سانحہ پشاور تعلیمی اداروں کیلیے موثر سیکیورٹی پلان بنانے کی ہدایت

تمام تعلیمی اداروں کے لیے ضلعی سطح پر فوری طور پر علیحدہ سے کنٹی جنسی پلان تیار کرکے نافذ کیا جائے، آئی جی سندھ


Staff Reporter December 17, 2014
اسکولوں، کالجوں ،جامعات کے تدریسی عمل کے آغاز اور چھٹی کے اوقات میں اطراف کے مرکزی راستوں پرگشت اور چیکنگ کو مزید موثر بنایا جائے، آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی فوٹو: فائل

پشاور کے اسکول میں دہشت گرد حملے کے تناظر میں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے سندھ پولیس کو چوکس کرتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام سرکاری اور نجی اسکولوں جامعات، کالجز سمیت دیگر مشنری اسکولوں، تعلیمی اداروں کے لیے ضلعی سطح پر فوری طور پر علیحدہ سے کنٹی جنسی پلان تیار کرکے نافذ کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ سندھ میں ضلعی لحاظ سے مختلف تھانوں کی حدود میں قائم نجی وسرکاری تعلیمی اداروں کی فہرستوں کا ازسر نوجائزہ لیا جائے جس میں طلبہ و طالبات اساتذہ اور عملے سمیت رابطہ و ٹیلی فون نمبروں کا تفصیلی احاطہ کیا جائے، تمام تعلیمی اداروں کے سربراہان کو متعلقہ ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز، ڈی ایس پیز دفاتر کے علاوہ تھانیداروں کے موبائل فون نمبروں کی فہرست کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات، اساتذہ اور عملے کی سیکیورٹی کے لیے متعلقہ اداروں سے فوری اجلاس کیا جائے جس کے تحت تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کیمروں کی تنصیب طلبہ و طالبات، اساتذہ اور عملے کو خصوصی انٹری کارڈز کے اجرا، مرکزی گیٹس اور اطراف میں ممکنہ تجاوزات کے خاتموں، داخل ہونے والی گاڑیوںکے خصوصی اجازت ناموں، اسٹیکرزکے اجرا و دیگرضروری امور کا تفصیلی احاطہ کیا جائے، بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروںکے اشتراک سے سیکیورٹی کے مجموعی اقدامات کومزید بہتر بنایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ تمام تعلیمی اداروں اور باالخصوص مضافاتی علاقوں میں قائم پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں، کالجوں، جامعات وغیرہ کے تدریسی عمل کے آغاز اورچھٹی کے اوقات میں اطراف کے تمام مرکزی راستوں پر پولیس گشت اور چیکنگ کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے۔

علاوہ ازیں سینٹرل پولیس آفس میں پولیس افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے آئی جی غلام حیدر جمالی نے کہا ہے کہ پولیس کے لیے مختلف تربیتی کورسز کا انعقاد اور پولیس نصاب کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا مقصد ہے کہ آپریشنل و انویسٹی گیشن امور کی جدید تربیت دی جائے، اجلاس میں ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر سندھ عبد العلیم جعفری کے علاوہ زونل ڈی آئی جیز کراچی اور ڈی آئی جی سی آئی اے نے بھی شرکت کی۔