ٹریفک جام پر کنٹرول لیاقت آباد اور کریم آباد انٹر سیکشن کی بہتر کیلئے منصوبہ تیار

3رکنی کمیٹی تشکیل ،ٹریفک سگنل کی تنصیب،حادثات کی روک تھام اورغیر قانونی اسٹاپس کے خاتمے کا جائزہ لیں گی


Staff Reporter September 30, 2012
تجاوزات کے خاتمے، جیو میٹریکل ڈیزائننگ اور ٹریفک سگنل کی تنصیب سمیت دیگر اقدامات کیے جائیں، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

لاہور: بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید نے کہا ہے کہ شہر میں ٹریفک جام کی صورتحال پر قابو پانے کیلیے فوری طور پر مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔

خصوصاً لیاقت آباد اور کریم آباد انٹر سیکشن پر بڑھتی ہوئی ٹریفک مشکلات کو ختم کرنے کیلیے تجاوزات کے خاتمے، جیو میٹریکل ڈیزائننگ اور ٹریفک سگنل کی تنصیب سمیت دیگر اقدامات کیے جائیں، یہ بات انھوں نے ہفتہ کو شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، اجلاس میں محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے سینئر ڈائریکٹر محمد اطہر، چیف انجینئر محمد طحہٰ، ڈائریکٹر پلاننگ حیدر علی اور ڈائریکٹر روڈ سیفٹی عامر حسین سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

سینئر ڈائریکٹر محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن محمد اطہر نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لیاقت آباد اور کریم آباد پر بڑھتی ہوئی ٹریفک مشکلات کو فوری طور پر حل کرنے کیلیے لیاقت آباد اور کریم آباد انٹر سیکشن کی امپروومنٹ کیلیے فوری نوعیت کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے جس پر عملدرآمد کیلیے اقدامات شروع کردیے گئے ہیں، اس سلسلے میں تین کمیٹیاں قائم کی گئیں ہیں جو تمام کاموں کی نگرانی کریں گی، یہ کمیٹیاں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کیلیے غیرقانونی تجاوزات کے خاتمے، جیومیٹریکل ڈیزائن کی بہتری، ٹریفک سگنل کی تنصیب، ٹریفک حادثات کی روک تھام، ٹریفک کی روانی میں بہتری، چنگ چی رکشا کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کو دور کرنے کیلیے مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام اور غیر قانونی اسٹاپس کے خاتمے کا جائزہ لیں گی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایک سروے کے مطابق لیاقت آباد انٹر سیکشن پر ایک دن میں 15 گھنٹوں کے دوران ایک لاکھ 33ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں جبکہ ٹریفک دبائو کے اوقات میں صرف ایک گھنٹے میں9ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں، ان میں موٹر سائیکل 39 فیصد، رکشا 11 فیصد ، کاریں32فیصد، منی بس 2فیصد، بسیں 8فیصد، ٹرک اور دیگر بھاری گاڑیاں3فیصد شامل ہیں، اعداد و شمار کے مطابق ٹریفک دبائو کے اوقات میں صرف ایک گھنٹے میں تقریباً ایک سو ٹرک یا بھاری گاڑیاں گزرتی ہیں جبکہ کریم آباد انٹرسیکشن پر ایک دن میں پندرہ گھنٹوں کے سروے کے مطابق90ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنا کر شہریوں کو سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمے داری ہے، انھوں نے کہا کہ وہ اسی ہفتے میں ان دونوں مقامات کا دورہ کرکے یہاں کیے جانے والے امپروومنٹ کے کاموں کا ازخود معائنہ کریں گے۔