سندھ میں گندم کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

طلب اور رسد میں فرق کے باعث کھلی منڈی میں سوکلو گندم کی بوری 2 ہزار 950 روپے میں فروخت کی جانے لگی


Numainda Express September 28, 2012
محکمہ خوراک سندھ کے گوداموں میں 15لاکھ ٹن ذخیرہ ہونے کے باوجود چکیوں اور ملوں کو گندم فراہم نہیں کی جا رہی

محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے گندم پالیسی کے اعلان میں تاخیر اور ذخیرہ کی گئی۔

گندم جاری نہ کرنے کے باعث حیدرآباد سمیت سندھ بھر کی کھلی منڈی میں گندم کی قیمت انتہائی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے اور کھلی منڈی میں اس وقت سوکلو گندم کی بوری 2 ہزار 950 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔

آٹا چکی مالکان ذرائع کے مطابق ہرسال ستمبر میں پالیسی کااعلان کرتے ہوئے گندم کے سرکاری نرخ اور اسکی آٹا چکیوں اور فلور ملوں کو ترسیل شروع کردی جاتی ہے جسکے نتیجے میں کھلی مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں استحکام رہتا ہے اور آٹے کی قیمت میں اضافہ بھی نہیں ہوتا لیکن اس مرتبہ نامعلوم وجوہ کی بنا پر نہ تو گندم پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے۔

نہ ہی گندم جاری کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں سندھ کی کھلی مارکیٹ میں گندم کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ محکمہ خوراک سندھ کے پاس اس وقت 15 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ بھی موجود ہے لیکن نامعلوم وجوہ پر وہ گندم آٹا چکیوں اور فلورملوں کو فراہم نہیں کی جارہی ہے۔

جس کے نتیجے میں سندھ میں ذخیرہ اندوزوں کے مزے آگئے ہیں اور طلب ورسد میں فرق کے باعث کھلی منڈی میں گندم کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں جس کا اثر آٹے کی قیمتوں پر بھی پڑے گا اورغریب عوام اس سے براہ راست متاثر ہوں گے۔