جمہوری رویوں کا فقدان
جمہوریت اگر واقعی خدمت ہوتی تو ارکان اسمبلی اپنے حلقے میں رہتے لوگوں سے ملتے رہتے ان کے مسائل حل کراتے.
جمہوریت اگر خدمت کا ذریعہ ہے تو جمہوریت میں آمر بننے یا جمہوریت کو آمریت میں تبدیل کرنے کا رجحان کیوں بڑھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں کبھی حقیقی جمہوریت قائم ہوئی ہی نہیں۔ سول آمریت کو جمہوریت کا نام دے کر عوام کو دھوکا دیا جاتا رہا ہے اور عوام بھی اب اس کے عادی ہوچکے ہیں کیونکہ اب جمہوریت عوام کے لیے نہیں بلکہ اقتدار اور مال کمانے کے لیے ہے۔
جمہوریت اب عوام سے نہیں بلکہ مال سے ملتی ہے اور کسی بھی سیاسی پارٹی میں ٹکٹ کے حصول کے لیے پہلے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ جماعت اسلامی اور متحدہ شاید انتخابی امیدواروں سے درخواستیں تو طلب کرتی ہیں مگر درخواستوں کے ساتھ ہزاروں روپے کے پے آرڈر اور ڈرافٹ طلب نہیں کرتیں جب کہ دیگر بڑی اور اہم جماعتیں امیدواروں سے نہ صرف مقررہ انتخابی فیس طلب کرتی ہیں بلکہ انھیں پارٹی کے الیکشن فنڈ کے لیے زیادہ سے زیادہ عطیات دینے کا بھی کہتی ہیں اب یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کس حلقے میں کون الیکشن لڑنے ہی نہیں بلکہ کامیاب ہونے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے اس کے حلقے میں اپنی برادری اور ووٹ کتنے ہیں۔
اس کے علاوہ پارٹی قائد کا بھی وہ من پسند ہونا چاہیے۔ اکثر ایسا بھی ہوا ہے کہ پارٹی قائد ایسے شخص کو ٹکٹ دلا دیتا ہے جس کی اپنے حلقے میں کامیاب ہونے کی طاقت نہیں ہوتی اور حلقے کے پارٹی رہنما اور کارکن بھی اسے قبول نہیں کرتے مگر پارٹی سربراہ کی من مانی اور آمریت انھیں مجبور کرتی ہے اور اپنے علاقے میں نامقبول ایسا امیدوار شکست کھا جاتا ہے اور اکثر ایسا ہوا ہے اور غلط شخص کو ٹکٹ دیے جانے کی سزا (ن) لیگ نے دوسروں سے زیادہ بھگتی ہے۔
اس جمہوریت کی ابتدا ہی آمریت سے ہوتی ہے اور مذکورہ حلقے میں جو جیتنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے اسے پارٹی ٹکٹ نہ ملے تو وہ فوراً دوسری پارٹی میں چلا جاتا ہے اور انتخابی فنڈ میں رقم دے کر ٹکٹ لے لیتا ہے اور جیت بھی جاتا ہے جس کی تازہ مثال ملتان میں جاوید ہاشمی کو شکست دینے والے عامر ڈوگر کی ہے اور وہ اپنی آبائی نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
جو امیدوار اپنی پارٹی کو بھاری انتخابی فنڈ دے گا اور پھر الیکشن پر کروڑوں روپے بھی خرچ کرکے منتخب ہوگا اس سے توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ کرپشن نہیں کرے گا اور خرچ کی گئی رقم بمعہ سود وصول کرنے کی بجائے اپنے حلقے میں رہ کر عوام کی خدمت کرے گا۔ جب ارکان اسمبلی کروڑوں روپے خرچ کرکے لوگوں کے ووٹ خرید کر منتخب ہوں گے تو ووٹروں کی پرواہ کیوں کریں گے۔ ووٹروں سے دور رہنے ہی کو ترجیح دیں گے اور آمر بن کر ہی رہیں گے۔
1970 میں سکھر کے ایک سیاستدان علی حسن منگی تھے جن کا کراچی میں کاروبار تھا وہ منتخب ہوکر کراچی جاکر رہتے تھے اور الیکشن کے موقعے پر سکھر آکر خوب خرچ کرتے اور سکھر میں نہ رہنے کی شکایت پر ووٹروں کو جواب دیتے کہ آپ ہی کے لیے تو کمانے کراچی جاتا ہوں۔ سکھر میں رہ کر تو کما نہیں سکتا۔
جمہوریت اگر واقعی خدمت ہوتی تو ارکان اسمبلی اپنے حلقے میں رہتے لوگوں سے ملتے رہتے ان کے مسائل حل کراتے جیسے یہ خوبی صرف رکن قومی اسمبلی جمشید دستی میں دیکھی گئی ہے جو اکثر اپنے حلقے میں موجود ملتے ہیں لوگوں کے درمیان رہتے ہیں ان کے کام آتے ہیں اور ان کا عوام سے رویہ بھی آمرانہ نہیں ہوتا اور اسی لیے انھوں نے گردن میں سریا رکھنے والے نوابزادوں کو ایک نہیں تین بار شکست دی۔
جمشید دستی نے اپنے ایک ساتھی چوہدری عامر کرامت کو بھی جو زمیندارانہ مزاج کے حامل عوام سے دور رہنے والے تھے اب حقیقی عامر بنا دیا ہے جو روزانہ صبح اپنے ڈیرے پر درجنوں ضرورتمندوں سے مل کر پھر دن بھر ان کے مسائل حل کراتے نظر آتے ہیں اور اسی وجہ سے زندگی میں پہلا الیکشن لڑنے والے اس نوجوان عوامی زمیندار کو پنجاب اسمبلی کی نشست پر ساڑھے 27 ہزار ووٹ ملے اور (ن) لیگ کے امیدوار سے تھوڑے فرق سے ہار تو گئے مگر لوگوں نے یہ ضرور دیکھ لیا کہ جمہوریت کے باعث عوام سے دور رہنے والا ایک زمیندار اپنے ماضی کے برعکس عوام کا خادم بن گیا ہے ان کی غمی و خوشی میں شریک ہوتا ہے۔
ان کے مسائل کے حل کے لیے فوراً لوگوں کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ یہی حال جمشید دستی کا ہے۔ جمشید دستی تو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک مزدور ہیں اور اپنے ووٹروں کی خدمت اپنا فرض اولین قرار دیتے ہیں اور رعونت ان کے قریب نہیں پھٹکی ایسی بے شمار مثالیں ہیں کہ معمولی لوگ کسی پارٹی کی وجہ سے اسمبلیوں میں پہنچے۔
خوشامد اور سفارش سے اہم عہدوں پر آگئے مگر اب وہ معمولی نہیں خاص ہیں اور ان کا لوگوں سے رویہ آمرانہ ہوچکا ہے۔ اکثر تو یہی دیکھا گیا ہے کہ سیاست کے ذریعے اہم عہدے لے کر مال بنانے والوں کو اپنی سابقہ حیثیت یاد نہیں رہتی۔ ماضی میں کوئی میٹر ریڈر تھا یا عام وکیل مگر سیاسی عہدوں نے انھیں آمر بنادیا اور آج وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ان کی ساکھ بن چکی ہے وہ جمہوریت کی مالا تو جپتے ہیں مگر وہ آمر بن چکے ہیں۔
اسمبلیاں، سرکاری عہدے اور دولت اکثر جمہوریت پسندوں کو آمر بنا دیتی ہے اور جس کو ایک بار وزارت مل جائے وہ ہر بار اسمبلی میں آنا پھر وزارت کا حصول اپنا فرض اولین سمجھ لیتا ہے آج ملک میں کوئی ایسی پارٹی نہیں جسے حکومت میں شمولیت کا موقعہ ملا ہو اور اس نے بار بار اپنے من پسندوں کو وزیر نہ بنوایا ہو۔ ایک سیاستدان کہتے ہیں کہ میں 8 بار وزیر بنا ہوں کیا وزیر بننا کسی اور کا حق نہیں تھا۔ کیا وزارت ان کی میراث تھی جو نہ ملی تو انھوں نے اپوزیشن جلسوں میں ملامتی الفاظ متعارف کرا دیے۔
اگر بار بار لوگوں کو اسمبلیوں میں آنے کا موقع نہ ملے اور انھیں بار بار وزیر نہ بنایا جائے تو سیاستدانوں میں آمریت ختم ہوسکتی ہے۔ بار بار وزیر بننے والوں میں آمریت سرائیت کرچکی ہے اور ان کے نزدیک سیاست اب خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ اقتدار میں آنے کی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر اور اونچا ہوکر وہ عوام سے بلند ہوکر آمر بن جاتا ہے اور آج ہماری سیاست میں آمروں کی بھرمار ہے جب کہ ہمارے عوام کی ضرورت جمشید دستی اور عامر کرامت جیسے لوگ ہیں جو سیاست کو واقعی خدمت سمجھتے ہیں۔