سارک کانفرنس اور سلگتے زمینی حقائق

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تنازعات دور کیے بغیر سارک فورم کو مؤثر نہیں بنایا جا سکتا


Editorial November 26, 2014
المیہ یہ بھی ہے کہ سارک کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی الزام تراشی میں پیچھے نہیں رہے، فوٹو:اے ایف پی

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تنازعات دور کیے بغیر سارک فورم کو مؤثر نہیں بنایا جا سکتا ، یہی بڑی رکاوٹ ہیں ۔ سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے کٹھمنڈو پہنچنے پر گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے ان خیالات کا اظہار کر کے خطے کی ایک ٹھوس اور سلگتی ہوئی حقیقت بیان کردی ہے جسے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر اپنے آیندہ کی علاقائی اور کشمیر سمیت دیگر اہم ایشوز کے منصفانہ اور دو طرفہ حل سے متعلق ترجیحات کا اعلان کرکے پیش رفت کا امکان پیدا کرسکتے ہیں ۔

اپنی تقریر میں جہاں مودی نے خطے میں ایک نئے علاقائی تخیل کے جنم لینے کا عندیہ دیا وہاں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کی بات کی ہے اورکہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک قریب تر آرہے ہیں، ضرورت دہشت گردی اور ٹرانس نیشنل جرائم سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ہے تو وہ ان اہم ایشوز پر پہل بھی کریں اور خطے کے امن کے لیے رکاوٹ بننے والے ان مسائل کا کوئی حل تلاش کرنے میں پاکستان اور سارک ممالک کی مشترکہ سیاسی ، سفارت کارانہ اور اقتصادی قوت و صلاحیت کو استعمال میں لانے کی تجاویز دیں ، جب کہ دو طرفہ جامع مذاکرات کی ڈور 25 اگست کو مودی نے یک طرفہ طور پر کاٹ دی تھی ، جسے بھارتی میڈیا نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا، اور اسے غیر سنجیدہ اقدام سے تعبیر کیا ۔اس لیے بات چیت میں تعطل کا الزام پاکستان پر دھرنا بلاجواز ہوگا۔

المیہ یہ بھی ہے کہ سارک کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی الزام تراشی میں پیچھے نہیں رہے ،ان کی ہرزہ سرائی کے مطابق پاکستان 26/11 کے ممبئی حملہ کے چھ سال بعد بھی نہیں بدلا اور وہاں داعش نے اپنے پیر جما لیے ہیں ۔ بھارت میں دہشت گردی کے واقعات سے بھی پاکستان کا رشتہ جوڑنے کی جنونی سوچ کا اعادہ کیا گیا۔ دوسری جانب مودی کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں معاشی ترقی اور قریبی تعلقات کے لیے مشترکہ اقدامات اور کوششوں کی جتنی ضرورت جنوبی ایشیاء میں ہے کہیں اور نہیں ۔ قول و فعل میں یہ کھلا تضاد مضحکہ خیز ہے، دلچسپ مگر ساتھ ہی الم ناک بات یہ ہے کہ سارک کے بارے میں خود بھارتی میڈیا میں اس قسم کے تجزیے چھپ رہے ہیں کہ سارک تنظیم بغیر ریڑھ کی ہڈی کا ادارہ ہے جسے پاک بھارت تعلقات یا یوں کہہ لیجیے دیرینہ تنازعات نے یرغمال بنا لیا ہے ۔اس ضمن میں نواز شریف نے درست کہا کہ پاک بھارت مذاکرات کب شروع ہوں گے یہ سوال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے پوچھا جائے۔

مذاکرات بحال کرنے کی بال اب بھارتی کورٹ میں ہے ۔ پاکستان کا موقف صائب ہے کہ گزشتہ کانفرنس میں مذاکرات بھارت اور پاکستان کے دو وزرائے اعظم نے بحال کیے تھے لیکن پھر ایک وزیراعظم (مودی) نے ختم کردیے۔ مذاکرات ختم کرنے کے یکطرفہ فیصلے سے یقیناً پاکستان کو مایوسی ہوئی ہے ۔ تاہم نواز شریف نے اس یقین کا اظہار کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں حائل رکاوٹیں اگر ختم ہوجائیں تو میں سمجھتا ہوں صورتحال بہتر ہوجائے گی۔ سارک جس طرح کا فورم ہے اس لحاظ سے ہم بہت پیچھے ہیں ۔ یورپی یونین کو ہی دیکھ لیں وہ کہاں پہنچ گئی ۔ ویزہ، کرنسی اور ایک پاسپورٹ ہے ۔ اقتصادی اور بہت سی پالیسیوں میں وہ یکجا ہیں لیکن سارک کی طاقت کو یکجا نہیں کیا جا رہا ۔ سارک کو طاقتور اور مؤثر بنانے میں ہم کافی کوشاں ہیں۔

یہ قابل غور حقائق ہیں جب کہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ سارک ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی اشتراک کار کے ذریعے خوشحال ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امید ظاہر کی کہ سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر میری جنوبی ایشیاء کے دیگر سربراہان کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں میں تبادلہ خیال ہو سکے گا ۔ دہلی سے نیپال روانگی سے پہلے ایک مختصر بیان میں انھوں نے کہا کہ سارک کانفرنس کے دوران وہ امید کرتے ہیں کہ شرکا سے الگ الگ اور مشترکہ ملاقاتیں ہوں گی جن میں اہم امور پر بھی بات چیت ہوگی ۔ ادھر آن لائن کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے کہا کہ بھارت ہر ممکن حد تک جنوبی ایشیائی رہنماؤں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

ہم پاکستان کے ساتھ بھی تعاون پر مبنی اور پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں ۔ سارک اجلاس کے موقع پر بھی وزیراعظم مودی کی پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے ملاقات خارج از امکان نہیں ہے ۔ مگر کانفرنس شروع ہوتے ہی ٹوئیٹر پر ترجمان کا یہ بیان آیا کہ ملاقات کے لیے ابھی ہمیں کوئی درخواست نہیں ملی ۔ خدا کرے بھارت چانکیائی سیاست کے روایتی گرداب سے معروضیت کی طرف نکل آئے اور نتیجہ خیز بات چیت کا کوئی امکان پیدا کرے ۔ جب کہ وقت کی ضرورت خطے میں امن کے قیام کی ہے۔

جس کے لیے دونوں ملک بقائے باہمی کے ساتھ امن، ترقی کا راستہ ڈھونڈیں ۔ 26 جنوری کو امریکی صدر بارک اوباما نئی دہلی پہنچیں گے، جب کہ 11 نومبر2014 ء کو اوباما نے بیجنگ میں چین سے کہا تھا کہ وہ عالمی نظام کی تیاری میں حصہ دار بنے اور اس عمل کو سبوتاژ نہ کرے۔

اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری امریکا پر زور دے کہ وہ بھارت سے بھی یہ کہے کہ پاکستان سے اپنے دیرینہ تنازعات کا پر امن اور باوقار حل تلاش کرنے میں دیر نہ کرے ، اور جلد مذاکرات کا اعلان کر کے جنوبی ایشیائی ممالک میں قریبی تعلقات ، معاشی ترقی ، توانائی کے مسائل ، انسانوں کی اسمگلنگ کے انسداد، فری ٹریڈ ایریا، مربوط ٹرانسپورٹ نیٹ ورک، عوام کے آزادانہ میل جول، عمومی خوشحالی کے ایجنڈے کی تکمیل اور جنگ و کشیدگی کے بجائے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مشترکہ علاقائی اسٹرٹیجی پر توجہ مرکوز کرے ۔ بات اس حکیم حاذق کی ہے جس نے کہا تھا کہ تم ہی نے درد دیا ہے تم ہی دوا دینا۔