شمالی وزیرستان ڈرون حملے میں القاعدہ رہنما ہلاک

شرپسند عناصر جس طرح وطن کےامن و سکون کےدرپے ہیں اس تناظر میں ضروری ہوگیا ہےکہ آپریشن ضرب عضب کادائرہ کار پھیلایا جائے۔


Editorial December 08, 2014
دوسری جانب عسکری ذرایع نے کہا ہے کہ اتوار کو پاکستانی حدود میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا، اس حوالے سے میڈیا رپورٹس بے بنیاد ہیں۔ فوٹو: فائل

LONDON: ملک میں جہاں دہشت گردوں اور شرپسندوں کا قلع قمع کرنے کے لیے پاک فوج کی جانب سے آپریشن ضرب عضب میں پیشرفت ہورہی ہے، وہیں نہ صرف شرپسندوں کی کارروائیاں بھی ہنوز جاری ہیں بلکہ امریکا بھی تمام تر تنقید کے باوجود ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس سلسلے میں میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے خڑتنگی میں امریکی جاسوس طیارے کے ڈرون حملے کے نتیجے میں القاعدہ رہنما عمر فاروق المعروف استاد فاروق 3 ساتھیوں سمیت ہلاک جب کہ 2 زخمی ہوگئے۔ ذرایع کے مطابق حملے کا شکار ہونے والا گھر شدت پسند اپنے مرکز کے طور پر استعمال کررہے تھے جسے 2میزائل داغ کر مکمل تباہ کردیا گیا۔ میزائل حملے کے بعد ڈرون طیاروں کی پروازوں کا سلسلہ جاری رہا جس سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔

حملے میں مارا جانے والا القاعدہ رہنما عمر فاروق ماضی میں القاعدہ (پاکستان) کا ترجمان بھی رہ چکا ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے مرکز کے قریبی علاقے میں سرچ آپریشن کرکے ضروری شواہد حاصل کرلیے ہیں ۔ دوسری جانب عسکری ذرایع نے کہا ہے کہ اتوار کو پاکستانی حدود میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا، اس حوالے سے میڈیا رپورٹس بے بنیاد ہیں ۔ تاہم 3 پاکستانی قیدیوں کی امریکا کی طرف سے خاموش حوالگی کی اطلاع ایک پیش رفت کہی جاسکتی ہے ،ان قیدیوں میںحکیم اللہ محسود کے نائب لطیف محسود،جعفراور عزیز عرفات بگرام ایئر بیس پر قید تھے۔

علاوہ ازیں سیکیورٹی فورسز ذرایع کے مطابق خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے پہاڑی تیراہ اکاخیل کے علاقہ شیرخیل درہ میں سیکیورٹی فورسز کی قائم چیک پوسٹ پر درجنوں شدت پسندوں نے حملہ کردیا جس کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے بھی فائرنگ شروع کردی، کافی دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، اس دوران سیکیورٹی فورسز کے 3 اہلکار شہید جب کہ 5 زخمی ہوگئے جن میں سے ایک اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جوابی کارروائی میں 5 شدت پسند ہلاک اور 8 زخمی ۔

دوسری جانب تیراہ کے علاقہ نری بابا میں کالعدم لشکر اسلام اور توحید اسلام کے درمیان جھڑپ میں حکومت حامی تنظیم توحید اسلام کا ایک رضاکار زخمی ہوگیا ۔ دہشت گرد اور شرپسند عناصر جس طرح وطن کے امن و سکون کے درپے ہیں اس تناظر میں ضروری ہوگیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار پھیلایا جائے اور زیادہ شد و مد کے ساتھ دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے تاکہ پاک وطن کے باشندے پرامن فضا میں سانس لے سکیں۔

مقبول خبریں