بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے اندرونی حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی

بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اس نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا


اجمل ستار ملک October 17, 2014
’’پاکستان کی اندرونی صورتحال اور حالیہ بھارتی جارحیت ‘‘ کے حوالے سے ایکسپریس فورم میں مذاکرہ کی رپورٹ۔ فوٹو: وسیم نیاز

کہا جاتا ہے کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اس نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا ۔

یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی کبھی پاکستان کے اندرونی حالات خراب ہوئے، بھارت نے ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ موجودہ صورتحال میں بھی جب اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے گزشتہ دو ماہ سے جاری ہیں تو اس نے اس اندرونی کشمکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر کھلم کھلا جارحیت شروع کر رکھی ہے جس سے متعددبے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوچکے ہیں ۔''پاکستان کی اندرونی صورتحال اور حالیہ بھارتی جارحیت'' کے حوالے سے ایکسپریس فورم میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ہونے والی گفتگو نظر قارئین ہے۔

شیخ روحیل اصغر
(رہنما مسلم لیگ (ن) و چیئرمین
قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی برائے دفاع)
گزشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کی اور کشمیر کے مسئلے پر آواز اٹھائی۔ یہ اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس تھا جس میں وزیر اعظم پاکستان سمیت دنیا بھر سے سربراہان مملکت نے شرکت کی اور اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ میں نے ایسے فورم پر اتنے پر جوش طریقے سے بات کرنے والے دو ہی لیڈر دیکھے ہیں ۔ایک ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے ایسے ہی ایک اجلاس میں آواز اٹھائی اور انہیں اس کی سزا دی گئی جبکہ دوسرے میاں نواز شریف ہیں۔

جنہوں نے بڑے مثبت اور مضبوط انداز میں کشمیر ایشو پر بات کی ،جسے دور تک سنا گیا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے اپنے ہی لوگوں نے اس پر تنقید کی جس سے بیرونی طاقتوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کوشش کی کہ بھارت کے ساتھ اچھے مراسم قائم ہوں،کاروباری تعلقات بہتر ہوں اور دونوں ممالک جنگ و جدل سے ہٹ کر بہتر ماحول میں اپنے مستقبل کیلئے کام کریں اور ہم ان کی اس کوشش کو سراہتے ہیں۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور دل سے کبھی اس نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے اندرونی حالات خراب ہوئے ۔

بھارت نے ان سے فائدہ اٹھایا ہے اور اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہیں۔ہم تنقید کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم پاکستان کو کمزور کر رہے ہیں ۔میرے نزدیک حالیہ بھارتی جارحیت بھی کسی پلان کا حصہ ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ بھارت بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور پاکستانی فوج دفاع کے ساتھ ساتھ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ لہٰذا بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ کا متحمل نہیںہو سکتا۔مجھے اعجاز چوہدری صاحب کی ایک بات پر انتہائی تعجب ہوا ہے کہ جب پاکستان کی سلامتی کی بات آئے گی تو یہ پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے ہمارے ساتھ ہاتھ ملانے سے پہلے سوچیں گے۔لہٰذا یہ لمحہ فکریہ ہے۔



ان کی سوچ کی حد تو صرف اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ ان کی حکومت آئے اور وزیراعظم ان کا ہو۔ یہ بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی قوم ایسی حالت میںجنگ نہیں جیت سکتی جب وہ اندرونی طور پر کمزور ہو۔ یہ ایک مجرمانہ فیل ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ تاریخ میں اس بات کا تذکرہ بھی کیا جائے گا کہ اس حالت میں ان کا رویہ اور کردار کیا تھا۔جہاں تک بھارتی جارحیت کی بات ہے تو پاکستان دفاع کے ساتھ ساتھ اس کا جواب بھی دے رہا ہے اور جس فورم پر بھی آواز اٹھائی جا سکتی ہے پاکستان وہاں آواز بلند کر رہا ہے۔بھارتی جارحیت پاکستان کو کمزور کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے اور بد قسمتی سے ہمارے اپنے لوگ اس میں شامل ہیں ۔ اب اگر ملکی سیاسی صورتحال پر بات کریں تو یہ دھرنا محض یک نکاتی ایجنڈے پر شروع کیا گیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ کسی مسئلے کو زیر غور نہیں رکھا گیا۔

ہم تو اقتدار میں نہیں تھے اور نہ ہماری مرضی سے کوئی اقتدار میں آیا۔انتخابات ہوئے اور اس کے نتائج کے مطابق ہماری حکومت بن گئی اور ان کی وزیر اعظم بننے کی خواہش پوری نہ ہوئی لہٰذا انہوں نے دھرنا دے دیا۔انہیں چاہیے کہ پاکستان اور جمہوریت کیلئے اپنی ضد چھوڑ دیں اور قومی اسمبلی کے فورم پر آجائیں اور جویہ سمجھتے ہیںکہ سسٹم میں خرابیاں ہیں انہیں درست کرلیں تاکہ آئندہ انہیں انکے مطلب اور منشاء کے مطابق نتائج حاصل ہوں ۔یہاں تو یہ صورتحال ہے کہ دھرنا دینے والی جماعتوں میں سے ایک سیاسی جماعت ہے جبکہ دوسری جماعت کا تو کوئی سیاسی سٹیک ہی نہیں ہے ۔طاہر القادری نے تو اب یہ اعلان کیا ہے کہ ہم سیاست میں حصہ لیں گے جس کے لیے انکو مختلف مراحل میں سے گزرنا پڑے گا۔عمران خان تو اس پارلیمنٹ کا حصہ ہیں اور اس جمہوری عمل کو اپنے لیے بہتر سمجھتے رہے جبکہ طاہرالقادری اس نظام کو غلط کہتے تھے اور اسے لپیٹنا چاہتے تھے۔ مگر اب انہوں نے بھی اس سسٹم کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

عمران خان اپنے دھرنے اور جلسوں میں ہمارے خلاف ناشائستہ گفتگو کرتے ہیں مگر کراچی کے جلسے میں دھاند لی کے خلاف ایک بھی لفظ انکے منہ سے نہیں نکلا۔میں یہ پوچھتا ہوں کہ وہاں ان کی بہادری اور سچائی کدھر گئی۔اس وقت کچھ لوگ مڈٹرم الیکشن کی بات کر رہے ہیں ۔میرے نزدیک مدٹرم الیکشن کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے حالات ہوں جس میں ملکی معاملات بالکل نہ چل رہے ہوں اور حالات تباہی کے دھانے پر پہنچ جائیں۔موجودہ صورتحال میں مڈ ٹرم الیکشن کی کوئی ضرورت نہیں ہے مگریہ لوگ خود ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

حافظ حسین احمد
(مرکزی سیکرٹری اطلاعات جمعیت علماء اسلام (ف)
سیاسی اعتبار سے ہر جماعت اور اسکی قیادت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد کو آئین اور قانون کے مطابق آگے بڑھائے۔2013ء کے انتخابات میں باقی جماعتوں کی طرح جمعیت علماء اسلام کو بھی تحفظات تھے۔میرا تعلق بلوچستان سے ہے اور وہاں صرف 25 ووٹ لینے والے امیدوار بھی اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔اسی طرح خیبر پختونخوا، اندرون سندھ خصوصاً کراچی میں بھی شدید دھاندلی ہوئی جس پر مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف سمیت ہر جماعت کو تحفظات تھے۔تحریک انصاف کے پاس ایک نادر موقع تھا کہ وہ ماضی کو دیکھ کر فیصلہ کرتی۔ماضی میں انتخابات کے حوالے سے قومی اتحاد کی تحریک چلی۔

اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اورذوالفقار علی بھٹو نے الیکشن کا اعلان کیا تھا۔پھر قومی اتحاد بنی اور اس کی قیادت نے قومی و صوبائی اسمبلی کے الیکشن کے نتائج کا بائیکاٹ کیا۔تحریک انصاف کے پاس تو اس سے بھی بہتر موقع تھا۔انہیں چاہیے تھا کہ جمعیت علماء اسلام،پاکستان پیپلز پارٹی،مسلم لیگ (ق)،ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں سے بات کرتے جنہیں الیکشن پر تحفظات تھے اور وہی طریقہ اپناتے جو قومی اتحاد نے اپنایا تھا ۔اگر یہ ایسا کرتے توآج صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔ تحریک انصاف نے چار حلقوں کی بات کی اور پھر انہوں نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں ایک سال سے زیادہ وقت گزارا اور خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں تویہ آج بھی بیٹھے ہوئے ہیں ۔ان کی قومی اور صوبائی سوچ میں تضاد ہے۔ان کے خیبرپختونخوا کے قومی اسمبلی کے ارکان نے استعفیٰ دیا مگر صوبائی اسمبلی کے ارکان نے نہیں دیا۔



اگر خیبرپختونخوا کے قومی اسمبلی کے حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں دھاندلی نہ ہوئی ہو۔اس لیے جو مثال قومی اتحاد نے قائم کی تھی اس میں یکساں طور پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا گیا۔ آج یہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنے مفادات کے لیے حکومت کا ساتھ دے رہی ہے مگرایسا نہیں ہے۔ہمارے سامنے قومی اتحاد کی تحریک کا انجام ہے جس کا خاتمہ مارشل لاء پر ہوا۔لہٰذا ــــدودھ کا جلا تو چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ ہمیں تو یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ اپنے آپکو دہرا نے کی کوشش کررہی ہو۔اس لئے ہم نے جمہوریت کا ساتھ دیا۔ 11 مئی سے لے کر استعفے دینے کے دن تک یہ خود قومی اسمبلی کی نشست پر برقرار رہے ہیں۔

 

اب اگر یہ ایک انگلی پیپلزپارٹی،جے یو آئی،اے این پی اور وہ تمام جاعتیںجو پارلیمنٹ میں موجود ہیں ان پر اٹھاتے ہیںتو چار انگلیاں ان کی اپنی طرف اشارہ کر تی ہیںکیونکہ یہ ایک سال تک اسی اسمبلی میں بیٹھے رہے اوراس کی نمائندگی کرتے رہے ۔ان کا استعفیٰ دینا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انہوں نے خود کواس اسمبلی کا ممبر تسلیم کیا اور سال بھر اس سے مراعات بھی حاصل کیں۔اب یہ مڈٹرم الیکشن کی بات کر رہے ہیں ۔لیکن یہاں اہم بات یہ ہے کہ الیکشن کون کروائے گا۔اگر آئینی طریقہ کار دیکھیں توصرف وزیر اعظم ہی مڈٹر الیکشن کرواسکتے ہیں اور یہ صورتحال عمران خان کو قبول نہیں ہوگی۔اب اسکے علاوہ تو مڈٹرم الیکشن کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ طاہر القادری نظام کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں جب کہ عمران خان ناظم تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ طاہر القادری اول دن سے کہتے رہے کہ یہ اسمبلیاں غلط ہیں،ہم اس الیکشن کو نہیں مانتے اور یہ نظام ختم ہوجانا چاہیے۔عمران خان کہتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے رہے۔



یہ دونوں تبدیلی کی بات کرتے ہیں مگر تبدیلی خودان دونوں میں آگئی ہے۔ طاہر القادری نے کہا کہ اگر کل انتخابات ہوں تو عوامی تحریک ان میں حصہ لے گی۔یہ اتنی بڑی تبدیلی ہے کہ انہوں نے اپنی ہی بات مسترد کر دی اور ہم اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔اہم بات یہ ہے کہ ایک دن میں تو نظام تبدیل نہیں ہو سکتا تو پھراسکا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اس نظام کو درست ما ن لیا ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان نے بھی از خود دھرنا ختم کردیا ہے کیونکہ دھرنے کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ ایک جگہ احتجاج کر کے بیٹھ جائیں اور اپنے مطالبات پورے ہونے تک وہاں سے نہ ہلیں ۔مگر انکا دھرناتومتحرک ہوگیا ہے اور پوری دنیا میں موبائل دھرنے کی کہیں مثال نہیں ملتی۔عمران خان تو دھرنے کو اسلام آباد سے کراچی،لاہور، میانوالی اورپھر ملتان لے گئے۔لہٰذا یہ دھرنا اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔اب اگر انہیں کوئی موم کی ناک دے دے تو معاملات حل ہوجائیں گے۔

ہمیں ان سب مسائل کو بین الاقوامی سطح پر دیکھنا ہوگا کہیں ایسا نہ ہو کہ بیرونی طاقتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائیں ۔ہمارے اطراف میں جو بھی واقعات ہوتے ہیں انکا اثربراہ راست پاکستان پرہوتا ہے۔انڈیا کے ہزاروں فوجی افغان فوج میں موجود ہیں اور وہاں اسکے سفارت خانے بھی ہیں۔ انڈیا کا افغانستان میں اثرورسوخ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ۔ لہٰذا پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرنا ہوگی اور بدقسمتی سے ہمارا وزیرخارجہ ہی نہیں ہے ۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ حکومت اپنے کمزور کندھوں پہ اتنابوجھ نہ ڈالے۔وزیر اعظم کووقت کی نزاکت سمجھتے ہوئے فوری طور پر اے پی سی بلانی چاہیے اور مسائل کوجلد از جلدحل کرنا چاہیے۔یہ ملکی سالمیت کا مسئلہ ہے لہٰذا تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔

اعجاز چوہدری
(صدر پاکستان تحریک انصاف پنجاب)
پاکستان تحریک انصاف کا دھاندلی کے خلاف دھرناپچھلے دو ماہ سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور دن بہ دن اسکے شرکاء کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ہمارے مقاصد بالکل واضح ہیں اور ہم اپنے مطالبات پورے ہونے تک یہ دھرنا جاری رکھیں گے۔ ہم نے گذشتہ انتخابات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ نمونے کے چند حلقے کھولیںجائیں تاکہ صورتحال واضح ہوسکے۔ تحقیقات کیلئے جو پندرہ حلقے کھلولے گئے ان میںسنگین درجے کی کمزوریاں اور خرابیاںسامنے آئیں جن سے ہمیں یقین ہو گیا کہ انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔

میں نے 11مئی کو شام چھ بجے لاہور پریس کلب میںایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ آج پورے پنجاب سے شکایات آئی ہیں کہ پولیس ن لیگ کا ساتھ دے رہی ہے اور ریٹرننگ افسران سمیت پریزائڈنگ کا سارا عملہ کسی کی بات نہیں سن رہا۔ یہ انتخابات کے بارے میں سب سے پہلا بیان تھا جو کسی بھی جماعت کی طرف سے سامنے آیا تھا۔چناچہ جب ہمیں ہر طرح سے یقین ہوگیا کہ دھاندلی ہوئی ہے اورہماری کہیں شنوائی نہ ہوئی تو پھر ہم نے اپنا آئینی اور جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے 14 اگست کو دھاندلی کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کیا۔جس میں لاہور سے اسلام آباد تک لاکھوں لوگ اس کارواں کے ساتھ چلے اور ہم نے اسلام آباد میں دھرنا دیاجوابھی تک کامیابی سے جاری ہے۔ ہم اپوزیشن ہیں اور اپوزیشن کا یہ حق ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عوام کی آواز بنے اور حکومت کے غلط اقدامات کے خلاف آواز اٹھائے۔

ہمارے ہاں گذشتہ پانچ سالوں میں فرینڈلی اپوزیشن کا جو ماڈل بنا ہم اس کے خلاف ہیں کیونکہ اس میں اپوزیشن والی کوئی کیفیت ہی نہیں تھی۔ موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی قیمت ایک سال میں دگنی ہوگئی ہے مگر ریونیو پچھلے سال کے برابرآیا ہے جس کامطلب یہ ہے کہ قیمت کے ساتھ ساتھ بجلی چوری میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ہم نے مہنگائی اوربیروزگاری سمیت دیگر عوامی مسائل اجاگر کیے جس سے ہمیں عوام میں پزیرائی ملی۔ ہمارے دھرنے اور جلسوں میںخواتین کی شرکت بھی نمایاں ہوئی جس پر ہمیں تلخ و ناروا فقرے بھی سننے کوملے۔میں یہ کہتا ہوں کہ حکومت اس دھرنے کو روٹین نہ سمجھے۔ یہ عوام کی آواز ہے اور اب عوام جو بھی فیصلہ کریں گے، پارلیمنٹ اوروزیر اعظم کو اس کا احترام کرنا ہوگا۔



ہم نے عوام سے رابطے تیز کردیے ہیں اور ہم نے صرف 72 گھنٹے کے نوٹس پر کراچی میں بہت بڑاجلسہ کیا۔اسکے بعد لاہور،میانوالی اور ملتان میں بھی جلسے کیے جن سے یہ ثابت ہوگیا کہ عوام تحریک انصاف کے ساتھ ہیں ۔جہاں تک ہمارے پارٹی ممبران کے بیانات کی بات ہے تو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی کوئی بات یا کسی بھی عہدیدار کا کوئی بھی فقرہ ہماری جماعت کی پالیسی کو نہیں بدل سکتا۔ہم پہلے دن سے ہی انتخابات میں دھاندلی کی بات کر رہے ہیں اور ہم نے یہ مطالبہ کیا کہ دوبارہ تحقیق کی جائے اور اگر دھاندلی ثابت ہو تو انتخابات دوبارہ کروائے جائیں۔ موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی اور پارلیمنٹ کی عوامی مسائل پر عدم توجہی ہر روز ہمارے دھرنے کو ایک نئی روح دیتی ہے لہٰذاہمارا دھرنا ہمارے مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا۔ بھارتی جارحیت امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

ہم امن پسند ہیں اور خطے میں امن چاہتے ہیں ۔ہمارا ہر معاملے میں حکومت سے اختلاف نہیں ہے۔9 ستمبر کوہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں ہم نے پورے جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ہم وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔لیکن اگر حکومت اپنے کاروباری مفادات کیلئے ملک کو داؤ پر لگائے تو ہم اسکی ہر گزاجازت نہیں دیں گے۔بھارت کی اتنی جرت اس لیے ہوئی ہے کہ گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن نے حلف لینے سے پہلے ہی یہ اعلان کردیا تھا کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے مراسم بنائیں گے اور وہاں جانے کی خواہش بھی ظاہر کی۔

بھارت کا پورا طرز عمل سب کے سامنے ہے اوریہ پھر بھی نریندر موودی کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ موودی جس سوچ کے حامل ہیں ان کے ساتھ اسی طرح برتاؤ کرنا چاہئے لیکن یہاں معاملہ اس کے بر عکس ہوا۔وزیر اعظم پاکستان خود وہاں تشریف لے گئے اورپھر ان کے خاندان اور کاروباری لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں۔چند روز قبل وزیر اعظم اقوام متحدہ میں بھی تشریف لے گئے اور اس دورے پرکڑوروں روپے خرچ ہوئے مگر اس کے بدلے میں پاکستان کو صرف یہ حاصل ہوا کہ آج ہمارے 21شہید ہیںاور پورا سیالکوٹ بمباری کی لپیٹ میں ہے۔ افسوس یہ ہے کہ شریف برادران صرف اپنے کاروباری مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں ۔لہٰذا اب اگر یہ بھارت کے ساتھ کسی بھی مسئلے پر ہمیں بلائیں گے تو ان کے ساتھ چلنے سے پہلے سوچنا پڑے گا کیونکہ یہ حکومت ملکی مفاد میں نہیں ہے۔

چوہدری منظور احمد
(مرکزی رہنما پاکستان پیپلز پارٹی)
الیکشن 2013ء کے نتائج پر تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات بہت شدت کے ساتھ سامنے آئے اور اب تک موجود ہیں ۔ الیکشن کے اگلے ہی روز آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ انتخابات ریٹرننگ افسران کی مددسے جیتے گئے ہیں۔پھر ہم نے نتائج کی دوبارہ تحقیقات کیلئے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا۔ میں نے جولائی میں درخواست جمع کروائی اورپھر اسکے ہوش ربا نتائج سامنے آئے۔ میرے بعد اعتزاز احسن نے اپنی زوجہ کے حلقہ این اے124 کیلئے درخواست دی اور وہاں بھی تحقیقات کروائیں جن سے یہ ثابت ہو گیا کہ وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ ہماری جماعت نے عمران خان سے ملاقات کی اورقمر الزمان کائرہ نے خود ان سے کہا کہ آپ تحقیقات کمیشن کو مان لیں ۔ ہم اس کمیشن میں جاکر دھاندلی ثابت کرتے ہیں ۔

انہوں نے میرا اور چوہدری اعتزاز احسن کا نام لے کر کہا تھا کہ یہ اس پراسس سے گزرے ہیں اور انہوں نے بیلٹ بکس کھلوا کر دیکھ لیے ہیں ۔ میرے حلقے میں 272 پولنگ اسٹیشن ہیں ۔ دوبارہ تحقیقا ت کے مطابق 103پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جن سے انگوٹھے کے نشان والی لسٹ ہی غائب تھی۔ 177 پولنگ اسٹیشنوں سے فارم 14 نہیں ملا اور 178پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جن سے بیلٹ پیپر اکاؤنٹس ہی نہیں نکلے۔ 65 ہزار ووٹ ایسے ملے جن پر نہ تو کوئی انگوٹھے کا نشان تھا اور نہ ہی کسی کے دستخط موجودتھے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوگیا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔لیکن پھر بھی پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اسمبلی میں ہی معاملات حل ہونے چاہیں۔ بہرحال ہر جماعت کا اپنا طریقہ ہے ۔لیکن تحریک انصاف کی عجیب صورتحال ہے کہ ان کے خیبر پختونخوا کے ایم این اے تواس دھاندلی کے خلاف استعفیٰ دیتے ہیں مگر ان کے ایم پی اے نہیں دے رہے۔



عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ وہ بالکل اکیلے رہ گئے ہیں۔ ان کے ساتھ تو ان کی اتحادی جماعت، جماعت اسلامی بھی دھرنے میں شامل نہیں ہے بلکہ وہ حکومت اور ان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان اپنی اتحادی جماعت کو بھی اپنے نقطہء نظر پر قائل نہیں کر سکے۔ ہمارے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی جلسے کرنے جارہی ہے۔ہم نے تو صرف سندھ میں ایک جلسے کا اعلان کیا ہے جس کا ایک خاص مقصد اور اہمیت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میں بطور چیئرپرسن اپنی عملی سیاست کا باقاعدہ آغاز اس جلسے سے کرنا چاہتا ہوں جسے میری ماں 18 اکتوبر کو مکمل نہیں کر سکیں ۔اس لئے وہ پہلا جلسہ سندھ میں کریں گے۔ اس کے بعدوہ پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر 30نومبر کو لاہور آئیں گے کیونکہ اس دن پیپلز پارٹی کی بنیاد لاہور میں رکھی گئی تھی۔

یہاںہمارے عہدیداروں اور کارکنوںکا ایک شاندار کنونشن ہوگا جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ پیپلز پارٹی جن مقاصد کیلئے بنی تھی ان میں سے کیا حاصل ہوا اور جو رہ گیا ہے اس کے حصول کیلئے پیپلز پارٹی کو مستقبل میں کیا کرنا ہوگا۔ذوالفقار علی بھٹونے اس ملک میں محنت کشوں ،کسانوں ،مزدوروں اورنوجوانوں کی بات کی اورانہیں اسکی پاداش میں پھانسی دی گئی۔ان کے بعدبے نظیربھٹو کو شہید کیا گیا۔ پھرہمارے سینکڑوں کارکنوں کو جیل میں رکھا گیا اور ہزاروں کو کوڑے مارے گئے ۔اتنی قربانیاں صرف پیپلز پارٹی کا ہی طرہ امتیاز ہیں۔لہٰذا ہمارا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے اور نہ ہم کسی کے مقابلے میں جلسے کرنے جا رہے ہیں ۔اس وقت انڈیاجو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کررہا ہے، اس پر بھی سطحی بحث ہو رہی ہے۔ میں اور حافظ حسین احمدانڈیا کے ساتھ امن قائم کرنے عمل کا حصہ رہے ہیں اور اس سلسلے میں ہم انڈیا بھی جاتے رہے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم امن کیلئے جو بھی کام کرتے ہیں وہ سارا ایک گولی کے فاصلے پرہوتا ہے۔

ایک گولی چلتی ہے اور سب کچھ لپیٹ لیا جاتا ہے۔ ایک بم چلتا ہے تو جو بھی اس میں پیش رفت ہوتی ہے وہ واپس صفر پر آجاتی ہے۔ لیکن ہم آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کے جو مسائل ہیں جن میں غربت، بھوک، بیماری شامل ہیں وہ جنگ سے نہیں امن سے حل ہونگے۔ اس وقت انڈیا کی لیڈر شپ سے پاکستان کو خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کے آرمی چیف کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتاکیونکہ ہمارے جیسے ملکوں میں آرمی چیف بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ یہ وہ آرمی چیف ہیں جن پر بی جے پی نے اعتراز کیا تھااوران کی تاریخ یہ ہے کہ یہ پہلے کشمیر میں بھی رہے ہیں۔ لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ انڈیا کے آرمی چیف کس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور کشمیر کا مسئلہ دوبارہ کیوں سامنے آرہا ہے۔

بھارتی جنتا پارٹی آئین میں ترمیم کے ذریعے کشمیر کا اسپیشل سٹیٹس ختم کر کے اسے اپنی دیگر ریاستوں کی طرح انڈیا کا باقاعدہ حصہ بنانا چاہتی ہے ۔ اگر انہوںنے ایسا کرنے کی کوشش کی تو ایک نیا تضاد سامنے آئے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے ملتان کے جلسے میں کشمیر پر آواز اٹھائی جس پر بھارت کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ وزیر اعظم پاکستان نے بھی اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس میں کہا کہ اگر بھارت کشمیر کی حیثیت کو چھیڑے گا تو پاکستان شملہ معاہدے سے نکل کر اقوام متحدہ کی قراردادوں میں واپس جائے گااور پھر فیصلہ کشمیری عوام کریں گے کہ آیاوہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یاانڈیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور یا پھر وہ اپنی الگ پہچان چاہتے ہیں ۔ اس سے پھر ایک فساد کی لہر آئے گی اوربہت نقصان ہوگا۔ وزیر اعظم پاکستان کے انڈیا کے دورے سے ایک امید پیدا ہوئی تھی کہ سیکرٹری لیول پر مذاکرات شروع ہونگے مگر مایوسی ہوئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے تو مزید مسائل ابھر کر سامنے آئیں گے۔

میرے نزدیک جنگ نہیں ہوگی البتہ ہم حالت جنگ میں چلے جائیں گے اور اس کا فائدہ بیرونی قوتوں کو ہوگا اور ان کو بھی ہوگا جو پاکستان اور بھارت کو اسلحہ بیچنا چاہتے ہیں۔بد قسمتی سے 2009ء سے آج تک انڈیااور پاکستان دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ کے خریدار ہیں۔میرے نزدیک وزیر اعظم کو دفاعی کمیٹی کا اجلاس بہت پہلے بلاناچاہیے تھا لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے اندر جذباتیت کو ختم کرکے موجودہ مسائل پر غور کیا جائے تاکہ کسی بھی خطرناک صورتحال سے نبٹا جاسکے۔

مقبول خبریں