کراچی پولیس پر بم حملے اور فائرنگ3اہلکار سمیت7افراد جاں بحق

شہرکے مختلف علاقوں میں دستی بم حملے اورفائرنگ سے 3 پولیس اہلکارسمیت7افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔


Staff Reporter November 11, 2014
ایم اے جناح روڈ پر موٹر سائیکل سوار ملزمان دستی بم پھینک کر فرارہوگئے۔ فوٹو: فائل

شہرکے مختلف علاقوں میں پیرکے روزدستی بم حملے اورفائرنگ سے ہیڈکانسٹیبل،3 پولیس اہلکارسمیت7افراد جاں بحق جبکہ 3 پولیس اہلکاروں سمیت متعدد زخمی ہوگئے۔جاں بحق افراد میں خاتون اوربچی بھی شامل ہیں۔

کراچی میں یکے بعد دیگرے پولیس پرحملوں سے سیکیورٹی اقدامات کی قلعی کھل گئیتبت سینٹر کے قریب دستی بم حملے کا نشانہ بنائے جانے والی پولیس موبائل جل کرخاکستر ہوگئی جبکہ جاں بحق ہونے والے 2 اہلکاروں میں سے ایک بری طرح سے جھلس گیا تھا، پولیس موبائل میں آگ بھڑک جانے کا دوسرا واقعہ ہے اس سے قبل بھی نیپا چورنگی فلائی اوور پربھی موٹرسائیکل سوارملزمان کی جانب سے پھینکا جانے والا دستی بم پھٹنے سے پولیس موبائل میں آگ بھڑک اٹھی تھی تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ علاوہ ازیں گلشن اقبال میں ایس پی ہیڈکوارٹر ویسٹ کے گھرکا ناشتہ خریدنے والا ان کا محافظ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن گیا۔

وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے پیرکی شب تبت سینٹرکے قریب پریڈی تھانے کی پولیس موبائل پردہشت گردوں کی جانب سے دستی بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق تبت سینٹر کے قریب ایم اے جناح روڈ پر موٹر سائیکل سوار ملزمان پریڈی تھانے کی چلتی ہوئی موبائل وین نمبر SP-7198 پر دستی بم پھینک کر فرارہوگئے جوزورداردھماکے سے پھٹ گیا اور پک اپ پولیس موبائل وین میں آگ بھڑک اٹھی موبائل میں سوار 3 پولیس اہلکار دستی بم پھٹنے اور آگ سے جھلس کر شدید زخمی ہوگئے جنھیں انتہائی تشویشناک حالت میں سول اسپتال لے جایا گیا جہاں ہیڈ کانسٹیبل 42 سالہ شمس الرحمٰن اور کانسٹیبل 40 سالہ مبین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے جبکہ کانسٹیبل 45 سالہ اعجاز کوطبی امداد فراہم کی جا رہی ہے ۔

دستی بم حملے اور دھماکے سے موقع پرموجود افراد میں بھگدڑ مچ گئی اورخوف و ہراس پھیل گیا جبکہ نمائش چورنگی سے تبت سینٹرآنے والی سڑک پر ٹریفک معطل ہوگیا اورملحقہ علاقوں میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں،اطلاع پر ڈی آئی جی ساؤتھ عبدالخالق شیخ اوردیگر پولیس اہلکار موقع پرپہنچ گئے اورجائے وقوع کا معائنہ کرتے ہوئے عینی شاہدین اوردیگر پولیس افسران سے معلومات حاصل کیں، جاں بحق ہونے والے اور زخمی اہلکار پریڈی تھانے میں تعینات اورعلاقہ گشت پر تھے کہ دہشت گردی کا نشانہ بنا دیے گئے۔اس سے قبل گزشتہ ماہ جمعہ31 اکتوبر بمطابق 6 محرم الحرام کو گلشن اقبال کے علاقے نیپا فلائی اوور پر امام بارگاہ مدینۃ العلم کی حفاظت کے لیے کھڑی ہوئی سوزوکی پک اپ پولیس وین پربھی موٹرسائیکل سوار ملزمان دستی بم پھینک کر فرارہوگئے تھے۔

جس کے پھٹنے سے موبائل وین میں آگ بھڑک اٹھی تھی جبکہ 2 اہلکارجھلس کر زخمی ہوئے تھے، دہشت گردوں کی جانب سے پولیس موبائل پردستی بم، بال بم اورکریکرحملے کوئی نئی بات نہیں تاہم ان 2 واقعات میں پولیس موبائل وین کونشانہ بنائے جانے کے دوران آگ کا بھڑک جاناانتہائی اہمیت اختیارکرگیاہے کہ دہشت گردایسا کیمیکل استعمال کررہے ہیںجودھماکے سے پھٹ جانے کے بعد آگ بھی لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے،تبت سینٹرواقعے کے کچھ ہی دیرکے بعد پولیس کونشانہ بنائے جانے کے دوسرے واقعے میں موٹرسائیکل سوارملزمان نے گلشن اقبال کے علاقے بلاک 13-D زبیری پارک کے قریب موٹرسائیکل پرجانے والے 2 پولیس اہلکاروں پراندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کانسٹیبل مطیع الدین جاں بحق جبکہ عبدالقیوم زخمی ہوگیا۔

فائرنگ سے موقع پر موجود افراد میں بھگدڑ مچ گئی اورخوف و ہراس پھیل گیا،ڈی ایس پی خالد ٹیپو نے بتایا کہ دونوں پولیس اہلکارایس پی ہیڈ کوارٹرز ویسٹ طاہر نورانی کے بنگلے پرگارڈ ڈیوٹی انجام دیتے تھے اورایس پی کے اہلخانہ کے لیے صبح کا ناشتہ خریدنے ان کی رہائش گاہ گلشن اقبال بلاک 13-D سے قریب ہی واقع بیکری گئے تھے اور واپس آرہے تھے کہ نشانہ بن گئے،جاں بحق ہونے والے اہلکارنے وردی پہنی ہوئی تھی جبکہ زخمی اہلکارسادہ لباس میں تھا،پولیس کوجائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے خول ملے ہیں،دونوں سیکیورٹی زون میں تعینات تھے۔

پولیس ذرائع کاکہناہے کہ اعلیٰ پولیس افسران گارڈ ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ محافظوںکوگھریلو کام کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔دریں اثنا گلستان جوہر تھانے کے علاقے بلاک 14 میں پلاٹ نمبر C-183 پر واقع جھونپڑی میں21 سالہ خاتون فرزانہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، ایس ایچ او ہدایت اﷲ نے بتایا کہ مقتولہ کا تعلق مظفر گڑھ علی پورسے تھا،مقتولہ 3 سال قبل پسند کی شادی کرکے کراچی منتقل ہوئی تھی،وہ اپنے والد کے ہاتھوں قتل کی عینی شاہد بھی تھی اورگزشتہ روز مقتولہ کے چچا اور رشتے دارسردار محمد، غلام فرید اورعبدالخالق دیگر ملزمان سمیت اس کے گھر میں داخل ہوئے اور فائرنگ کر کے فرزانہ کوقتل کرکے فرارہو گئے، مقتولہ کا شوہر محمد رفیق ان دنوں شہر سے باہر ہے۔سعید آباد تھانے کے علاقے بلدیہ ٹاؤن سجن گوٹھ میں واقع مکان کے باہرفائرنگ سے10سالہ بچی فریال اور45 سالہ تاج محمد زخمی ہوگئے ۔

بعدازاں سول اسپتال میں زخمی بچی دم توڑ گئی، ایس ایس پی عرفان بلوچ نے بتایا کہ جاں بحق بچی اور زخمی شخص باپ بیٹی ہیں اور تاج محمد کے گھر کے باہر چند افراد کھڑے ہوئے تھے کہ اچانک شہزاد نامی شخص اور تاج محمد کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی شروع ہو ئی اسی دوران شہزاد نے فائرنگ کرکے تاج محمد کو زخمی کردیا اور جیسے ہی تاج محمد کی بیٹی دوڑتے ہوئے والد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اس کی بیٹی پر بھی فائرنگ کردی، ملزم شہزاد کا تعلق جرائم پیشہ گروہ سے ہے، پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس کے 4 ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ۔

تاہم ملزم شہزاد فرارہوگیا۔سر جانی ٹاؤن تھانے کے علاقے سیکٹرL-1 بابا موڑ کے قریب موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے40 سالہ عمران کو قتل کردیا گیا اور فرار ہو گئے، سرجانی ٹاؤن پولیس کاکہنا ہے کہ مقتول نارتھ کراچی سیکٹر5C-3 کا رہائشی اور اسکول وین کا ڈرائیور تھا، مقتول اسکول کے بچوں کے لینے کے لیے سرجانی ٹاؤن سیکٹرL-1 آیا تھا کہ نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔کلاکوٹ تھانے کے علاقے جھٹ پٹ مارکیٹ گھانچی جماعت خانہ کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے24 سالہ نامعلوم شخص کوقتل کردیااورفرارہوگئے۔

مبینہ ٹاؤن تھانے کے علاقے آفریدی کالونی میں فائرنگ سے40 سالہ زبیر احمد زخمی ہوگیا۔دریں اثناوزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ پولیس کو تبت سینٹر پردہشت گردی کے واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکام جاری کیے ہیں۔

انھوں نے شہید ہونے والے 2 پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اورکہا ہے کہ ایسے بزدلانہ واقعات پولیس کے مورال کوکبھی ختم نہیں کرسکتے اور پولیس کے افسران اور جوان دہشت گردی سے بہادری کے ساتھ مقابلہ کرتے رہیں گے اوروزیراعلی سندھ نے شہید اہلکاروں کی بہادری کوخراج عقیدت پیش کیا اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاکی ہے۔۔۔

ڈی آئی جی ساؤتھ عبدالخالق شیخ نے بتایا کہ پولیس موبائل پر حملے اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ کے حوالے سے فارنسک کے عملے نے جائے وقوعہ سے دہشت گردوں کی جانب سے استعمال کیے جانیوالے کیمیکل کے نمونے جمع کرلیے ہیں جوکیمیائی تجزیے کیلیے اسلام آباد فارنسک لیبارٹری روانہ کیے جائینگے۔