ارجنٹائن کی عدالت نے ’’بن مانس‘‘ کو قانونی حقوق دے کر نئی تاریخ رقم کردی

مقدمے کے دوران سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والا نکتہ یہ تھا کہ سینڈرا ’’چیز ہے یا شخص‘‘ تاہم اس کا فیصلہ نہ ہوسکا


ویب ڈیسک December 23, 2014
سینڈرا 1986 میں جرمنی کے چڑیا گھر میں پیدا ہوئی اور 1994 میں اسے بیونس آئرس منتقل کیا گیا، فوٹو فائل

لاہور: آزادی کی نعمت کسے اچھی نہیں لگتی انسان ہو یا جانور سبھی اس سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں ایسے ہی لمحات میسر آئے ارجنٹائن میں جہاں عدالت نے گزشتہ 20 سال سے چڑیا گھر میں قید کی زندگی بسر کرنے والی مادہ بن مانس کو آزاد کرنے کا تاریخی حکم جاری کرتے ہوئے کچھ ایسے قانونی حقوق دینے کا فیصلہ کیا ہے جو عموماً انسانوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں ۔

میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کے وکلا نے ''سینڈرا'' نامی بن مانس کو بیونس آئرس چڑیا گھر سے آزاد کرانے کی اپیل دائرکررکھی تھی اورعدالت میں ان کا موقف تھا کہ سینڈرا کو غیر قانونی طور پر قید میں رکھا گیا ہے اور اگرچہ یہ انسان نہیں مگر پھر بھی اسے منفرد ذہانت رکھنے کی وجہ سے قانونی حقوق دیئے جانے چاہیئں جب کہ عدالت اس سے قبل متعد بار یہ اپیل مسترد کر چکی تھی تاہم اب عدالت کا فیصلہ آیا سینڈرا کی آزادی کے حق میں جس میں اسے کچھ حقوق بھی حاصل ہوگئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مقدمے کے دوران سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والا نکتہ یہ تھا کہ سینڈرا نامی بن مانس ''چیز ہے یا شخص'' تاہم اس کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہ ہوئی تو اس بن مانس کو جلد ہی برازیل میں بندروں کے لیے بنائی گئی ایک محفوظ پناہ گاہ میں منتقل کر دیا جائے گا جہاں یہ نسبتاً زیادہ آزادی سے لطف اندوز ہو سکے گا۔

ارجنٹائن میں جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے وکلا کہنا ہے کہ سینڈرا حیاتیاتی طور پر نہیں بلکہ فلسفیانہ طور پر''شخص''ہے، اپنے اسی موقف کے بنا پر انہوں نے عدالت میں حبسِ بے جا کی اپیل دائر کی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے چڑیاگھروں، سائنسی لیبارٹریوں یا کسی اور جگہ پر رکھے گئے دیگر جانور بھی متاثر ہوں گے اور ان کو قانونی حقوق دیئے جانے کا نیا دروازہ کھل جائے گا۔ سینڈرا 1986 میں جرمنی کے چڑیا گھر میں پیدا ہوئی اور 1994 میں اسے بیونس آئرس منتقل کیا گیا ۔

واضح رہے کہ حال ہی میں نیویارک کی ایک عدالت نے اسی طرح کے ایک مقدمے کو خارج کردیا تھا جس میں کچھ بندروں کو آزاد کرانے کی استدعا کی گئی تھی،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جانور مالک کی ملکیت ہوتے ہیں اور ان کو قانونی حقوق نہیں دیئے جا سکتے۔