امریکا کا افغان مشن اور دنیا کا امن

امریکی صدرنے یہ دعویٰ بھی کیا کہ دنیااب محفوظ ہوگئی ہےاورہم افغانستان کودوبارہ دہشت گردحملوں کا ذریعہ نہیں بننےدیں گے۔


Editorial December 28, 2014
رواں ماہ کے آخر میں افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں جنگی مشن کے اختتام کے بعد 10 ہزار 800 امریکی فوجیوں کے بدستور افغانستان میں رہنے کی توقع ہے، فوٹو : فائل

امریکا کے صدر بارک اوباما نے افغانستان میں امریکی جنگی مشن کے اختتام کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکا کا فوجی مشن اب ختم کر دیا گیا، امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ دنیا اب محفوظ ہو گئی ہے اور ہم افغانستان کو دوبارہ دہشت گرد حملوں کا ذریعہ نہیں بننے دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے جزائر ہوائی کے دورے کے دوران فوجیوں کے اعزاز میں منعقد کی جانے والی کرسمس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور امریکی فوجیوں کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خدمات پر شکریہ ادا کیا۔ صدر بارک اوباما نے کہا کہ امریکی مسلح افواج میں مردوں اور عورتوں کی غیر معمولی خدمات کے باعث افغانستان کے پاس ملک کی تعمیر نو کے لیے ایک موقع ہے۔رواں ماہ کے آخر میں افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں جنگی مشن کے اختتام کے بعد 10 ہزار 800 امریکی فوجیوں کے بدستور افغانستان میں رہنے کی توقع ہے۔

اوباما انتظامیہ نے رواں ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ 2015ء کے شروع کے چند ماہ تک کے لیے تھوڑی تعداد میں امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے جو افغان سیکیورٹی فورسز کی مدد کریں گے۔ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں دنیا کے محفوظ ہونے کی جو بات کی ہے وہ قرین قیاس نہیں ہے کیونکہ دنیا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات بدستور جاری ہیں جن میں پشاور کا ہولناک سانحہ بھی ہے جب کہ عراق، شام، افغانستان، یمن اور نائجیریا میں بھی ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ امریکا ضرور دہشت گردی سے محفوظ ہوگیا ہے۔

اس وقت غور کیا جائے تو دنیاکے غریب اور پسماندہ ممالک بدترین بدامنی یا دہشت گردی کا شکار ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں خلیجی ممالک کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو شام 'عراق 'یمن اور لبنان بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔ براعظم افریقہ میں تو صرف چند ایک ممالک میں امن ہے باقی کہیں خانہ جنگی ہے تو کہیں دہشت گردی کا راج ہے۔ یوں دیکھا جائے تو صدر بارک اوباما کا یہ کہنا کہ دنیا اب محفوظ ہو گئی ہے حقائق کے مطابق نہیں۔ دنیا اس وقت محفوظ ہو سکتی ہے جب امریکا اور اس کے اتحادی طاقتور ممالک اپنی استحصالی پالیسیوں پر نظرثانی کر کے دنیا کے غریب اور پسماندہ ملکوں کو سانس لینے کا موقع دیں۔