دہشت گردی کے خلاف عملی اقدام جلد شروع کریں

پاکستان میں پہلی بار دہشت گردی کے ایشو پر فوج اور سیاسی و دینی جماعتیں ایک صفحے پر نظر آتے ہیں۔


Editorial December 27, 2014
دہشت گرد جس طرح اپنی وارداتیں کر رہے ہیں اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں ایک ایسی ریاست کا تصور ابھر رہا ہے جو دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ فوٹو :فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے زیرصدارت قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے جمعہ کو اعلیٰ سطح کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوا جس میں وفاقی وزراء اور قانونی مشیروں کے علاوہ اٹارنی جنرل نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے جس کی سربراہی وہ خود کریں گے۔

جس کے اراکین میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید، وزیر دفاع خواجہ آصف، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال شامل ہیں۔ کمیٹی قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں اور مشاورت کرے گی جب کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اب بڑے شہروں میں آپریشن شروع کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کا صفایا نہ کیا تو خدانخواستہ پاکستان نہیں رہے گا۔ انھوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ ہفتوں یا مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں ہو گا۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب تاریخ کا اہم موڑ ہے۔ یہ وقت فیصلوں پر عملدرآمد اور موثر اقدامات کرنے کا ہے۔ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں فیصلہ کن ہیں۔ دہشت گردوں کے خاتمے کا ناقابل واپسی مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا 24 دسمبر کے اتفاق رائے نے انسدادِ دہشت گردی کے خلاف اصول متعین کر دیے ہیں اور ہمارے پاس دہشت گردی کے خاتمے کا روڈمیپ آ گیا ہے۔

عوام پر کسی بھی صورت میں تشدد، دہشت گردی ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد پاکستان بدل چکا ہے اور اب ہمارے پاس تاریخی قومی اتفاق رائے ہے۔ ہمارا معاشرہ اور فوج دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر صوبے کا دورہ کر کے انسدادِ دہشت گردی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لوں گا۔

پاکستان میں پہلی بار دہشت گردی کے ایشو پر فوج اور سیاسی و دینی جماعتیں ایک صفحے پر نظر آتے ہیں۔ یہ پاکستان کی سیاست میں غیرمعمولی پیش رفت ہے۔ بلاشبہ سانحہ پشاور کے بعد پاکستان بدل چکا ہے۔ اب ملک میں چونکہ چنانچہ یا اگرمگر کے انداز نے بھی دہشت گردی پر بات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ملک کی سیاسی جماعتیں اور ادارے اس حوالے سے ایک واضح اور دوٹوک مؤقف پر آ گئے ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ دہشت گردوں کا صفایا نہ کیا تو خدانخواستہ ملک نہیں رہے گا۔ سچ یہی ہے کہ دہشت گردی اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے۔ دہشت گرد جس طرح اپنی وارداتیں کر رہے ہیں اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں ایک ایسی ریاست کا تصور ابھر رہا ہے جو دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہے۔

اس تاثر کو دور کرنے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے کا وقت آ گیا ہے۔ جہاں تک قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا معاملہ ہے تو اس پر بغیر کسی تاخیر کے عمل ہونا چاہیے۔ پاکستان میں یہ کلچر بڑا پختہ ہو چکا ہے کہ ہر سانحے کے بعد کوئی کمیٹی یا تحقیقاتی کمیشن بنا دیا جاتا ہے، پھر اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کیا ہوا۔ اب بھی بعض حلقے ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا، سانحہ پشاور کی شدت میں کمی آتی جائے گی اور معاملات ایک بار پھر ماضی کی ڈگر پر چلے جائیں گے۔

پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے بے پناہ نقصان اٹھا چکا ہے، پچاس ہزار فوجی اور سویلین اس جنگ کی نذر ہو چکے ہیں لہٰذا اب دہشت گردی کے ایشو پر روایتی پالیسی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ اب اس معاملے پر غیرسنجیدگی، مصلحت پسندی یا ابہام ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہو گا۔ پاک فوج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہی ہے اور یہ خاصا کامیاب آپریشن ہے۔ دہشت گردوں کا بیس کیمپ ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ وہ اب افغانستان بھاگ گئے ہیں اور کچھ لوگ اندرون ملک بکھرے ہوئے ہیں۔ اندرون ملک ان کے سرپرست بھی خفیہ انداز میں سرگرم عمل ہو سکتے ہیں لہٰذا ملک کی جمہوری قوتوں کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اب اگلا اور اصل کام سول حکومتوں اور ان کے ماتحت انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ہے۔

مرکزی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے اپنے کردار کو نہ صرف قبول کرنا ہو گا بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ دہشت گردوں کو جن جن ذرائع سے دولت حاصل ہو رہی ہے، انھیں بند کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے بھی پالیسی پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ ہمارے ہاں ایک تنظیم یا جماعت کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بناء پر کالعدم قرار دیا جاتا ہے لیکن اس تنظیم یا جماعت سے وابستہ شخصیات کو آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔

وہ شخصیات اور لوگ نئے نام سے تنظیم یا جماعت بنا کر دوبارہ ایکٹو ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اصولی طور پر ایسی شخصیات اور کارکنوں پر پابندی عائد ہونی چاہیے کہ وہ کوئی جماعت بنا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی حوالے سے کسی دوسری جماعت میں شامل ہوسکتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں ان لوگوں پر سیاست میں حصہ لینے یا کوئی رفاعی یا فلاحی ادارہ چلانے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کوئی جماعت یا تنظیم نہیں کرتی بلکہ یہ چند شخصیات یا لوگ کرتے ہیں جو کسی نظریے کا سہارا لے کر عوام اور نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جب تک ایسے لوگوں کا محاسبہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے حوالے سے قومی ایکشن پلان پر انتہائی سرعت کے ساتھ عمل درآمد کا آغاز کرے تاکہ پاکستان سے دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ ہو سکے۔