بلدیاتی انتخابات اور عمران خان
کے پی کے میں تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ کی حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات کرانے کو تیار نہیں۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے لاڑکانہ ضلع کے جلسے میں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پھر تسلیم کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے ہی عوام کے مسائل حل ہونے میں مدد مل سکتی ہے جب کہ گزشتہ 5 سالوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) سمیت اقتدار میں رہنے والی کسی بھی حکومت نے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے ۔ یہ کہتے ہوئے عمران خان پھر بھول گئے کہ اکتوبر میں وہ مسلسل کہتے رہے تھے کہ ان کی خیبر پختون خواہ کی حکومت 15 نومبر تک بلدیاتی انتخابات کروا دے گی۔
دوسروں کو جھوٹا قرار دینے والے عمران خان اپنی حکومت میں 15 نومبر کا اپنا وعدہ پورا کرکے لاڑکانہ آئے تو فخر سے بلدیاتی انتخابات پنجاب اور سندھ سے پہلے کرانے کا کریڈٹ لے سکتے تھے مگر انھوں نے عام انتخابات سے قبل کامیابی کی صورت میں 90 روز میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے جو اعلانات کیے تھے وہ پہلے ہی جھوٹے ثابت ہوچکے تھے جس کے بعد انھیں 15 نومبر کی تاریخ ہی نہیں دینی چاہیے تھی جس پر اتنی جلدی عمل ممکن ہی نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ بلدیاتی انتخابات کے پی کے حکومت نے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے کرانے تھے مگر عمران خان اپنی دی گئی 15 نومبر کی تاریخ دوبارہ بھول گئے۔
مگر انھیں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں کی طرح ضرور یاد رہی جو بلدیاتی انتخابات کی اہمیت بار بار یاد تو کراتے ہیں مگر حکومت میں آکر بلدیاتی انتخابات کرانے کی بجائے رہا فرار اختیار کرلیتے ہیں اور وہ اس سلسلے میں قوم سیجھوٹ بول رہے ہیں جس کا واضح ثبوت پنجاب اور سندھ کی موجودہ حکومتیں ہیں جنھوں نے گزشتہ سال دو بار انتخابات کی تاریخیں دی تھیں جس کے آسرے پر دونوں صوبوں میں ہزاروں امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اور الیکشن کمیشن کے پاس ان امیدواروں کی جمع کرائی گئی اربوں روپے کی رقم بھی اب تک واپس کی جا رہی ہے نہ ایک سال میں نئی تاریخ دی گئی ہے اور عمران خان نے جو تاریخ دی تھی وہ بھی گزر چکی ہے۔
بلوچستان کی حکومت ملک کی واحد حکومت ہے جو مخلوط ہے مگر پھر بھی اس نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حکم پر اپنے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرا دیے تھے، یہ الگ بات کہ بعد میں ایک منصوبے کے تحت بلدیاتی عہدیداروں کا انتخاب نہیں کرایا جا رہا اور معاملہ عدالت عالیہ میں لٹکایا گیا ہے جہاں فیصلہ نہیں ہو رہا۔
ملک کی سیاسی پارٹیوں کے قائدین میں عمران خان واحد پارٹی سربراہ ہیں جنھوں نے کے پی کے میں 15 نومبر کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا اور اب تک بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کا ذمے دار دوسروں کو قرار دیا تھا۔
افتخار محمد چوہدری کے بعد سپریم کورٹ میں جو دو چیف جسٹس آئے وہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر رہ چکے ہیں اور دونوں کو اصل حقائق کا پتا ہے اور بطور چیف جسٹس دونوں سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے کی سماعت بھی کرچکے ہیں اور انتخابات نہ کرانے والی صوبائی حکومتوں پر واضح کرچکے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے مگر سندھ، پنجاب اور کے پی کے کی حکومتیں ہیں کہ انھیں سپریم کورٹ کا خوف ہے نہ آئین کی پرواہ۔ تینوں حکومتیں سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنے میں ناکام ثابت ہوچکی ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں حلقہ بندیوں کا معاملہ صوبائی حکومتوں سے الیکشن کمیشن کو منتقل ہوچکا ہے جب کہ کے پی کے کی حکومت تو خوش قسمت ہے کہ اس کی کرائی گئی حلقہ بندیوں پر اپوزیشن نے کوئی احتجاج کیا نہ وہ ہائی کورٹ میں چیلنج ہوئیں۔
سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے تو یہ جواز تلاش کرلیا تھا کہ ہم تو بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار تھیں مگر حلقہ بندیاں عدالت عالیہ میں چیلنج کردی گئیں۔ کے پی کے حکومت نے تو سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر بھی بلدیاتی انتخابات کی تاریخ نہیں دی اور اب اس سلسلے میں بایو میٹرک سسٹم کی آڑ لی جا رہی ہے۔
کے پی کے میں تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ کی حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات کرانے کو تیار نہیں۔ اقتدار ملتے ہی عمران خان اگر اپنے کیے گئے اعلانات کے مطابق نوے روز میں کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کروا دیتے تو آج وہ دوسرے قائدین سے مختلف نظر آتے اور پاکستانی کہتے کہ کپتان واقعی دوسروں سے مختلف سیاسی رہنما ہے جو کہتا ہے کرکے دکھاتا ہے مگر ایسا نہیں ہوا۔ کپتان نے برسر اقتدار آکر پولیس کو سدھارنے کا نہیں بلکہ 90 روز میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا جس پر ڈیڑھ سال میں بھی عمل نہیں ہوا ۔
جس کی وجہ سے حکومتی اکابرین اور پارلیمنٹ میں جمہوریت کو بچانے کا اعلان کرنے والے پی پی، اے این پی، جے یو آئی و دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں کا عمران خان پر الزامات عائد کرنا درست محسوس ہوتا ہے کیونکہ عمران خان اپنے صوبے میں اپنے اعلان پر عمل کرانے میں ناکام ثابت ہوچکے ہیں اور وہ کالا باغ ڈیم اور نئے صوبوں کے قیام کے سلسلے میں بھی یو ٹرن لے چکے ہیں اور ان کی صرف دھرنا برقرار رکھنے کی بات ہی اب تک سچ ثابت ہوئی ہے جو اب صرف ناکام دھرنا ہے اور دھرنے میں کیے گئے بعض اعلانات میں کیے گئے مطالبات میں بھی تبدیلی آچکی ہے اس لیے اب بھی موقعہ ہے کہ وہ کچھ تو کر دکھائیں اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات ہی کرا دیں۔