ایشین گیمز میں مجموعی کارکردگی پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ

ویمنز کرکٹ میں گولڈ میڈل، ہاکی ٹیم نگاہوں کا مرکز


Mian Asghar Saleemi September 28, 2014
ویمنز کرکٹ میں گولڈ میڈل، ہاکی ٹیم نگاہوں کا مرکز ۔ فوٹو : فائل

KARACHI: ''ایک تو تم لوگ مثبت کم منفی زیادہ سوچتے ہو، ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے ہو کہ کوئی ایسی خبر مل جائے جسے پڑھ کر قارئین کے تن بدن میں آگ لگ جائے، ہاں یہ سچ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہم ورلڈ کپ میں شرکت نہ کر سکے، ایک سال سے انٹرنیشنل مقابلوں کا حصہ بھی نہیں بن سکے۔

20 ماہ سے کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ بھی نہیں مل سکے، پلیئرز پر سرکاری نوکریوں کے دروازے بھی بند ہوتے جا رہے ہیں، فیڈریشن کی طرف سے کشکول ہاتھ میں لئے فنڈز کا تقاضا کیا جا رہا ہے لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود وفاقی حکومت سے ایک پائی بھی نہیں مل سکی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری اتنی عمر نہیں جتنا میرا تجربہ ہے۔ اپنی ساری زندگی کھیلوں کے عالمی میدانوں میں گزاری ہے۔



اس دوران کئی نشیب وفراز دیکھے ہیں، ان کھلاڑیوں کو بھی جانتا ہوں جن میں سے ایک کا ہاتھ ٹیڑھا تو دوسرے کی ٹانگ چھوٹی تھی لیکن یہ دونوں مل کر پاکستان کو میکیسکو اولمپکس 1968ء میں گولڈ میڈل جتوا گئے،کونرائے نے شراب کے نشے میں پاکستان کے خلاف نازیبا الفاظ کہے تو اگلے روز شاہینوں نے میچ میں اس کا وہ حال کیا کہ اسے سٹریچر پر لٹا کرگراؤنڈ سے باہر لے جانا پڑنا۔ ممبئی ورلڈ کپ 1982ء میں فتح کے بعد ٹیم کا وہ حال ہوا کہ کچھ ہی عرصہ میں ہم متعدد عالمی اور ایشیائی ٹائٹلز سے محروم ہو کر ناکامیوں اور مایوسیوں کے اندھیروں میں اتر گئے لیکن پھر اسی ٹیم نے لاس اینجلس اولمپکس 1984ء میں گولڈ میڈل جیتا، کہا گیا کہ کھلاڑی ورلڈ کپ تو درکنار چائے کا کپ بھی نہیں جیت سکتے، پھر چشم فلک نے وہ دن بھی دیکھا جب گرین شرٹس نے نہ صرف عالمی کپ جیتا بلکہ اسی برس چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔

تم ایک بار پھر دیکھو گے کہ تمام ترناکامیوں اور ماسیوں کے باوجود ہم کوریا میں ہونے والی ایشین گیمز میں بھارت سمیت تمام ٹیموں کو نہ صرف دھول چٹائیں گے بلکہ ہماری ایشیائی ٹائٹل کے دفاع کی مہم بھی مکمل ہوگی، یہ تم لوگ کیا ہر وقت کرکٹ، کرکٹ اور کرکٹ کی رٹ لگائے رہتے ہو، خود ہی بتاؤ کہ کرکٹ نے1992 اور 2009ء کے عالمی کپ کے علاوہ اور کون سے کارنامے سر انجام دیئے ہیں، دنیا میں متعدد ممالک ایسے ہیں۔



جہاں ہم نے صرف اور صرف اپنے کھیل کے ذریعے پاکستان کی پہچان کروائی۔ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے لیکن اس حقیقت سے پردہ ضرور اٹھاؤں گا کہ ملک کے دیگر تمام کھیل مل کر اتنے میڈلز نہیں حاصل کرپائے جتنے صرف ہاکی نے قوم کی جھولی میں ڈالے ہیں۔'' ماضی کا یہ عظیم پلیئر شاید دل کی بھڑاس اور نکالنا چاہتا تھا لیکن اس کے بدلتے تیور دیکھ کر میں نے وہاں سے رخصت لینے میں ہی عافیت سمجھی۔

25 ستمبر کوپاکستان اور بھارت کی ہاکی ٹیموں کے درمیان میچ دیکھنے کے بعد میرے لبوں سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے،کہتا تو وہ ٹھیک ہی تھا، ہمارے مذہب نے بھی مایوسی کو کفر قرار دیا ہے۔ روایتی حریف کے خلاف گرین شرٹس نے جس شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اس سے 1960 سے 1984 تک کی ہاکی کی سنہری یادیں تازہ ہو گئیں،گو ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں، پاکستان ہاکی ٹیم کو ایشین گیمز میں ٹائٹل کے دفاع کیلیے ابھی 2 دیواریں اور گرانا ہوں گی۔

خدا خدا کر کے ویمنز کرکٹ ٹیم فائنل میں بنگلہ دیش کو ہرا کر ایشین گیمز میں اپنے اعزاز کے دفاع اور پاکستان کے لیے ایونٹ کا پہلا گولڈ میڈل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے جس پر کپتان ثنامیر اور پلیئرز مبارکباد کی مستحق ہیں، حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے توگرین شرٹس کی کامیاب مہم میں کھلاڑیوں کی کارکردگی سے زیادہ، مضبوط حریف بھارت کی ایونٹ میں عدم شرکت کا کردار ہے، بھارتی ٹیم ایشین گیمز میں شرکت کو وقت اور پیسے کا ضیاع سمجھتی ہے اس لئے2010 کے بعد کوریا میں جاری ایونٹ کا حصہ بننے سے بھی انکار کردیا، اگر روایتی حریف کا سکواڈ بھی ان گیمز میں شریک ہوتا تو پاکستان کیلیے گولڈمیڈل کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا۔



ویمنز کرکٹ کے بعد پاکستان نے دوسرا میڈل ووشو میں حاصل کیا ہے، یہ اعزاز سید مراتب علی نے مردوں کے 70 کلوگرام میں چوتھی پوزیشن کے ساتھ اپنے نام کے آگے درج کرایا، ایشین گیمز کے قانون کی رو سے ٹاپ فور میں جگہ بنانے والے کھلاڑی بھی میڈل کے حقدار ٹھہرتے ہیں، اگر ایشیائی گیمز پر بھی عالمی کھیلوں کا قانون لاگو ہوتا تو یقینی طور پر پاکستان دوسرے میڈل سے محروم رہ جاتا۔قومی دستے کی دوسری گیمز میں کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی مایوس کن صورتحال نظر آتی ہے۔ پاکستان بیس بال،فٹبال، ٹینس، سکواش، والی بال، بیڈمنٹن اور سوئمنگ کے مقابلوں میں پہلے ہی مرحلے سے باہر ہو چکا ہے۔

سوئمنگ سمیت متعدد کھیل تو ایسے بھی ہیں جن میں بیشتر پاکستانی کھلاڑی ابتدائی ہیٹ میں بھی آخری نمبروں پر ہی رہے، سکواش میں تو اس بار ٹیم ایونٹ کا گولڈ میڈل بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ کبڈی، باکسنگ اور ریسلنگ کے مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑی ایکشن میں ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ ان کھیلوں میں قسمت پلیئرز کا کس حد تک ساتھ دیتی ہے۔

20 کروڑ کی آبادی کے اس ملک پاکستان میں کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ جب کھلاڑیوں کا چناؤ میرٹ کی بجائے پسند ناپسند پر ہو گا، اپنے بیٹوں، بھانجوں، بھتیجوں اورچہیتوں کو ٹیموں کا حصہ بنایا جائے گا تو میڈلز کی بجائے طعنے، رسوائی اور مایوسی ہی ہمارا مقدر بنے گی، بعض کھلاڑی تو ایسے بھی ہیں جو سال بھر رہتے تو دیار غیر میں ہیں لیکن جونہی انٹرنیشنل مقابلے آتے ہیں توان کے دلوں میں وطن کی ''محبت'' جوش مارنے لگتی ہے اوروہ ارباب اخیتار کی ملی بھگت یا کسی بڑی سطح پر ہونے والے ایونٹ کو جواز بنا کرسکواڈ کا حصہ بننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور جب مقابلے شروع ہوتے ہیں تو ابتدائی سٹیج پر ہی ایونٹس سے باہر ہو کر پاکستان کی جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں۔



یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی 3 درجن سے زائد کھیلوں کی فیڈریشنوں کے بیشتر عہدیداروں کا مقصد کھیلوں کے فروغ کی بجائے دنیا بھر کے سیر سپاٹے جبکہ کھلاڑیوں کا ''ماٹو'' میڈلز کے حصول کی بجائے ایونٹس میں صرف شرکت کرنا ہی رہ گیا ہے۔سوشل ویب سائٹس پر دیکھیں تو ایشین گیمز کے دوران پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل سمیت ملک بھر کی مختلف کھیلوں کے عہدیدار اور کھلاڑیوں کی ایسی ایسی تصاویر ملیں گی جن کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہو گا کہ قومی دستہ ایشین گیمز کی بجائے کسی فیشن شو میں شرکت کے لیے کوریا گیا ہے۔ چلو یہ مان لیا کہ اولمپکس اورکامن ویلتھ گیمز میں تو امریکہ، کنییڈا، برطانیہ سمیت دنیا کے بڑے بڑے ممالک کے کھلاڑی شریک ہوتے ہیں لیکن ہماری صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ عالمی تو درکنار ایشیائی سطح پر بھی ہمارے کھلاڑی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

اب تک کی ایشین گیمز میں چین 2553 میڈلز کے ساتھ سرفہرست ،جاپان 2650 میڈل کے ساتھ دوسرے اور جنوبی کوریا 1829 میڈلز کے ساتھ تیسرے نمبرپر ہے۔ ایران کی چوتھی جبکہ بھارت کی پانچویں پوزیشن ہے جبکہ پاکستانی ٹیم ایشیائی سطح پر ٹاپ 10 میں بھی جگہ نہیں بنا سکی ہے۔موجودہ گیمز میں بھی چین کی 179 میڈلز کے ساتھ پہلی پوزیشن ہے، جنوبی کوریا دوسرے اور جاپان تیسرے نمبر پر ہے جبکہ 45 ممالک میں پاکستان کا 18واں نمبر ہے۔ 1962ء کی ایشین گیمز میں پاکستانی دستہ 4 طلائی تمغوں سمیت مجموعی طور 28 میڈلز حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور یہ اس ایونٹ میں قومی کھلاڑیوں کی سب سے بہترین کارکردگی ہے۔

بعد ازاں پاکستانی پلیئرز کی کارکردگی کا گراف اوپر جانے کی بجائے دن بدن نیچے ہی جا رہا ہے۔ اب تو صورت حال اتنی گھمبیر ہوتی جا رہی ہے کہ ساف گیمز میں بھی بھارت تو درکنار اب تو بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک بھی پاکستان سے میڈلز کی دوڑ میں آگے نکلتے جا رہے ہیں۔



2010ء میں بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں شیڈول ساف گیمز میں پاکستان نے 19 گولڈ میڈل کے ساتھ ایونٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تاہم مجموعی میڈلز کا جائزہ لیا جائے تو سری لنکا نے 105 اور بنگلہ دیش نے 97 میڈلز حاصل کئے۔ ہمیں یہ ماننا اور تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جو ہم سے آبادی اور رقبہ کے لحاظ سے چھوٹے بھی ہیں اور وسائل میں کم بھی لیکن وہ دوسرے شعبوں کی طرح کھیلوں میں بھی ہم سے بہت آگے ہیں۔

پاکستانی نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، اس ملک کے کونے کونے میں جان شیر خان، جہانگیر خان، محمد یوسف، عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، عبدالقادر، بریگیڈیئر عاطف، شہناز شیخ اور اختر رسول جیسے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں جو عالمی افق پر کامیابیوں کی نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے پر عزم بھی ہیں لیکن ان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دینے کے لیے بڑے انقلابی اقدامات اور تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔

[email protected]

مقبول خبریں