر کے ترقیاتی ٹینڈرز کی منسوخی کیلئے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو ایک گمنام درخواست موصول ہوئی تھی، جس کے بعد سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے 6 نومبر کو 8 ارب 92 کروڑ روپے کے ترقیاتی ٹینڈرز منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔