تنخواہیں نہ ملنے پر بلدیہ سٹی حیدرآباد کے ملازمین نے ہڑتال کر دی

افسران کے خلاف نعرے، 18ماہ سے تنخواہ نہیں ملی منظور نظر ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، اکرم راجپوت۔


Numainda Express September 27, 2012
ملازمین در درکی ٹھوکریںکھا رہے ہیں، مظاہرین،آج تنخواہیں نہ دینے پر تمام دفاترمیں غیرمعینہ مدت تک کام چھوڑنے کا اعلان فوٹو: فائل

حیدرآباد میں بلدیہ سٹی کے ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف مرکزی دفتر میں کام چھوڑ ہڑتال کی۔

عمارت کے دروازے بندکرکے احتجاج کیا اور افسران کیخلاف نعرے لگائے جبکہ تنخواہیں ادا نہ کیے جانے پرجمعرات 27 ستمبر سے تمام دفاتر میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

اسٹاف یونین کالعدم تعلقہ سٹی سی بی اے کے تحت بلدیہ سٹی کی عمارت کے احاطے میں ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ اور مین گیٹ پر پتھرائو بھی کیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سی بی اے کے جنرل سیکریٹری محمد اکرم راجپوت نے کہا کہ تقریباً 20 فیصد پرانے ملازمین جولائی 2012ء سے جبکہ نئے ملازمین 18 ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں لیکن منظور نظر ٹھیکیداروں کو ادائیگی کی جا رہی ہے جبکہ ملازمین در در کی ٹھوکریںکھا رہے ہیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیہ سٹی کے ملازمین کوفوری طور پر تنخواہیں ادا کی جائیں۔ واضح رہے کہ اس وقت تعلقہ سٹی میں نہ تو ایڈمنسٹریٹر موجود ہے اور نہ ہی میونسپل کمشنر جب کہ دیگر افسران بھی محض ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے لیے دفاتر میں آتے ہیں۔

ماضی میں ماہانہ اوسطاً 50 لاکھ روپے ریکوری ہوتی رہی ہے، تاہم اس وقت حالت یہ ہے کہ ابھی ابتدائی مہینوں میں ہی ریکوری صرف ایک سے دو لاکھ روپے ماہانہ ہے جس میں بہتری کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔