ڈاکٹر سلیم مظہر اسٹیج سے جوں ہی اترے، ایک کرشمہ ہو گیا، اہل محفل نم آنکھوں کے ساتھ ہم آواز ہو گئے۔ یہ ماجرا بین الاقوامی اقبالؒ کانفرنس کا ہے جس کا اہتمام ادارہ فروغ قومی زبان پاکستان نے کیا تھا۔ دو روز تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور روس کے سفیروں اور سفارت کاروں، بارہ جامعات کے وائس چانسلروں اور ملک بھر سے آنے والے ماہرین اقبالیات و اقبال شناسوں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کے فرزند اور شاعر مشرق کے پوتے بیرسٹر ولید اقبال بھی کانفرنس میں خصوصی طور پر شریک ہوئے اور پر جوش خطاب کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک دلی یونیورسٹی میں مہمان ہوئے۔
شعبہ اردو کے سربراہ نے اس موقع پر علم و ادب کے بہت سے متوالوں اور اساتذہ کو جمع کیا۔ ان لوگوں نے باری باری کوئی بات کہی یا کوئی شعر سنایا۔ اس موقع پر لوگوں نے اساتذہ کے کئی اشعار پیش کیے جب صدر شعبہ کی باری آئی تو انھوں نے اقبالؒ کی معروف دعائیہ نظم پیش کی جو ایک خاص لے اور انداز کے ساتھ ہمارے حافظے میں محفوظ ہے:
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
صدر شعبہ نے یہ نظم پڑھی اس کے بعد کہا کہ ولی دکنی سے لے کر غالب اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے اساتذہ کا کلام میں نے پڑھ رکھا ہے۔ آپ نے بھی ان ہی اکابر کا کلام سنایا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اقبالؒ کی اس نظم سے بہتر شعر آج تک نہیں کہے گئے۔ یہ ایک ایسی مختصر نظم ہے جس میں علم کی اہمیت، عمل، وطن سے محبت اور غریبوں کی خدمت سمیت بہت سے ایسے اچھے اقدار کی تعلیم دی گئی ہے جو سماج کو جنت کا نمونہ بنا سکتے ہیں۔
ولید اقبال یہ واقعہ سنا کر خاموش ہوئے پھر کہا کہ اب میں آپ کو اپنی حکومت کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ دلی والا واقعہ میرے ذہن میں تھا اور اس اثنا میں پی ٹی آئی کی حکومت آگئی تھی۔ میں نے سوچا کہ اپنی حکومت آ گئی ہے کیوں نہ اسکولوں کی دعا اور اسمبلی میں اقبالؒ کی یہ بھولی بسری دعا پڑھنے کی روایت بحال کرا دی جائے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس خیال کے تحت انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ ریٹائرڈ سے ملاقات کی۔ اس تجویز کا انھوں نے خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس کام کے لیے انھیں وزیراعظم عمران خان سے اجازت لینی ہو گی۔ سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ چلیے، وزیر اعظم کے پاس چلتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ وزیر اعظم کسی اہم کام میں مصروف ہیں جب تک ان کی مصروفیت جاری ہے، کسی اور کام کے لیے ان کے پاس وقت ہے اور نہ ملاقات کی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے تقریباً چار برس گزر گئے لیکن وفاقی حکومت کے اسکولوں میں اقبالؒ کی دعائیہ نظم بحال نہ ہو سکی۔ ولید اقبال نے کہا کہ میں شرمندہ ہوں کہ میں اپنی ہی حکومت میں اسکولوں کی اسمبلی میں اقبالؒ کی وہ دعائیہ نظم بحال نہ کرا سکا جو قیام پاکستان بلکہ اس سے بھی پہلے سے پڑھی جا رہی تھی۔
ولید اقبال جس وقت یہ بات کہہ رہے تھے، ڈاکٹر سلیم مظہر نے پہلے اسٹیج سیکریٹری کو کچھ ہدایت دی پھر وہ اسٹیج سے اترے اور جمیل جالبی چیئر جامعہ پنجاب کے سربراہ سے کوئی بات کہی، پھر کرشمہ ہو گیا پھر وہ واقعہ ہو گیا جس نے حاضرین کو نصف صدی یا اس سے بھی پہلے زمانے میں پہنچا دیا جب وہ صبح سویرے اسکول کی اسمبلی میں کھڑے ہو کر لیکن لہک لہک کر گایا کرتے تھے:
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
ڈاکٹر عارفہ شہزاد نے اقبالؒ کی دعا کچھ ایسے جذبے بلکہ وجد کے عالم میں پڑھی کہ وہ خود بھی اشک بار ہوئیں اور حاضرین کے دلوں پر بھی دستک دی۔ تب میں نے سوچا کہ عمران خان نے اقبالؒ کا نام تو بہت لیا لیکن ہر وہ کام کیا جو ان کی فکر کے خلاف تھا۔ یہ حکومت تو مسلم لیگ کی ہے۔ اقبالؒ اور ان کی فکر کا دم بھی بھرتی ہے، یہی حکومت اسکولوں کی اسمبلی میں یہ دعا بحال کر دے تو کتنا اچھا ہو۔
ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر اہتمام اس کانفرنس کا موضوع تھا، اقبال اور معاشی ترقی۔ پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں یہ موضوع وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ 2014 ء سے ملک میں جو سیاسی طوفان اٹھا اور اس کے نتیجے میں سیاسی ہیجان پیدا ہوا، اس کے نتیجے میں قومی معیشت تباہ ہو گئی اور ملک دیوالیہ پن کے دہانے پر جا کھڑا ہوا۔
منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال اکثر بتایا کرتے ہیں کہ عدم اعتماد سے قبل پی ٹی آئی کی حکومت کے زمانے میں ملک داخلی طور پر دیوالیہ ہو چکا تھا کیوں کہ اس وقت وزارت خزانہ نے سال کی پہلی سہ ماہی کی قسط ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد بننے والی پی ڈی ایم کی حکومت نے ملک کو اقتصادی طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کی اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔ انتخابات کے بعد حکومت نے پھر وہیں سے اپنے سفر کا آغاز کیا لیکن امریکا ایران جنگ نے اس کوشش کو دھچکا پہنچایا۔ اس وجہ سے مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا۔
حکومت اس ضمن میں اپنی کوششیں کر رہی ہے۔ یقینا اس کے نتیجے میں صورت حال بہتر ہوئی ہے اور مزید ہو گی لیکن اس سلسلے میں اگر اقبالؒ سے رجوع کیا جائے تو ان سے اس بارے میں غیر معمولی راہ نمائی ملتی ہے۔ پیام مشرق کی پہلی نظم اس ضمن میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے جس میں کسی قوم کو مستقل طور پر اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کے لیے چھ نکاتی منشور پیش کیا گیا ہے۔
1- اقبالؒ فرماتے ہیں کہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے لیے خوئے غلامی اور احساس کمتری سے نجات ضروری ہے۔ کوئی قوم اپنی عزت نفس کی حفاظت کر کے ہی درست راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ دوسری صورت میں اس میں درست راہ پر چلنے کی صلاحیت ہی پیدا نہیں ہو سکتی۔
2- اس منشور کا دوسرا نکتہ ہے کہ حکمران اپنی قوم سے محبت کریں اور شفقت سے کام لیں۔ انھیں معاشی انصاف فراہم کریں، اس طرح قوم کا اعتماد بحال ہو جائے گا اور قوم معیشت کی بحالی کے عمل میں پورے خلوص کے ساتھ شریک ہو جائے گی۔
3- منشور کا تیسرا نکتہ خیر کثیر ہے۔ خیر کثیر سے مراد علم نافع کا حصول ہے۔ اقبالؒ کی نظر میں علم نافع سے مراد علم الاسما میں مہارت ہے۔ اقبالؒ نے یہ ترکیب قرآن سے مستعار لی ہے جس کا تعلق حضرت آدم علیہ السلام سے ہے کہ جب اللہ نے ان میں روح پھونکی تو اس کے ساتھ انھیں اشیا کے نام بھی بتائے۔ اقبالؒ کہتے ہیں کہ علم الاسما سے مراد تعلیم و تحقیق اور سائنس و ٹیکنالوجی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ علم نافع آزاد منش لوگوں کی مدد سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت غلامی کو فروغ دیتی ہے۔
اقبالؒ کے نزدیک یہ علم نافع ہی ہے جس کی مدد سے انسان میں پہاڑوں کا سینہ چیر کر ان میں چھپے ہوئے خزانے نکال کر انسانیت کی بہبود کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ غربت کے خاتمے اور اقوام عالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہونے کے لیے علم نافع ناگزیر ہے۔
4- اقبالؒ کہتے ہیں کہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے لیے مردم شناسی نہایت ضروری ہے۔ قوم بڑی احتیاط سے چھان پھٹک کر اپنی قیادت کا انتخاب کرے اور حکمران اسی حکمت سے کام لے کر اپنے معاونین کا انتخاب کریں۔
5- کامیابی کو دوام دینے کے لیے ضروری ہے کہ قوم ہر لمحہ اپنا احتساب کرتی رہے اور کبھی مطمئن ہو کر نہ بیٹھے۔
6- چھٹی چیز عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اقبالؒ کے خیال میں دین اور دنیا میں دوئی نہیں ہے۔ عشق مصطفی انسان کی کوششوں میں برکت پیدا کر کے اس کی منزل قریب کر دیتا ہے۔