پی ایچ ایف میں عالمی قوانین کا نفاذ یقینی بنانے کی تیاریاں

70 برس سے زائد عمرکی کوئی شخصیت فیڈریشن میں ذمے داری سنبھالنے کی اہل نہیں ہوگی۔


سیکریٹری کیلیے عمر کی حد 65 برس ہوگی، ویمنز ونگ ختم کرکے جنرل منیجر ہاکی کا نیا عہدہ متعارف کرایا جائیگا، مارکیٹنگ ٹیم بنائے جانے پر بھی اتفاق۔ فوٹو: فائل

پی ایچ ایف نے ہاکی کے معاملات کو عالمی قوانین کے مطابق ڈھالنے کی تیاریاں مکمل کرلیں، مستقبل میں70 سال سے زائد عمر کی کوئی بھی شخصیت پاکستان ہاکی فیڈریشن کی عہدیدار نہیں بن سکے گی۔

سیکریٹری کے عہدے کے لیے عمر کی یہ حد مزید کم کر کے 65 برس رکھی گئی ہے، فیڈریشن کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے مارکیٹنگ ٹیم بنائی جائے گی، ویمنز ونگ ختم کر کے جنرل منیجر ہاکی کا نیا عہدہ متعارف کرایا جائے گا جبکہ خواتین کی قومی کھیل میں حوصلہ افزائی کے لیے ایگزیکٹیو بورڈ اورکانگریس میں تعداد کا اضافہ کیا جائے گا، تاریخ میں پہلی بارڈوپنگ اور اینٹی کرپشن کے حوالے سے قانون سازی کرنے کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر اوراسکروٹنی کمیٹی کی تشکیل کے طریقہ کار پر بھی کھل پر بحث کی گئی، یہ تمام فیصلے منگل کو نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں شیڈول پی ایچ ایف کے کانگریس کے اجلاس میں متوقع ہیں۔

اجلاس میں ملک بھر کے 100 ارکان شریک ہوں گے، صدر پی ایچ ایف اختر رسول کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن اورایشین ہاکی فیڈریشن کے نمائندے بھی خصوصی طور پر شرکت کریں گے۔ سابق صدر پی ایچ ایف قاسم ضیا ایف آئی ایچ اورطیب اکرام اے ایچ ایف کے نمائندے کی حثییت سے اجلاس کا حصہ بنیں گے، یاد رہے کہ قاسم ضیا اس وقت آئی ایچ ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کا حصہ ہیں جبکہ طیب اکرام اے ایچ ایف کے چیف ایگزیکٹیو کے اہم عہدے پرفائز ہیں، مزید معلوم ہوا ہے کہ اجلاس میں قومی ٹیم کے چیف کوچ شہناز شیخ اورچیف سلیکٹر اصلاح الدین صدیقی کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق منگل کو اجلاس کانگریس کے اجلاس میں ملکی تاریخ میں پہلی بار بڑے فیصلے ہوں گے اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے آئین کو آئی ایچ ایف اور اے ایچ ایف کے قوانین کے مطابق ڈھالا جائے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ایک قرار داد پیش کی جائے گی جس کی رو سے عالمی قوانین کے مطابق مستقبل میں 70سال سے زائد کا کوئی بھی فرد پی ایچ ایف کا عہدیدار نہیں بن سکے گا، سیکریٹری کے لیے یہ عمر مزید کم کر کے 65سال کی تجویز دی جائے گی۔

پی ایچ ایف کو مستقبل میں مستقل بنیادوں پر مالی بحران سے نکالنے کے لیے مارکیٹنگ ٹیم بنائی جائے گی جو قومی ٹیم کے بین الاقوامی دوروں، کیمپس کے انعقاد پر آنے والے اخراجات ، پلیئرز کے معاوضوں سمیت دوسرے امور احسن طریقے سے انجام دینے کی ذمہ دار ہوگی۔اجلاس میں پی ایچ ایف کے ویمنز ونگ کو ختم کر کے جنرل منیجر ہاکی کا نیا عہدہ متعارف کروایا جائے گا جبکہ کانگریس میں خواتین کے نمائندوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی بھی تجویز پیش کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ایگزیکٹیو بورڈ میں ارکان کی تعداد 2 سے بڑھا کر4 اور کانگریس میں15 سے16 کرنے کی تجویز ہے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ اجلاس میں ڈوپنگ، اینٹی کرپشن کے عالمی قوانین کو پہلی بار پی ایچ ایف آئین کا حصہ بنایا جائے گا۔مزید معلوم ہوا ہے کہ اجلاس میں چیف کوچ شہناز شیخ قومی ٹیم کی رواں سال کی کارکردگی کے بارے میں شرکاکو آگاہ کریں گے اور مستقبل کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر روشنی ڈالیں گے۔

مقبول خبریں