فارس کی فوج کا افسر لڑنے کے بجائے غرور میں ڈوب کر اپنے آباؤ اجداد کا نام لینا شروع کر دیتا ہے۔ وہ شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ عرب مرعوب ہو جائیں گے۔ دشمن کو مرعوب کرنے کا یہ ایک قدیم طریقہ تھا جو صدیوں تک جاری رہا، لیکن اس کے جواب میں اس عرب افسر نے کیا جواب دیا کہ میں اپنے باپ کا بیٹا ہوں۔ اس نے واضح کر دیا کہ ہماری طاقت ہمارے مقصد میں ہے۔ مقصد ہی وہ چیز ہے جو فتح اور شکست کا فیصلہ کرتا ہے،مقصد جتنا عظیم ہوگا فتح کے لیے کوششیں بھی اتنی جاندار اور طاقتور ہوں گی۔فیصلہ طاقت اور تعداد سے نہیں ہوتا ، مقصد کی سچائی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ پھر لڑائی کے دوران تاریخ کا ایک انوکھا منظر آتا ہے وہ عرب افسر لڑتے ہوئے گھوڑے سے گر جاتا ہے۔
فارس کے افسر نے سوچا ہو گا کہ کھیل ختم ۔ لیکن وہ عرب فوراً دوبارہ گھوڑے پر سوار ہو جاتا ہے ۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں فارس کے افسر نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اس نے اس عرب کی آنکھوں میں موت کی بے خوفی دیکھ لی تھی اور پھر ہتھیار ڈالنے کے دو گھنٹے کے بعد ایک ایسا معاہدہ کیا جو بے مثال تھا۔ اس معاہدے کی شرائط پڑھ کر آپ حیران رہ جائیں گے۔سمجھ دار اور گہری سوچ رکھنے والے لوگ جلد حقیقت شناس ہو جاتے ہیں اور حق اور باطل میں فرق کو سمجھ جاتے ہیں۔جب حقیقت ان کے سامنے آتی ہے تو وہ فوراً اسے تسلیم کرلیتے ہیں ،انھیں ادراک ہو جاتا ہے کہ اگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور سچ سے ٹکرا گئے تو شکست ان کا مقدر ہوگی اور تمام تر طاقت کے باوجود وہ مغلوب ہو جائیں گے۔
عربوں نے اپنے دشمن کا تفاخر اور برتری ختم کرنے کے لیے شرط یہ رکھی کہ فارس کی فوج ہمیں ہتھیار اور گھوڑے فراہم کرے گی۔ سب سے حیران کن شرط وہ تھی اگر کوئی عرب افسر پیدل ہو تو فارس کے افسر کا فرض ہو گا کہ وہ گھوڑے سے اتر کر اسے اپنا گھوڑا پیش کرے گا۔ ذرا سوچیے جو کل تک اپنے سامنے کسی کو انسان نہیں سمجھتے تھے۔ آج وہ پیدل چلنے والوں کو اپنے گھوڑے پیش کر رہے ہیں۔ اس شرط کے پیچھے جو حقیقت چھپی تھی اس نے دشمن کا سر نگوں کر دیے اور تمام تر قوت اور وسائل رکھنے کے باوجود اپنے سے تعداد میں کم مخالف پر قابو نہ پا سکے۔جب ذہن اور نظریہ شکست کھا جائے تو انسانوں کی تعداد چاہے جتنی بھی ہو دشمن کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہے۔
یہ وہ اس عظیم مشرقی سپرپاور کا حتمی ذلت آمیز مگر ناگزیر انجام تھا۔ اور یہ سلسلہ صرف مشرق میں نہیں رکا اسی عرصے کے دوران مغرب کی عظیم سپر پاور رومن ایمپائر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ بابی لون بابل کا عظیم الشان قلعہ جو ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا وہ عربوں کی مٹھی بھر فوج کے ہاتھوں فتح ہوا۔ عربوں کے پاس ایک مقصد تھا وہ حق اور سچ کے ساتھ تھے ،وہ جانتے تھے کہ وہ نیکی پھیلانے اور برائی مٹانے نکلے ہیں ، وہ موت سے نہیں ڈرتے تھے۔
ان کے سامنے حق کا راستہ تھا۔ اگر ہم اسے وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو ثابت ہوتا ہے کہ جدید ہتھیاروں سے لیس لاکھوں کی فوج بھی تب تک کچھ نہیں کر سکتی جب تک اس کے پاس لڑنے کا اخلاقی جواز نہ ہو۔ اندرونی بدعنوانی طوائف الملوکی اور مایوسی ان کے زوال کا اصل سبب بنی۔ دنیا کی حرص اور لالچ ہمیشہ انتشار کو جنم دیتی ہے۔جن کے سامنے دنیا ہیچ اور حق کی تبلیغ اور فروغ اصل مقصد ہوتا ہے وہ متحد اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر شریعتی نے ان نام نہاد دانشوروں پر کڑی تنقید کی ہے جو دنیا کی صرف سطحی چیزیں دیکھتے ہیں۔ یعنی کونسی حکومت طاقتور ہے۔ کس کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں اور دولت کہاں ہے۔ وہ کسی کے وسائل کی بہتات اور قوت کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں لیکن وہ نتائج اور انجام کو دیکھ نہیں پاتے۔
اس لیے معلومات کے اس دور میں ہمیں ڈیلی نیوز اور سطحی تجزیوں میں گم نہیں ہونا چاہیے۔ انسانوں کو کائنات اور تاریخ کے بڑے حقائق یعنی فیکٹ آف نیچر کو سمجھنا چاہیے۔ ظالم طاقتیں عارضی ہوتی ہیں، وہ زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتیں۔ کیونکہ ہر چیز ایک مقررہ وقت تک کے لیے پیدا ہوتی ہے،یہی وہ حقیقت ہے جسے تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ آج کے دور میں یہ تجزیہ واقعی بڑا بصیرت افروز ہے۔ ہم اکثر موجودہ عالمی نظاموں کو دیکھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ تو کبھی ختم نہیں ہونگے۔ لیکن یہ آفاقی اصول آج بھی اسی طرح خاموشی سے اپنا کام کر رہا ہے۔
"تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ تاریخ کا یہ آفاقی اصول ہے کہ ہر سپر پاور اپنا بوجھ اور غرور نہ سہارتے ہوئے خود ہی اپنے زوال کی بنیاد رکھتی ہے۔ تو آج کے جدید دور کے جدید عالمی نظام اس وقت اپنی تباہی کے کونسے بیج بو رہے ہیں؟ اور کونسے وہ غیر مرئی اور بظاہر کمزور لوگ ہیں جو خاموشی سے کل کی دنیا کے وارث بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو تاریخ کے اوراق سے نکل کر سیدھا ہمارے آج پر لاگو ہوتا ہے"۔
آج کے اس تفصیلی جائزے میں ڈاکٹر علی شریعتی کے چوتھے حصے پر مبنی ہے۔ یہ واقعی ایسی حقیقت ہے جو انسان کو رک کر سمجھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ہم عام طور پر یہی مانتے ہیں کہ اعلیٰ نظریات جیسے قومیت یا انسانیت پسندی ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ یہ ہمیشہ بھلائی کے لیے ہوتے ہیں۔ عام فہم میں تو یہی سمجھا جاتا ہے لیکن الجیریا کی جو مثال سامنے رکھی گئی وہ ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم ان نظریات کے پس منظر کو نہ سمجھیں ۔ اگر ان کے لاگو ہونے کے مقصد کو نہ سمجھیں تو یہ ایک نہایت خطرناک ہتھیار بن سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کی تھوڑی تفصیل میں جانا چاہیے کہ انھوں نے یہ کیا کیسے؟ یعنی والٹیر اور روسو کی کتابیں پڑھا کر کسی کو غلام کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
دیکھیں یہ اصل میں ڈیوائیڈ اور رول کی ایک بہت ہی جدید شکل تھی۔ ذہنی شکل آپ کہہ لیں۔ 1950ء کی دہائی میں الجیریا میں عرب اور بربر قبائل آباد تھے۔ یہ دونوں تاریخی طور پر اسلام اور اپنی مقامی ثقافت کی بنیاد پر ایک تھے۔ یعنی انکا اتحاد ہی ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ وہی طاقت انھیں فرانسیسی قبضے کے خلاف کھڑا کرتی تھی تو فرانسیسیوں نے کیا کیا؟ انھوں نے ان پر سیدھا حملہ کرنے کے بجائے ان کے درمیان نیشنلزم کا بیج بویا۔ یعنی قومیت کا کارڈ کھیلا۔ انھوں نے مخصوص مقامی دانشوروں کو بلایا۔ انھیں روسو اور دیگر مغربی مفکرین کے حوالے دیئے اور ذہن سازی شروع کی کہ دیکھیے کہ آپ لوگ تو بالکل ایک الگ قوم ہیں۔
آپ کی زبان الگ ہے، تاریخ الگ ہے۔ اس طرح کی باتیں کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ نیشنلزم کا اصول تو یہ کہتا ہے کہ ہر قوم کی اپنی الگ ریاست ہونی چاہیے تو انھوں نے یورپین نیشنلزم کا تصور ان پر لاگو کر دیا تاکہ ان کو یہ محسوس ہو کہ ان کا اصل مسئلہ فرانسیسی کالونیل ازم نہیں ہے بلکہ ان کو یہ لگنے لگا کہ ان کا مسئلہ تو ان کے بالکل ساتھ بسنے والے ان کے اپنے لوگ ہیں۔ بظاہر یہ بات بہت سے لوگوں کو ترقی پسند لگ رہی ہو گی کہ ان کو الگ پہچان دی جا رہی ہے۔