دہشت گردی کے خلاف بے مثال قومی اتحاد کا مظاہرہ

حکومت نےدہشت گردوں کو پھانسی کی سزا دے کر یہ واضح پیغام دے دیا ہےکہ دہشت گردی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیاجائے گا۔


Editorial December 25, 2014
ملک میں دہشت گردی کے فروغ میں ایک اہم عنصر اسلحہ کی باآسانی دستیابی بھی ہے،جا بجا کھلی اسلحہ کی دکانوں پر پابندی لگائی جائے، فوٹو :فائل

دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے عفریت کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے حکومت،تمام سیاسی جماعتیں اور عسکری قیادت ایک نکتہ پر متفق ہو گئی ہیں کہ ہر ممکن اس ناسور کا خاتمہ کیا جائے گا۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ بالآخر تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اس حقیقت کا احساس ہو ہی گیا کہ دہشت گرد کسی کے ہمدرد نہیں اور جب تک یہ خطرہ موجود ہے ملک کا مستقبل محفوظ نہیں ہو سکتا۔

ہفتے کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں فوری طور پر خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق رائے ہو گیا، بعد ازاں رات گئے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ ایسی عدالتوں کی میعاد 2 سال سے زیادہ نہیں ہو گی اور ان میں خطرناک دہشت گردوں کے خلاف مختصر ترین عرصے میں مقدمات کی سماعت ہو گی، اس مقصد کے لیے تمام جماعتوں نے متعلقہ قوانین اور آئین میں ترمیم پر اتفاق کیا ہے۔

حکومت نے دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا دے کر یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ اب فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے حکومت کو آئین اور قوانین میں ترامیم کرنا ہونگی یہ کام جتنی جلد ہو جائے اتنا ہی ملکی سلامتی کے لیے بہتر ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب اراکین اسمبلی کے اپنے ذاتی مفادات کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ پارلیمنٹ سے فی الفور قوانین پاس کرا لیتے ہیں،اب جب ملکی سلامتی کا مسئلہ آیا ہے تو انھیں اس کے لیے بھی بھرپور انداز میں متحرک ہونا پڑے گا۔

ماضی کے حالات و واقعات کے تناظر میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک میں جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو حکومت وقتی طور پر اس کے حل کے لیے متحرک ہو جاتی ہے،بیانات داغے جاتے ہیں کمیٹیاں بنانے کا عندیہ دیا جاتا ہے مگر کچھ دن بعد جب معاملات سرد پڑتے ہیں تو حکومت بھی اپنے کیے گئے تمام وعدے فراموش کر بیٹھتی ہے اور مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں۔ اب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے کسی قسم کی تساہل پسندی یا لاپرواہی ملکی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بن جائے گی۔

اب فیصلے کسی کی ذاتی پسند یا ناپسند پر نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جانے چاہئیں اور ملک میں کسی بھی مسلح گروہ کو کام نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔ انسداد دہشت گردی کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کو فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملک میں دہشت گردی کے فروغ میں ایک اہم عنصر اسلحہ کی باآسانی دستیابی بھی ہے،جا بجا کھلی اسلحہ کی دکانوں پر پابندی لگائی جائے جب بازار میں اسلحہ سرعام بکتا ہو گا تو دہشت گردی پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے دوسری جانب اسلحہ کی اسمگلنگ کی روک تھام اور بین الصوبائی راستوں کی نگرانی کا نظام بھی موثر بنانا ہو گا۔ اصل مسئلہ اسلحہ کی کھلے عام فروخت ہے، دہشت گرد جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں ان کے پاس یہ اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے اور کون ان کی فنانسنگ کر رہا ہے اس کا بھی سدباب کرنا ہو گا۔اسلحہ صرف سیکیورٹی اداروں کے پاس ہو، شہریوں کے پاس لائسنس یافتہ یا غیر لائسنس کسی بھی نوعیت کا اسلحہ نہیں ہونا چاہیے ۔

دریں اثنا وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں دلائل دیتے ہوئے شرکاء کو بتایا کہ مشکل حالات ہیں ہمیں بڑے اور مشکل فیصلے کرنا ہوں گے،دہشت گردی کو ختم کرنا ہو گا،ہم حالت جنگ میں ہیں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔فوج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن اور قانونی ہر دو طریقے استعمال کر رہی ہے،اب سول انتظامیہ پرذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہ برتے۔

علاوہ ازیں اعلیٰ عدلیہ نے عسکریت پسندی اور شدت پسندی سے متعلق دہشت گردی کے مقدمات کو روزانہ کی بنیادوں پر سن کر نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور انسداد دہشت گردی عدالتوں کی نگرانی کرنے والے ہائی کورٹس کے انچارج ججوں نے شرکت کی،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی افسران سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے دائر اپیلوں اور کیسوں کا جائزہ لے کر عسکریت پسندی سے متعلق کیسوں اور دیگر مقدمات کو الگ کریں گے تاکہ انسداد دہشت گردی سے متعلقہ مقدمات کی جلد سماعت کو یقینی بنایا جا سکے،یہ کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

بعض حلقوں کی جانب سے یہ اعتراضات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے کیس سالہا سال تک حل نہیں ہوتے یا پھر وہ عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں جس کے باعث سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اب بدلتی ہوئی صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ عدالتیں اس مسئلے پر غور کریں۔ دہشت گردی سے متعلق مقدمات جتنی جلدی نمٹائے جائیں گے دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے میں اتنی ہی آسانی ہو گی۔ سانحہ پشاور کے بعد پوری قوم کی سوچ میں واضح تبدیلی آ گئی ہے اب علماء کرام پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی،انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔