چینی صدر کا دورہ ملتوی لمحہ فکریہ

چینی صدر کے اہم سرکاری دورے کا التواء بلاشبہ ملک کے لیے بڑا دھچکا ہے۔


Editorial September 06, 2014
چینی صدر کے اہم سرکاری دورے کا التواء بلاشبہ ملک کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ فوٹو؛فائل

چین کے صدر ژی جن پنگ نے پاکستان میں موجودہ سیاسی صورتحال میں سیکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان کا دورہ ملتوی کر دیا۔ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے کہا ہے چین کے صدر کا پاکستان کا دورہ نہ کرنا افسوسناک ہے، سفارتی اور سیاسی حلقوں کے مطابق اسلام آباد کے دھرنوں کے باعث چینی صدر نے دورہ ملتوی کیا ہے۔

چینی صدر کے اہم سرکاری دورے کا التواء بلاشبہ ملک کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ بادی النظر میں اس کی وجہ اسلام آباد کی مخدوش صورتحال بنی ہے تاہم اس درد انگیز واقعہ کے پس پردہ سیاسی و سفارتی ناکامیوں کے مضمرات اور خطے میں اس کے داخلی و خارجی اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ چین ہمارا انمول دوست ہے جو مصیبت میں ہمیشہ ہمارے کام آیا ہے، اس نے مسئلہ کشمیر سے لے کر دیگر عالمی ایشوز پر پاکستان کے اصولی موقف کی دنیا کے ہر فورم پر غیر متزلزل حمایت کی ہے، جب کہ خطے کی سیاسی، اقتصادی، عسکری اور تزویراتی اور سفارتی محاذ پر چین پاکستان مکمل ہم آہنگی، بین الاقوامیت، خیر سگالی اور پر امن بقائے باہمی کے عالمگیر اصولوں کی روشنی میں اس دوستی کو ہر گزرتے دن کے ساتھ مستحکم تر کرتے رہے ہیں، اس لیے کسی تحفظ اور پس و پیش کے بغیر یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ چین کے صدر ژی جن پنگ کے دورے کی منسوخی اگرچہ سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث اور اسلام آباد کی غیر یقینی صورتحال بتائی جاتی ہے۔

تاہم سفارتی اصطلاح اور دو طرفہ تعلقات کی روشنی میں اسے حکومت اور دھرنوں میں شامل حکومت مخالف قوتوں کے مابین عبوری و عارضی سیز فائر اور مفاہمت کی عدم خواہش کا شاخسانہ بھی کہا جا سکتا ہے، چینی صدر کا دورہ منسوخ ہوا تو اس میں چین کا کوئی دوش نہیں ساری وضاحتیں، معذرتیں اور ندامتیں ہمارے اس سیاسی اور سماجی نظام کے مقدر میں لکھی جائیں گی جو دوست اور دشمن میں تمیز نہ کر سکا۔ شیڈول کے مطابق چین کے صدر کو دو روزہ دورے پر 14 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنا تھا جو تاحال میدان جنگ بنا ہوا ہے، تھوڑی سی سیاسی کمٹمنٹ، دور اندیشی، معاملہ فہمی، تدبر اور قومی سوچ کا مظاہرہ ہوتا اور عفو و درگزر کے تحت عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری، وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی کابینہ، پارلیمنٹیرینز، سینیٹرز اور اپوزیشن جماعتیں مل کر چینی صدر کے مجوزہ دورے کی اہمیت، افادیت اور مقصدیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اجتماعی فیصلہ کرتیں اور دورے کی کامیابی تک اختلافات اور جنگ بندی کا اعلان ہوتا تو ملک کو خارجہ اور داخلی سطح پر اس ہزیمت اور بدنامی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

افسوس کہ حکومت، سیاسی جماعتوں اور حکومت مخالف قوتوں نے اس عارضی صلح کی طرف قدم نہیں بڑھائے اور دورہ ملتوی ہو گیا۔ سفارتی ذرایع کے مطابق دھرنوں کے باعث پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اب وہ پاکستان نہیں آئیں گے۔ دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ چینی سیکیورٹی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی اور اْنہیں دھرنوں کی وجہ سے چینی صدر کی لاہور آمد اور وہیں پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بارے میں تجویز دی گئی تھی تاہم چینی حکام نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اہلکار کے مطابق چینی صدر مناسب وقت پر پاکستان کا دورہ کریں گے۔

اہلکار کے مطابق چینی سیکیورٹی ٹیم کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ چونکہ لاہور ایک گنجان علاقہ ہے اس لیے وہاں پر چین کے صدر نہیں جا سکتے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ دھرنا اور لانگ مارچ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، دوسرے ممالک کو تشویش کی ضرورت نہیں ہے ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا چین دیرینہ دوست ہے، چینی صدر کے دورے کا اعلان باہمی مشورے سے کیا جائے گا۔ اس دورے کی اقتصادی اور دفاعی معاہدوں کے حوالہ سے انتہائی اہمیت تھی جس میں توانائی اور معاشی تعاون کے معاہدے ہونے تھے۔ وفاقی حکومت کے مطابق چین کے صدر کا دورہ ملتوی ہونے سے پاکستان اور چین کے درمیان توانائی، ٹرانسپورٹ، انفراا سٹرکچر سمیت دیگر شعبوں کے لیے 34 ارب ڈالر مالیت کے معاہدے و ایم او یوز متاثر ہوئے ہیں جن میں توانائی کے شعبہ میں چودہ ارب ڈالر کے منصوبے، چین کے ساتھ قراقرم ہائی وے فیز ٹو، ڈویلپمنٹ آف گوادر پورٹ، لاہور کراچی موٹروے، اورینج لائن میٹرو پراجیکٹ لاہور کے علاوہ چار میگا انفراء سٹرکچر پراجیکٹس سمیت توانائی شعبہ کے چودہ منصوبے شامل ہیں۔

سفارتی ذرایع کا یہ کہنا قابل غور اور لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستانی حکام کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا ہے کیونکہ چینی صدر اس خطے کے دورے میں بھارت تو جائیں گے مگر وہ پاکستان نہیں آئیں گے۔ چینی صدر کے دورہ کا شیڈول اب ملکی حالات بہتر ہونے کے بعد دوبارہ طے کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سری لنکا اور مالدیپ کے صدور بھی اپنا دورہ پاکستان منسوخ کر چکے ہیں۔ ہم حکومت اور اس کی مخالف جماعتوں کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ 1967-70ء میں برازیل کے عظیم فٹ بالر ''پیلے'' کا میچ دیکھنے کے لیے نائیجیریا کی دو متحارب قوتوں نے 48 گھنٹے کے لیے خونریزی روک دی تھی جب کہ افریقہ میں اس وقت ہولناک خانہ جنگی جاری تھی۔ ہم میں اتنا تحمل اور برداشت بھی نہیں۔ سابق صدر آصف زرداری نے چین کے صدر کا پاکستان کا دورہ ملتوی ہونے کی خبروں اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ادھر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے انقلاب مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ چینی صدر نہیں آ رہے تو یہ حکومت کی ناکامی ہے۔

اگر وہ اسلام آباد آئے تو عوامی تحریک کے کارکنان ان کا والہانہ استقبال کریں گے، اس سے قبل عمران خان بھی اسی قسم کا بیان دے چکے ہیں کہ چینی صدر کی آمد پر تحریک انصاف پاکستان ان کا فقیدالمثال استقبال کریگی۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ چینی صدر کے دورہ کا دھرنے سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی یہ ان کے خلاف ہے۔ بہر حال سیاسی اور سفارتی سطح پر کوششیں اگر بوجوہ بار آور ثابت نہ ہو سکیں تو ان کی روشنی میں ارباب اختیار دورے کی نئی تاریخ طے کرنے سے پہلے اسلام آباد سمیت ملکی سیاسی ماحول میں تلخی اور کشیدگی ختم کرنے کی سوچیں، حکومت مخالف قوتوں کو بھی پاک چین دوستی کی آبرو قائم رکھنے اور خطے میں امن، ترقی، خیر سگالی، اور بقائے باہمی کے لیے چینی صدر کے دورے کو یقینی بنانے کے لیے کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اسی میں ملک کی نیک نامی مضمر ہے۔